سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 07 / اگست / 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے اعلامیہ کے مطابق ایک ملک پر حملہ سب ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس سے پہلے پاکستان گزشتہ سال ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کرچکا ہے۔ تاہم کہا جارہا ہے کہ یہ معاہدہ مختلف ہے اور اس سے تمام ممالک کے پہلے سے دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے متاثر نہیں ہوں گے۔
پاکستان سمیت تینوں ممالک میں اس نئے معاہدے کا مثبت انداز میں خیر مقدم کیا جارہا ہے اور محتاط امید ظاہر کی جارہی ہے کہ ریجن کی تین بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے سے مشرق وسطیٰ بلکہ اس سے بڑھ کر جنوبی ایشیا میں امن کی حوصلہ افزائی ہوگی اور جنگوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اسی لیے ترک صدر طیب اردوان نے معاہدے کے بعد ایکس پر ایک پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے ۔ اسی طرح تینوں ملکوں کے نمائیندے اور ترجمان یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ معاہدہ تینوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والے برادرانہ تعلقات اور دیرینہ تعاون کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے ۔ تینوں ملک مل کر پورے خطے میں امن کی ضمانت فراہم کرسکتے ہیں۔
تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ یہ معاہدہ پہلے غزہ میں اسرائیل کی طویل جنگ جوئی اور فلسطینیوں کے خلاف عسکری کارروائیوں اور اس کے بعد گزشتہ چھے ماہ سے ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سامنے آیا ہے۔ اس لیے اس معاہدہ کو خطے کی عمومی سکیورٹی صورت حال، تضادات اور تنازعات سے ہٹ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔ بعض مبصرین نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں عرب ممالک کو جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایران نے جیسے ان ملکوں پر بے دریغ حملے کیے ہیں، اس کی روشنی میں یہ قیاس کیاجارہا ہے کہ عرب ممالک اب دھیرے دھیرے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کم کریں گے اور متبادل انتظامات پر غور کررہے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں فوری طور پر تو شاید نہیں لیکن مستقبل میں کسی وقت امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈے بند کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے یا اسے عرب ممالک سے ایسے اشارے مل سکتے ہیں کہ خطے میں مالدار عرب ممالک کی وسیع تر سکیورٹی کے نقطہ نظر سے وہ اس علاقے میں اپنی عسکری سرگرمیاں محدود کرے۔ ایسے حالات میں تین اہم مسلمان ممالک کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئے گا۔
خوشگوار پہلو دیکھنے والے بعض تجزیہ نگار یہ بھی قیاس کررہے ہیں کہ جلد ہی قطر اور مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہوجائیں گے۔ اور جب ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ جنگ کی دھول بیٹھ جائے گی تو ایران بھی ایسے معاہدے میں شامل ہوکر علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنا چاہے گا۔ اس معاہدے کو مسلمان ممالک کے درمیان عملی عسکری تعاون ہموار کرنے کا طریقہ بتایا جارہاہے ۔ اس طرح دنیا بھر کے مسلمان دفاعی ضرورتوں اور اپنی حفاظت کے لیے غیر مسلم ممالک کی طرف دیکھنے کی بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام سکیں گے۔ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے حوالے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی فوج کی جنگی مہارت اور انٹیلی جنس صلاحیت مسلمہ ہے اور اس کی تصدیق حال ہی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی چپقلش میں بھی واضح ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اگرچہ سعودی عہدیداروں نے اس معاہدے کے بعد تبصرے کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ اس معاہدے کا مقصد کوئی فرقہ وارانہ بلاک بنانا یا کسی فوجی طاقت کا مظاہرہ نہیں ہے۔ یہ معاہدہ علاقے میں کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی کسی کے لیے خطرہ بنے گا۔ معاہدے کا جوہری صلاحیتوں کے فروغ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے‘۔
تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ اس سہ ملکی اہم معاہدہ کا اعلان ایک اعلامیہ کی صورت میں سامنے آیاہے یا پھر تینوں ممالک کے نمائیندوں نے تبصروں کے ذریعے اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ اس معاہدے کی شقات اور تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے ۔ یہ طے کیا گیا ہے کہ تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینے اور انہیں مضبوط بنانے سے متعلق ہے‘۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ’اس معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے کی باقاعدہ تقریب سے قبل تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کی، جس میں تینوں ممالک کے مابین روابط اور مشترکہ مفادات کا جائزہ لیا گیا‘۔
ان وضاحتوں اور یقین دہانیوں کے باوجود جب بھاری بھر کم عسکری و مالی صلاحیتوں کے حامل تین ممالک مل کر ایسے دفاعی معاہدے پر اتفاق کرتے ہیں جس میں یہ واضح کیاجائے کہ ایک کے خلاف جنگ جوئی تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہوگی، تو اس کی سنجیدگی اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے نہ صرف تینوں ممالک کے عوام کی سہولت و اطمینان کے لیے بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک بطور خاص اسرائیل و ایران اور دنیا پر تینوں ممالک کے ارادے واضح کرنے کے لیے اس اہم معاہدے کی تفصیلات عام کرنا اہم ہوگا۔ انہیں خفیہ رکھ کر قیاس آرائیوں اور بے بنیاد افواہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ بڑے اور باصلاحیت ممالک ہیں جنہیں دنیا بھر میں اعتبار و وقار حاصل ہے۔ اس لیے انہیں باہمی معاہدے کو مکمل طور سے خفیہ رکھنے سے گریز کرنا چاہئے۔ خاص طور سے مشترکہ دفاع کے تناظر میں جب پاکستانی وزارت خارجہ ’ڈیٹرنس‘ کا لفظ استعمال کرتی ہے تو لامحالہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی بحرانی صورت حال میں اگر کسی رکن ملک کو دشمن کی طرف سے جوہری حملے کا خطرہ لاحق ہوجائے تو کیا پاکستان معاہدے میں شامل ملکوں کو جوہری ڈیٹرنس فراہم کرے گا؟ اس سوال کا جواب اس معاہدے کی قدر و قیمت بڑھانے کے لیے بھی ضروری ہوگا۔ اگر معاہدے کے فریق کے طور پر پاکستان سعودی عرب یا ترکیہ کو لاحق ہونے والے جوہری حملے سے دفاع فراہم نہیں کرے گا تو ایک پر حملہ سب ملکوں پر حملہ کی اصطلاح بے معنی ہوجائے گی۔
اس حوالے سے اس اہم پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ترکیہ دنیا کے سب سے بڑے اور طاقت ور عسکری الائنس نیٹو کا حصہ ہے۔ نیٹو ممالک میں امریکہ کے بعد ترکیہ کے پاس ہی سب سے بڑی فوج ہے۔ نیٹو کے پروٹوکول کی شق 5 کے تحت کسی رکن ملک پر حملہ سب ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ اسی شق کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے ساتھ جنگ میں صدر ٹرمپ دیگر یورپی ممالک سے تعاون کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ اس لیے سوال ہے کہ اگر ترکیہ کو نیٹو جیسے اتحاد کی صورت میں اپنی مکمل حفاظت کی ضمانت پہلے ہی حاصل ہے تو اسے اس معاہدے میں شامل ہونے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ معاہدے کی تفصیلی شقات ایسے اور اس سلسلہ میں اٹھنے والے متعدد دیگر سوالوں کے جوابات فراہم کرسکتی ہیں۔
معاہدے میں شامل تینوں ممالک کی صلاحیت اور اہلیت کی نوعیت مختلف ہے۔ ترکیہ کے پاس اسلحہ سازی کی بھاری بھر کم صلاحیتیں موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس جدید جنگ کے عملی تجربہ کے علاوہ ایٹمی صلاحیت ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل ہیں جو تینوں ملکوں کو مشترکہ دفاع مستحکم کرنے کی بنیاد فراہم کرسکتے ہیں تاکہ مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں جنگوں اور علاقائی تنازعات کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں لیکن حالیہ سہ ملکی دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں چینی مفادات کے لیے زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔ امریکی حکومت اس صورت حال سے آگاہ ہوگی اور ان تینوں ممالک نے بھی دفاعی معاہدے کے تناظر میں اسے تفصیلات بتائی ہوں گی۔ یہ تفصیلات اب تنیوں ملکوں کے عوام کے علم میں بھی ہونی چاہئیں تاکہ واضح ہوسکے کہ باہمی اخوت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کس حکمت عملی پر عمل کیا جائے گا۔
پاکستان کی سفارتی اور اسٹریٹیجک حیثیت اس معاہدے کے نتیجے میں یقیناً مستحکم ہوگی۔ لیکن پاکستان کو مالی مشکلات کے علاوہ دہشت گردی، بھارت کے علاوہ افغانستان کی طرف خطرات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے نت نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ترکیہ اور سعودی عرب کو بھی اپنے اپنے طور پر ایسے ہی متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ معاہدے کی شقات ہی میں یہ بات پنہاں ہوگی کہ تینوں ممالک ان سے کیسے نبرد آزما ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔