پاکستان میں سٹم کیوں بیٹھ گیا (2)
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 07 / اگست / 2026
قوم بیچاری تو انارکلی کی شانیں دیکھنے والی بھولی مج یا بھینس ٹھہری جس کا حقدار وہی تھا جس کے ہاتھ میں لٹھ تھی۔ ایسے میں یہ رونا کہ ہمارا سسٹم کولیپس کر گیا ہے محض مگرمچھ کے آنسو ہیں۔
کیا ایسے صاحبان ذیشان نمائندگان طاقت سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ ملک عدم جیسے اس کولیپس سسٹم سے اس وقت سب سے فائدہ اٹھانے والا کون ہے؟ اس بیچارے بلند پرواز کی کیا مجال ہے، جو آئینی طور پر بظاہر پرائم منسٹر کی کرسی پر براجمان ہے۔ لیکن اس کی پہچان خوشامدی کی حیثیت سے بنا دی گئی ہے جس سے اتنی شکتی بھی چھین لی گئی ہے کہ وہ اپنے ایک بے قابو کیبنٹ منسٹر کو اف بھی کہہ سکے۔ اصل مالکان کے سامنے یہ بیچارہ سوائے رکوع میں جانے یا سجدہ تعظیمی کے کوئی آپشن نہیں رکھتا۔ پھر بھی لٹھ برادروں سے یہ برداشت نہیں ہو پا رہا کہ پروٹوکول کی اس نمائشی کرسی پر بھی یہ ناتواں کیوں براجمان ہے؟
جب اصلی طاقت کا منبع ہم ہیں تو پھر یہ کمزور سیاسی لوگ یہاں کیوں جلوہ افروز ہیں۔ یہ اٹھارویں ترمیم کون ہوتی ہے، ہمیں صوبائی حکومتوں کا دست نگر بنانے والی؟ جنتا کی رکشا کیلیے جب ہمیں فنڈز درکار ہوں تو ان سیاسی پارٹیوں کی منت سماجت کیوں کی جائے؟ کیوں نہ ان صوبوں کا تیاپانچہ کرتے ہوئے انہیں تیس ٹکڑوں میں بانٹ کر ایسے رگید دیا جائے جیسے ہمارے بزرگ مرد مومن نور من نور نے فرمایا تھا کہ یہ سیاستدان دم دبائے ہمارے چرنوں میں پاؤں چاٹنے پائے جائیں۔ حضور ہمارے یہ ایشوز ہی نہیں، جن کے لیے آج اتنی دردمندی اور عوام دوستی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ہمارا اولین ایشو ہے ہماری ڈبکیاں کھاتی اکانومی، جس نے غربت، بےروزگاری، نوجوانوں کی مایوسی اور ناقابل برداشت مہنگائی کو جنم دے رکھا ہے۔ ہمارا ملک پوری دنیا میں ذلیل ہو رہا ہے، کشکول یا کٹورا ہماری قومی پہچان ہے، ہمارا پرائم منسٹر مانتا ہے کہ عالمی سطح پر دوست ممالک کے قائدین بھی ہمیں دیکھتے ہی گویا ہوتے ہیں کہ بھکاری یا بھیک منگتا آگیا ہے۔ غربت اور بھوک سے تنگ آئے ہمارے نوجوان اس ملک سے بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ یورپ جانے کیلیے ڈنکی لگاتے کشتیوں میں ڈوب کر مر رہے ہیں، کیا ان کیلیے یہاں امید کا ہے کوئی سسٹم؟ آپ لیپ ٹاپ کی تقسیم پر تنقید کرتے ہیں، لیپ ٹاپ تو بہت پیچھے کی چیز ہے۔ آج تو اے آئی سے لے کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کن بلندیوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس حوالے سے ذرا انڈیا کے بالمقابل اپنی حالت زار تو دیکھو اور پھر ایسی ماڈرن انڈسٹری جو ان پڑھے لکھے قابل نوجوانوں کو ان کی استعداد کے مطابق باوقار معاوضے کے ساتھ معقول روزگار دے سکے۔ ہمارا سماج ایگریکلچر کے ساتھ انڈسٹریل کہلا سکے۔
اس کے بعد ہمارادوسرا ایشو ہے آئین و قانون سے کھیلواڑ، جس نے اس ملک بدنصیب میں ڈیموکریسی کے خاتمے، لا قانونیت، میرٹ کے قتل عام، عدم مساوات، ظلم و جبر کے ساتھ ملک کو جرائم کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ رشوت، سفارش اور اقربا پروری چھائی ہوئی ہے۔ ہمارے ملک میں پیہم مارشل لاز کیوں لگتے رہتے ہیں؟ قانون کی حکمرانی اور قانون کا احترام کیوں نہیں ہے؟ ہماری پارلیمنٹ طاقتوروں کی ربڑ سٹیمپ کیوں بنی ہوئی ہے؟ ہماری جوڈیشری بوٹوں کو آئین پر مقدم کیوں قرار دیتی رہتی ہے؟ ہمارا سماج اس حوالے سے کس قدر بربادی میں جا چکا ہے اور اس کا اصل کلپرٹ یا ذمہ دار کوئی اور نہیں، آئین شکنی کی یہی اپروچ ہے۔
ہمارا تیسرا ایشو ہے ہمارا فرسودہ تعلیمی نصاب اور آزادی اظہار کا خاتمہ، جس کے فقدان اور پائمالی نے یہاں برداشت اور رواداری کی اپروچ کو مار ڈالا ہے۔ مذہبی منافرتوں کے ناگ پال دئیے ہیں۔ عوام کا عزت سے جینا حرام کر ڈالا ہے۔ اسی ظالم اپروچ نے ایک سو ایک فتنوں کو جنم دیا اور پروان چڑھایا ہے، اسی جبر نے ہماری نوجواں نسلوں سے ان کی بھاونائیں چھین لی ہیں، ہمارے دینی مدارس میں تقدس کے ساتھ جو کچھ سکھلایا اور جس نفرت کو پڑھایا جا رہا ہے یا ہمارے ماڈرن تعلیمی اداروں میں بھی پاکستان سٹڈی اور الہیات و مذہبیات کے نام پر جو زہریلی جنونیت پڑھائی و سکھلائی جاتی ہے، اس سے اختلاف کرنے یا متبادل بیانیے پر اظہار خیال کرنے پر خوفناک پابندیاں ہیں۔ ظالم روایتی سماج ہی نہیں بلاسفیمی کے ظالم قوانین پھنکارنے لگتے ہیں۔ ایسے میں آزادئ اظہار اور حریت فکر کی اقدار کیسے پنپ سکتی ہیں؟ ایسی حبس اور گھٹن میں تازہ تنقیدی افکار کی گنجائش کہاں ہے؟ ایسے دیمک زدہ سماج میں انسان نواز بنیادوں پر استوار کوئی بھی سسٹم آخر کیسے پنپ سکتا ہے؟ ہمارے سماج میں جتنی بھی مذہبی بدہضمی ہے وہ سب اسی جبر کا شاخسانہ ہے۔ ہمارا میڈیا اور ہمارا تعلیمی سلیبس، اسی گھٹن پر مبنی اپروچ سے برباد ہوۓ پڑے ہیں۔ آزادئ اظہار کے بغیر تنقیدی اپروچ کے ساتھ احتساب کا قابل عمل سسٹم کیسے پروان چڑھ سکتا ہے؟ سوسائٹی میں موجود سماجی سیاسی اور مذہبی خرافات اور خرابیوں کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
ہمارا چوتھا ایشوہے اتھارٹی کی دھونس اورجبر، جس نے یہاں طاقتور تو طاقتور، ایک کلرک کو بھی فرعون بنا ڈالا ہے۔ جس کے پاس جتنی طاقت ہے، وہ اتنا ہی بڑا خدا بنا بیٹھا ہے۔ جبر کی یہی اپروچ ہے جس نے ہمارے سماج کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہماری چیف منسٹر سمجھتی ہیں کہ وہ بہت بڑی بلا ہیں۔ ان کی کیبنٹ کا ایک ایک فرد، کیا عورت، کیا مرد، سب عوام کے لیے ہی نہیں، اپنے ممبران اسمبلی کے لیے بھی ناقابل دستیاب بنے ہوئے ہیں۔ رہ گئے ممبران اسمبلی، وہ اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں (جاری ہے)