ہم اہلِ ملتان کی استقامتِ قدیم
- تحریر خالد مسعود خان
- جمعرات 06 / اگست / 2026
ملتان کی قدامت کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک ملتان گزشتہ سات ہزار سال سے مسلسل آباد شہر ہے۔ تاہم کچھ مورخین اس عرصۂ قدامت سے اختلاف کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ملتان کی سات ہزار سالہ قدامت سے اختلاف کرتے ہیں وہ بھی اس کی کم از کم پانچ ہزار سالہ معلوم تاریخ اور اس عرصہ میں اس کے مسلسل آباد ہونے سے انکار نہیں کرتے۔
گویا کہ ہم محتاط نقطۂ نظر سے بھی ملتان کی قدامت کی بات کریں تو پانچ ہزار سال پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ اب اس دو ہزار سال کے جھگڑے میں پڑے بغیر اگر ہم اس پانچ ہزار سالہ قدامت کو بھی مان لیں تو ملتان دنیا کے ان چند آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے جو مسلسل ہزاروں سالوں سے روئے ارض پر سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ دنیا میں جیریکو‘،دمشق، حلب، سیدون، یروشلم اور اس طرح کے چند اور شہر ہیں جو ملتان کی ہمسری کرتے ہیں۔ برصغیر میں ملتان کا ہمعصر شہر صرف ونارسی (بنارس) ہے۔ ملتان نے 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے حملے کا مقابلہ کیا، اس شہر پر قبضے کے دوران ملتانی تیرانداز نے ایک تیر ایسا تاک کر مارا جس نے سکندراعظم کے پھیپھڑوں کو چیرتے ہوئے ایسا کاری زخم لگایا کہ سکندر کے مرنے کی خبر پھیل گئی۔ اپنے سپاہیوں میں پھیلنے والی مایوسی کو رفع کرنے کے لیے سکندر نے دریائے چناب کے کنارے زخمی حالت میں اپنے محبوب گھوڑے بوسیفالس پر سوار ہو کر اپنی سپاہ کو اپنا چہرہ دکھایا تاکہ اس کے حوصلے بلند ہوں۔
712میں اہلِ ملتان نے پہلے مسلم حملہ آور محمد بن قاسم کا سامنا کیا۔ ملتان نے قرامطیوں کا دور دیکھا اور اس دوران ملتان میں مصر کی فاطمی خلافت کا خطبہ پڑھا گیا۔ بعد ازاں اس شہر قدیم نے محمود غزنوی کے مسلسل حملوں اور قرامطیوں کی حکومت کے خاتمے کو دیکھا۔ ملتان نے تیرہویں صدی عیسوی میں منگولیا سے نکل کر پورے خطے کو تاراج کرتے ہوئے ایشیائے کوچک تک پہنچنے والے خون آشام تاتاریوں کی یلغار کا سامنا کیا۔ اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ان وحشیوں کو زورِ بازو سے روکا۔ 1225 سے لے کر 1285 تک کامل ساٹھ سال منگول وقفوں وقفوں سے ملتان پر حملہ آور رہے۔ ناصرالدین قباچہ کی مزاحمت کے باعث منگول ابتدائی حملوں میں ملتان فتح نہ کر سکے۔ اس دوران مشہور منگول جنرل سالی نویان نے ملتان کی ایک مہم میں منگول لشکر کی قیادت کی۔ 1285میں بلبن کا بیٹا شہزادہ محمد ملتان کا دفاع کرتا ہوا منگولوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔ ملتان منگولوں سے مستقل طور پر فتح تو نہ ہو سکا مگر ان کے مسلسل حملوں سے اسے بہت نقصان پہنچا۔ 1398 میں امیر تیمور نے طویل محاصرے اور مزاحمت کے بعد ملتان پر قبضہ کیا۔ امیر تیمور مزاحمت کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے میں مشہور تھا۔ مزاحمت کے جرم میں اس شہرِ بزرگ میں تباہی، قتل وغارت اور بربادی کی داستان اپنی پوری شدت کے ساتھ دہرائی گئی۔ ملتان کو مکمل طور پر تاراج کیا گیا۔ ایسی تباہی ملتان اور اہلِ ملتان نے ہزاروں سال میں کم ہی دیکھی ہو گی جو امیر تیمور کی فتح کے بعد دیکھی۔
مگر ملتان اپنی ثابت قدمی، مستقل مزاجی، دوبارہ جی اٹھنے کی طاقت، سخت جانی اور حوصلے کے طفیل ایک بار پھر اپنی بنیادوں پر استوار ہوا۔ اس کے بعد راوی لنگاہ حکومت کے مختصر سے عرصہ کو امن و آشتی اور سکون کا دور بتاتے ہیں۔ پھر ملتان نے شیرشاہ سوری کی شکل میں ایک اور فاتح کو برداشت کیا۔ 1398 میں امیر تیمور کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کے بعد 1818میں نواب مظفر خان کی شہادت کے بعد فاتح سکھ افواج کے ہاتھوں ملتان نے جتنی بڑی تباہی، بربادی، قتل و غارتگری اور خون ریزی دیکھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ سکھ فوجیوں نے ہزاروں نہتے شہریوں کو قتل کیا، سارے شہر کو لوٹ لیا گیا‘،بے شمار عورتوں کی عصمت دری کی گئی، شہر کے بیشتر علاقے جلا کر خاکستر کر دیے گئے۔ کئی روز بعد جب یہ قصہ ختم ہوا تو شہر لاشوں سے پٹا پڑا تھا۔ یہ ملتان شہر نہیں تھا، خاک اور خون کا ڈھیر تھا۔
برصغیر پر حملہ کرنے والے وہ تمام لوگ جو درۂ بولان اور وادیٔ سندھ کی طرف سے آتے‘ ان کے راستے کا پہلا مزاحمتی امتحان ملتان میں ہوتا تھا۔ ملتان اس راستے میں عسکری اور تجارتی حوالوں سے اپنے وقت کا سب سے اہم شہر اور مزاحمت کی علامت تھا۔ جیحوں کے پار‘ ایران‘ افغانستان‘ ماورا النہر اور ایشیائے کوچک سے آنے والے بیشتر حملہ آور اسی راستے سے ہندوستان کے قلب میں داخل ہوئے۔ اس وقت کے ملتان کی وسعت‘ حیثیت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ تاریخ دان پرانے وقتوں میں لاہور کو ملتان کے نواح میں آباد بستی کا درجہ دیتے تھے۔ سفرنامہ ابن بطوطہ میں ملتان کا ذکر ایک بڑے آباد شہر کی حیثیت سے ہے۔ اس وقت اُچ شریف کا تذکرہ لاہور سے زیادہ اہم شہر اور ثقافتی مرکز کے طور پر کیا گیا۔ اس بے رحم دھرتی پر اتنا عرصہ قائم و دائم رہنا اور مسلسل آباد شہر کے طور پر اپنی حیثیت منوانا کچھ آسان نہ تھا۔ اس دوران ملتان نے کشت و خون دیکھا‘ مزاحمت کی تاریخ لکھی‘ بربادی دیکھی‘ لیکن اہلِ ملتان کی اولوالعزمی‘ مستقل مزاجی‘ مزاحمتی طاقت‘ دوبارہ ابھرنے کی سکت‘ مایوس نہ ہونے کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر دوبارہ جی اٹھنے کی طاقت کے طفیل یہ شہر آج بھی دھرتی کے سینے پر سربلند اور سرخرو کھڑا ہے۔
صدیوں سے یہ شہر اس بے رحم آسمان کے نیچے قتل و غارت‘،تباہی، بربادی، اجڑنے اور پھر آباد ہونے کی داستانیں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ صدیوں کے ان تجربات نے اس شہر کی اجتماعی نفسیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جنگ، خونریزی اور مسلسل تباہی انسان کو کبھی ویسا ہی سخت گیر، ظالم اور بے رحم بنا دیتی ہے جیسی سختیوں سے وہ گزرا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات اس کا ردِعمل اس کے بالکل برعکس بھی ہوتا ہے۔ انسان جنگ، نفرت اور خونریزی سے اس قدر متنفر ہو جاتا ہے کہ وہ محبت،امن، برداشت اور بقائے باہمی کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔ ہم ملتان والوں نے یہی دوسرا راستہ اختیار کیا۔ ہم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے محبت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ تلوار کے جواب میں تلوار اٹھانے کے بجائے رواداری کو ترجیح دی اور قتل و غارت کے جواب میں امن،اخوت،بھائی چارے اور ’جیو اور جینے دو‘ کے فلسفے کو اپنایا۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے اہلِ ملتان کے مزاج میں نرمی،محبت، رواداری اور انسان دوستی کو راسخ کیا۔ ہم ریشم دلان ملتان ہیں۔
اسی رویے نے ہمیں صبر،حوصلہ، مستقل مزاجی، قوتِ برداشت اور تحمل عطا کیا۔ لیکن شاید اسی کے ساتھ اس کا ایک منفی پہلو بھی سامنے آیا۔ ہم اپنے حقوق سلب ہونے پراپنے جائز مطالبات نظرانداز کیے جانے پر اور اپنے استحصال کے باوجود اکثر تصادم کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کبھی مسکرا کر بات ٹال دیتے ہیں، کبھی مصلحت کے تحت برداشت کر لیتے ہیں اور کبھی دل سے نہ سہی، بادلِ نخواستہ حالات کو قبول کر لیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے دوسروں کو بھی ہمارے حقوق غصب کرنے،ہمارا استحصال کرنے اور ہماری شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود اہلِ ملتان آج بھی محبت، برداشت، امن اور رواداری کو اپنی اصل پہچان سمجھتے ہیں اور شاید یہی اس قدیم شہر کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے۔
قارئین! حسبِ سابق کہیں سے کہیں نکل گیا۔ لکھنا کچھ اور تھا مگر قلم ایک بار پھر دھوکا دے گیا۔ جو لکھنا تھا اب اگلے کالم میں سپردِ قلم کروں گا۔ تب تک اجازت دیجیے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)