حماس نے ہتھیار رکھ دیے مگر…

حماس نے غیر مسلح ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ کیا اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے اسّی ہزار جانوں کی قربانی لازم تھی؟یہ وہ سوال ہے جو پہلو بدل بدل کر، ہر حادثے کے بعدہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ ہر حادثے سے پہلے، اُس کا انجام نوشتہ دیوار ہوتا ہے۔ کوئی اس کو نہیں پڑھتا۔

 جذبات کا ایسا غبار اٹھا دیا جاتا ہے کہ تحریر کیا، دیوار ہی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ جب گھر گھر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے تو اس کے بعد دیوار پر لکھی عبارت دکھائی دیتی ہے۔ یہ منظر ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ حالات نے اہلِ فلسطین کو ایک ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کے پاس کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ آج ہمدرد تو بہت ہیں، ان کا مددگار کوئی نہیں۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ اس اندازِ فکر پر نظر ثانی کے لیے کوئی آمادہ نہیں جس نے یہ دن دکھائے۔ وہ قیادت بھی کسی کے سامنے جوابدہ نہیں جس نے معاملات کو یہاں تک پہنچایا۔

مزاحمت کا لفظ کچھ اس طرح ذہن سے چپک گیا ہے کہ خود اس کے مفہوم پر کوئی غور کے لیے تیار نہیں۔ اگر کوئی توجہ دلائے تو کہا جاتا ہے:  ’ان کو دیکھو! سبق شاہین بچوں کو دے ر ہے ہیں خاک بازی کا‘۔ اب تو یہ سوچ ایک نفسیاتی عارضہ بن چکی۔ پے درپے حادثات نے ہمیں ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ اسرائیل جیسی شیطانی قوت کو اس کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ وہ ہماری اس بے بسی کو استعمال کرتا اور ہمیں بربادی کی طرف دھکیلتا ہے۔ ہم اس کی باتوں میں آ جاتے اور منزل سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔ اب اسی معاہدے ہی کو دیکھ لیں۔ حماس نے ہتھیار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ طے یہ ہوا کہ یہ تدریجاً ہوگا۔ ایک طرف حماس غیر مسلح ہو گی اور دوسری طرف اسرائیلی فوجیں غزہ اور اس علاقے کو خالی کرتی جائیں گی۔ اب اسرائیل کہہ رہا ہے ہمیں حماس پر اعتبار نہیں۔ پہلے یہ مکمل غیر مسلح ہو اور اس کے بعد ہماری فوج واپس جائے گی۔ قطر نے اس پر ردِعمل دیا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک بیان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ مجھے لگتا ہے حماس غیر مسلح بھی ہو گی اور اسرائیل کی فوج بھی موجود رہے گی۔ کیا یہی حکمتِ عملی فلسطینیوں کی ضرورت تھی؟

فلسطین اور ایران کا معاملہ مختلف ہے۔ ایران ایک ریاست ہے۔ اس پر حملہ ہوا اور اس نے بحیثیت ریاست اس کا جواب دیا۔ ایران کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ مقدمہ درست ہے کہ ماضی میں اگر بہتر حکمتِ عملی اپنائی جاتی تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔ اس کے باوصف موجود ہ کشیدگی اس کا جواز نہیں تھی کہ ایران پر حملہ کر دیا جاتا اور اس کے راہنما کو ان کے گھر میں قتل کر دیا جاتا۔ اس کے بعد ایران کو لڑنا ہی تھا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں عمل آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے نہ نتیجہ۔ ایران اس مرحلے میں سرخرو رہا۔ اس کو درمیان میں وقفہ ملا کہ وہ حالتِ جنگ سے نکلے جو اس پر تھوپی گئی۔ اس نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ نتیجتاً اسے نقصان اٹھانا پڑا۔

اہلِ فلسطین کا معاملہ مگر اس سے بہت مختلف ہے۔ ان کے علاقے پر قبضہ کر کے اسرائیل نام کی ریاست قائم کی گئی۔ یہ فیصلہ حسبِ روایت عالمی قوتوں نے کیا اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ فیصلہ غیر منصفانہ تھا۔ اب یہ اہلِ فلسطین نے طے کرنا تھا کہ وہ اس علاقے کو کیسے واپس لیں اورکیا یہ ممکن ہے؟ ایک صورت یہ تھی کہ وہ حالات کا معروضی جائزہ لیتے اور یہ فیصلہ کرتے کہ ہمیں جو کچھ میسر ہے، اس کی حفاظت کے ساتھ ہم اپنا مقدمہ اس طرح پیش کریں گے کہ جو حاصل ہے،وہ ضائع نہ ہو۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ قابض اور اس کے سرپرستوں کو للکارا جائے اور میدانِ کارزار سجا کر اپنا حق واپس لینے کی کوشش کی جائے۔ اہلِ فلسطین نے دوسرا راستہ پسند کیا۔ اس راستے پر چلتے چلتے آج معاملہ یہاں تک پہنچا کہ فلسطینیوں کے پاس کچھ نہیں بچا۔ وہ بے بسی کی تصویر بن چکے۔ آج وہ خود کو غیر مسلح کر رہے ہیں مگر اُن کے اس اقدام کی بھی کوئی قدر نہیں کر رہا۔ کیا اب بھی اس حکمتِ عملی کو درست کہا جا سکتا ہے؟

جب ہم نے یہ جان لیا کہ دنیا پر طاقت کا حکم چلتا ہے تو طاقت کو کوسنے کے بجائے،  درست راستہ یہ تھا کہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ طاقت کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کا تعین حالات کرتے ہیں۔ کبھی علم طاقت ہوتا ہے اور کبھی میزائل۔ ایران ایک ریاست ہے۔ اس کے نزدیک طاقت کا مفہوم کچھ اور ہے۔ حماس یا پی ایل او تنظیمیں ہیں ریاست نہیں۔ ان کے لیے طاقت کا مفہوم مختلف ہو گا۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایران اپنی بقا کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دیتا ہے مگر فلسطین کے لیے وہ ایک حد سے آگے نہیں جاتا۔ ترکیہ تو اس کے لیے بھی تیار نہیں کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہی منقطع کر لے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ آپ مسلم حکمرانوں کی غیرت کے مر جانے پر نوحہ پڑھیں۔ ایک یہ کہ اس کو بطور واقعہ قبول کریں اور پھر کوئی حکمتِ عملی بنائیں۔ اس پر بھی سوچیں کہ چاہنے کے باوجود کیا سبب ہے کہ ترکیہ اسرائیل کے خلاف عملی قدم نہیں اٹھاتا اور ایران بھی اپنی نصرت کو محدود رکھتا ہے۔ مجھے تُرک ا ور ایرانی قیادت کے اخلاص میں شبہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چیز انہیں اسرائیل سے ٹکرا جانے سے روکتی ہے؟

ہم اُن کو بے حمیت نہیں کہہ سکتے۔ ایسا ہوتا تو ایران امریکہ جیسی بڑی قوت سے یوں برسرِ پیکار نہ ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ حمیت کا نہیں، کچھ اور ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو کئی سوالات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک سوال مزاحمت کی نوعیت کا بھی ہے۔ ان ممالک کی حکمتِ عملی بتا رہی ہے کہ مزاحمت کا فیصلہ حالات کے تابع ہوتا ہے۔ مزاحمت کی ہمیشہ ایک صورت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی حماس جیسی تنظیموں کی مخالفت کرتا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ مزاحمت کے خلاف ہے یا اسرائیل کا حامی ہے۔ وہ دراصل مزاحمت کا کوئی دوسرا راستہ تجویز کر رہا ہے۔ اقبال جیسا آدمی جو کبوترکو شہباز کے مدمقابل کھڑا کرنا چاہتا ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ پہلے کبوتر کے تنِ نازک میں شاہین کا جگر پیدا ہو۔ چمن میں وہ نغمہ گونجے جس کا ترنم کبوتر کو توانا بنائے تاکہ وہ شاہین کا سامنا کر سکے۔

افسوس کہ حماس جیسی تنظیموں نے اہلِ فلسطین کو آج ایسی جگہ لا کھڑا کیا کہ ان کی مظلومیت کے باوجود ان کو کہیں سے کوئی عملی مدد نہیں مل سکی۔ اسرائیل کو دنیا نے ایک ظالم قوت مان لیا ہے لیکن اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ آج بھی موقع ہے کہ اہلِ فلسطین کی مظلومیت کو قوت بنا کر، اس مقدمے کو سیاسی، سماجی اور علمی سطح پر لڑا جائے۔ اس سے فوری فائدہ یہ ہو گا کہ فلسطینیوں کا قتلِ عام رک جائے گا۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک طرف حماس ہتھیاروں سے دستبردار ہو رہی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ اتوار کو اسرائیل نے مزید 26 فلسطینیوں کو قتل کیا جن میں بچے بھی شامل تھے۔ یہ اس مزاحمت کا وہ حاصل ہے جو نوشتہ دیوار تھا۔ اس قتلِ عام کو روکنا فلسطینی قیادت کی پہلی ذمہ داری ہے۔ آزادی بعد کا مرحلہ ہے۔ مجھے تو دوریاستی حل بھی اب یک ریاستی حل میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)