شہباز شریف کو نوکری کی ضمانت مبارک ہو!

وزیر اعظم کے لیے  یہ خوش آئیند ہونا چاہئے کہ ان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دو روز پہلے نظام تباہ ہوجانے کی نوید دینے کے بعد اب اعلان کیا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت  اپنی مقررہ آئینی مدت پوری کرے گی۔  ایک  غیر یقینی عہدے پر کام کرنے والے وزیر اعظم کے لیے یہ  باعث مسرت ہونا چاہئے کہ اب ان کے ’اصل طاقت ور وزیر داخلہ‘  نے  تصدیق کی ہے کہ اختلافات سے قطع نظر حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یہ مضحکہ خیز تجربہ البتہ پاکستان کے عجوبہ روزگار  ’ہائبرڈ نظام‘ ہی میں ممکن ہے  جہاں وفاقی حکومت کا ایک نمائیندہ پہلے حکومت کو چارج شیٹ کرتا ہے اور نظام  تبدیل نہ ہونے کی صورت میں ’کاکروچوں‘ کا خوف دلا کر تبدیلی کی دھمکی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیتا ہے کہ یہ تبدیلی کن شعبوں میں توقع کی جارہی ہے۔ ایک: ملک میں صوبوں  کی موجودہ تعداد  بڑھائی جائے کیوں کہ  آبادی  میں اضافہ کی وجہ سے  فقط چار انتظامی یونٹ عوام کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دوئم: بلاشبہ جمہوریت اچھا نظام ہے لیکن  یہ ضروری تو نہیں کہ ملک میں پارلیمانی  جمہوریت کا جو  تجربہ کیا جارہا ہے، وہی درست ہو۔ جمہوریت کے متعدد دوسرے طریقے بھی موجود ہیں، انہیں بھی آزمایا جاسکتا ہے۔  یہ  نکتہ درحقیقت اسٹبلشمنٹ کی اس دیرینہ خواہش کا عکاس ہے کہ  ملک میں موجودہ پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام ہو تاکہ وفاق کو وقار اور اختیار حاصل ہوسکے۔

قرائن یہی بتاتے ہیں کہ محسن نقوی  اچھے پیغام رساں کا فرض بھی ادا نہیں کرسکے۔ شاید اسی لیے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کو اگلے ہی روز پریس کانفرنس میں واضح کرنا پڑا کہ  محسن نقوی کے خیالات ان کے اپنے  ہیں لیکن ملک میں گورننس کا مسئلہ بہر حال موجود ہے۔ اسے بہتر کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بڑھانے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی ضرورت موجود ہے۔ انہوں نے بھی   عدم اطمیمان کا اظہار کیا لیکن ان کا اظہار بیان محسن نقوی  کے انداز تکلم سے مختلف تھا جس میں انہوں نے ایک طرح سے اسی حکومت کو الٹی میٹم دیا تھا جس کا وہ خود بھی حصہ ہیں ۔کیوں کہ شاید انہیں یقین تھا کہ  جو بھی نئی حکومت بنے گی ، وہ بہر حال اس کا حصہ رہیں گے۔ جیسے  ملک میں انتخابات  کی نگران حکومت قائم ہوئی تو محسن نقوی   سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ بنائے گئے اور   ’مستحسن طریقے سے شفاف انتخابات کا فریضہ ادا کرنے‘ کے بعد انہیں  کارکردگی کی بنیاد پر وزارت داخلہ  کی نگرانی اور کرکٹ کنٹرول بورڈ کی سربراہی سونپ دی گئی۔  بلکہ گزشتہ کچھ عرصے میں تو ان کا دائرہ کار سفارتی امور تک پھیلا دیا گیا۔

ایسا  قابل اعتبار شخص اگر ایک پیغام بھی مناسب طریقے سے لوگوں یا متعلقہ لیڈروں تک نہ پہنچا سکے تو اس کی حیثیت کا جائزہ تو لینا پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنے پہلے بیان سے رجوع بھی نہیں کیا لیکن ا س کی ایسی توجیہ پیش کی ہے جو اس بیان پر تبصرہ کرنے والے کسی تجزیہ نگار، رپورٹر یا سیاسی ماہر کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔   اس وضاحت کے لیے انہوں نے کسی اعلیٰ سطحی کانفرنس کا انتخاب کرنے کی بجائے اپنے دفتر سے نکلتے ہوئے دو صحافیوں کو برسبیل تذکرہ سوال  کرنے  کی ’اجازت‘ مرحمت کی تاکہ وہ اپنے دامن پر لگا داغ صاف کرسکیں۔  اس موقع پر شاید اتفاق سے موجود دو صحافیوں نے شاید محض بات بنانے کے لیے پوچھا ہوگا کہ ’ نظام ڈھے چکا ہے،  والے بیان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ آپ نے حکومت کو چارج شیٹ کر دیا ہے‘۔وزیرِ داخلہ  نے ترنت جواب دیا کہ ’میں اپنی بات پر قائم ہوں کہ نظام تباہ ہو چکا ہے لیکن میں نے 80 سالہ نظام کے تباہ ہونے کی بات کی ہے۔  میں سمجھتا ہوں کہ 80 سال سے نظام تباہ ہے کیونکہ اگر ٹھیک چل رہا ہوتا تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔ میں نے حکومت کو چارج شیٹ نہیں کیا۔  میں تو خود حکومت کا حصہ ہوں، خود کو تو چارج شیٹ نہیں کروں گا‘۔ اس  کے ساتھ ہی انہوں نے یہ اضافہ بھی  کیا کہ ’آپ کے پاس وزیراعظم ہیں جو 14-16 گھنٹے کام کرتے ہیں اور اگر یہ چیزیں بہتر ہو جائیں تو ایک ہزار گنا بہتر نتیجہ سامنے آئے گا۔ ان حالات میں بھی آپ دیکھیں ایف بی آر نے ریونیو کتنا بڑھا لیا ہے، ہم جنگ جیت گئے اور دیکھیں سفارتی لحاظ سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور اتنی اصلاحات ہو گئی ہیں۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ اگر وزیراعظم کو سسٹم ٹھیک مل جاتا تو وہ ملک کو 100 گنا تیزی سے آگے لے جاتے‘۔   گویا  ’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘۔

اس کے ساتھ ہی   اپنی نوکری کی تصدیق کے لیے محسن نقوی نے  اضافہ کیا کہ ’لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ کسی طریقے سے میرے اور وزیراعظم کے تعلقات خراب ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہو گا‘۔ تاہم اگر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی نوکریوں کے درمیان مقابلے والی صورت حال پیدا ہوگئی تو لگتا یہی ہے کہ شہباز شریف کا  پلا بھاری رہے گا۔  اسی لیے محسن نقوی اب انہیں محیر اعقل کارنامے انجام دینے والے وزیر اعظم کے طور پر پیش کرکے پشیمانی کا اظہار کررہے ہیں۔  دیکھیں ان کی یہ کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں لیکن وزیر اعظم شہباز شریف  چند دن اداس رہنے کے بعد اب حوصلہ سے سعودی عرب کا دورہ کریں اور حرمین شریفین  حاضری کے وقت نوکری پکی ہونے پر باری تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ اور خیر سے واپس آئیں۔

کیوں کہ پاکستانی عوام کو اگر ان کے رہنے سے خیر کی کوئی امید نہیں ہے تو موجودہ حکومت کے خاتمے سے بھی کسی  بہتری کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ صوبوں کی تعداد  اور موجودہ صوبوں کی تقسیم کے سوال پر اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے  اختلافات پردہ راز میں نہیں ہیں ۔تاہم  اس حوالے سے اٹھارویں ترمیم  کے تحت قائم ہونے والے این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی حکومتوں کے غیر معمولی اختیارات  مسئلہ کی اصل بنیاد ہیں۔  پیپلز پارٹی کسی بھی طرح ان حقوق کا تحفظ چاہتی ہے لیکن اس کے ساتھ  وہ کمزور مرکز ، وسائل کی غیر متوازن تقسیم اور  مقامی سطح تک وسائل کی  ترسیل  کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں لاسکی۔ مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی پنجاب کی تقسیم پر راضی ہونا درحقیقت چند اضلاع کی بنیاد پر ملک میں  حکومت بنالینے کے موقع سے محروم ہونے کا پیغام ہوگا۔ اس لیے مزاحمت وہاں سے بھی ہو رہی ہوگی۔ البتہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ محسن نقوی کو  نظام ڈھے جانے والی  تقریر کے ذریعے آصف زرداری  اور پیپلز پارٹی کو پیغام دینے کے لیے کہا گیا تھا لیکن محسن نقوی نے اسے  یوں  پیش کیا کہ بیچارے شہباز شریف کی کرسی ڈولنے لگی۔

اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی طرح اب  انتظامی یونٹوں کے نام پر ملک میں صوبوں کی تعداد کااونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کا امکان نہیں ہے۔  حکومت کی ساری ذمہ داری نبھانے اور مستقبل قریب میں دفاعی معاہدوں کے تحت وسائل میں اضافہ  کے نئے امکانات کے سبب ، ملکی فوجی اسٹبلشمنٹ بہر حال کسی طرح اس  مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرنا چاہتی ہے۔   درون خانہ ہونے والے مکالمہ میں کوئی حل دریافت نہ ہونے کے بعد تقریروں اور پریس کانفرنسوں کا سلسلہ شروع  ہؤا۔

شہاز شریف مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اس قضیہ میں ان کی نوکری جاتے جاتے رہ گئی۔ اب کون جانے نظام یا اس کی خرابیاں کیسے دور ہوں گی، ہمارے  پاس تو پیا کی چٹھی آگئی ہے۔