تین ممالک، ایک معاہدہ اور چوتھا کھلاڑی

میں نے ایک ہندوستانی فلم ”تھری ایڈیٹس“ دیکھی تھی، جو کافی مقبول بھی ہوئی۔ فلم کے تین کردار اپنی اپنی الجھنوں، خوابوں اور مشکلات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ آج جب میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے کو دیکھتا ہوں تو نہ جانے کیوں مجھے وہی ”تھری ایڈیٹس“ یاد آ رہی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں تین دوست تھے اور یہاں تین ممالک ہیں۔ وہاں معاملہ تعلیم اور زندگی کا تھا، یہاں معاملہ دفاع، سیاست اور شاید آنے والے وقت کی ایک بڑی علاقائی بساط کا ہے۔سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کی بنیادی بات یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ بظاہر یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے، جس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔یہ بات اپنی جگہ خوش آئند ہے۔تین مسلم ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا، اپنی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانا اور بیرونی جارحیت کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کا عہد کرنا بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے۔لیکن میرے ذہن میں اس معاہدے کو دیکھ کر خوشی سے زیادہ کچھ سوالات پیدا ہوئے ہیں۔اور شاید ان سوالات کو اٹھانا ضروری بھی ہے۔کیونکہ عالمی سیاست میں کبھی کبھی اصل کہانی وہ نہیں ہوتی جو معاہدے کے الفاظ میں لکھی جاتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو ان الفاظ کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔

ایک حملہ، تین جواب؟معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔یہ جملہ بہت مضبوط ہے۔لیکن میں سوچتا ہوں کہ اس کا عملی مطلب کیا ہوگا؟اگر کل سعودی عرب پر حملہ ہوتا ہے تو پاکستان کیا کرے گا؟کیا پاکستان اپنی فوج سعودی عرب بھیجے گا؟کیا ترکی بھی فوجی کارروائی کرے گا؟کیا تینوں ممالک مشترکہ کمان قائم کریں گے؟کیا فضائی دفاع ایک دوسرے کے حوالے کیا جائے گا؟کیا بحری افواج مشترکہ طور پر کارروائی کریں گی؟یا پھر یہ معاہدہ صرف سیاسی اور سفارتی حمایت تک محدود رہے گا؟معاہدے کے اعلان میں ان سوالات کے واضح جوابات سامنے نہیں آئے۔اور یہی ابہام مجھے سب سے زیادہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔کیونکہ اگر کسی ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا تو پھر اس کے دفاع کی ذمہ داری بھی واضح ہونی چاہیے۔آخر جنگ جذبات سے نہیں، واضح حکمت عملی سے لڑی جاتی ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیوں؟یہ سوال بھی بہت اہم ہے۔آج مشرقِ وسطیٰ کئی برسوں سے مسلسل جنگ اور کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل اور فلسطین کا تنازع ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہوا۔ لبنان، شام، ایران، عراق اور خلیجی ممالک تک اس کے اثرات پہنچے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جنگی کارروائیوں نے صورت حال کو مزید خطرناک بنا دیا۔خلیجی ممالک پر میزائل حملوں کے خدشات بڑھے۔تیل کی تنصیبات، سمندری راستے اور عالمی توانائی کی سپلائی خطرے میں پڑی۔ایسے ماحول میں سعودی عرب کا ترکی اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنا معمولی واقعہ نہیں۔یہ تینوں ممالک پہلے ہی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔پاکستانی فوج سعودی فوجی اہلکاروں کی تربیت اور تکنیکی تعاون میں پہلے بھی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ترکی اور پاکستان کے دفاعی تعلقات بھی تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں۔سعودی عرب ترکی سے ڈرونز سمیت دفاعی سازوسامان خرید رہا ہے۔تو پھر آج کا معاہدہ صرف ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ پہلے سے موجود تعلقات کو ایک نئے دفاعی فریم ورک میں لانے کی کوشش بھی ہوسکتا ہے۔

اس معاہدے میں ایران کا نام شاید براہ راست نہیں لیا گیا، لیکن کیا موجودہ علاقائی حالات کو دیکھتے ہوئے ایران کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟میرا خیال ہے کہ نہیں۔ایران اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی سب سے اہم علاقائی طاقتوں میں سے ایک ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان ماضی میں شدید کشیدگی رہی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے ادوار بھی آئے، لیکن حالیہ جنگی صورت حال نے ایک بار پھر پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ایسے میں سعودی عرب کا پاکستان اور ترکی کو اپنے دفاعی دائرے میں شامل کرنا ایک طرح سے خطے میں طاقت کا نیا توازن پیدا کرنے کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ توازن صرف دفاع کے لیے ہے یا آنے والے دنوں میں کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے؟اور یہاں سے میری تشویش شروع ہوتی ہے۔میں ایک بات صاف کہنا چاہتا ہوں۔میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اس معاہدے کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔میرے پاس ایسا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کوئی حتمی ثبوت نہیں۔تاہم کیا یہ ممکن نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل، ایران کے خلاف حالیہ جنگی مہم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں ایک نئے علاقائی دفاعی نظام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں؟کیا یہ ممکن نہیں کہ ایران کے بعد خطے کے دوسرے ممالک کو بھی کسی بڑے تنازع کی طرف دھکیلا جائے؟اور کیا یہ ممکن نہیں کہ اس نئے کھیل کا آغاز براہ راست امریکہ یا اسرائیل کے ذریعے نہیں بلکہ علاقائی اتحادیوں کے ذریعے ہو؟

یہ سوالات شاید آج عجیب لگیں۔لیکن عالمی سیاست میں کل جو بات ناقابلِ تصور ہوتی ہے، کبھی کبھی چند ماہ بعد وہ حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں نے پوری دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہ سکتی۔ایران کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات خلیج تک پہنچتے ہیں۔خلیج میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔تیل متاثر ہوتا ہے تو پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔اور اگر عالمی معیشت متاثر ہو تو جنگ کا دائرہ میدانِ جنگ سے نکل کر ہر ملک کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجھے موجودہ صورت حال معمولی علاقائی کشمکش نہیں لگتی۔اور اگر ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل خطے میں مطلوبہ سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگلی حکمت عملی کیا ہوگی؟کیا اگلا قدم مزید براہ راست حملے ہوں گے؟یا خطے میں نئے اتحاد بنائے جائیں گے؟یا پھر ایسے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے گا جو کسی ممکنہ نئے تصادم میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں؟

کچھ ماہ پہلے کی وہ بات مجھے ابھی یاد آتی ہے جو چند ماہ پہلے سامنے آئی تھی کہ اگر ایران کو کمزور کیا گیا تو اس کے بعد پاکستان اور ترکی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔میں یہاں بھی احتیاط ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اسرائیل نے سرکاری طور پر اعلان کیا تھا کہ ”اب پاکستان اور ترکی کی باری ہے“۔لیکن یہ خیال ضرور گردش میں آیا تھا اور ایک ترک تجزیہ کار نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا۔تو کیا ہمیں اس بات کو بالکل نظر انداز کر دینا چاہیے؟میرا خیال ہے نہیں۔کیونکہ پاکستان اور ترکی دونوں ایسے ممالک ہیں جن کی اپنی مضبوط فوجی صلاحیت ہے، اپنی خارجہ پالیسی ہے اور سب سے بڑھ کر خطے میں اپنا اثر و رسوخ ہے۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ترکی نیٹو کا اہم رکن ہے۔سعودی عرب دنیا کی اہم ترین توانائی کی معیشتوں میں شامل ہے۔اگر یہ تینوں ممالک ایک دفاعی معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ خطے کا طاقت کا توازن بدلتا ہے۔اور جہاں طاقت کا توازن بدلتا ہے، وہاں بڑی طاقتوں کی دلچسپی بھی بڑھ جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیاامریکہ اس سے خوش ہوگا یا پریشان؟ امریکہ سعودی عرب کا دیرینہ اتحادی ہے۔ترکی نیٹو کا رکن ہے۔پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی طویل دفاعی تعلقات رہے ہیں۔تو اگر یہ تینوں ممالک ایک مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دے رہے ہیں تو امریکہ اسے صرف تشویش کی نظر سے دیکھے گا یا اس میں اپنے لیے کوئی موقع بھی تلاش کرے گا؟یہ کہنا مشکل ہے۔لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے خلاف پیدا ہونے والی کسی بھی نئی علاقائی ترتیب کو ہمیشہ نظر انداز نہیں کرتیں۔کبھی وہ اسے روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔کبھی اسے اپنے حق میں استعمال کرتی ہیں۔اور کبھی بظاہر مخالف نظر آنے والے کسی انتظام کو بھی اپنے بڑے جغرافیائی منصوبے کا حصہ بنا لیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مجھے اس معاہدے کو صرف تین ممالک کا دفاعی معاہدہ سمجھنے میں کچھ احتیاط محسوس ہوتی ہے۔یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے۔کیا یہ ایران کے خلاف حصار ہے؟نقشے کو سامنے رکھیں۔ایک طرف سعودی عرب۔دوسری طرف ترکی۔اور مشرق کی جانب پاکستان۔درمیان میں ایران۔کیا یہ محض اتفاق ہے؟یقیناً یہ ممکن ہے۔لیکن کیا یہ ایران کے گرد ایک وسیع تر دفاعی توازن بنانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے؟یہ سوال بھی موجود ہے۔اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس توازن کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا۔کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دفاعی اتحاد بعض اوقات دفاع تک محدود نہیں رہتے۔وہ سیاسی صف بندی بن جاتے ہیں۔سیاسی صف بندی کبھی فوجی صف بندی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔اور فوجی صف بندی آخرکار جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے۔پاکستان کے لیے اصل امتحان۔

میرے خیال میں اس پورے معاملے میں پاکستان سب سے زیادہ احتیاط کا متقاضی ہے۔سعودی عرب پاکستان کا برادر ملک ہے۔ترکی بھی پاکستان کا قریبی دوست ہے۔دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات ہیں۔لیکن خارجہ پالیسی دوستی سے نہیں، قومی مفاد سے چلتی ہے۔اگر کل سعودی عرب پر حملہ ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا اخلاقی اور سیاسی طور پر فطری بات ہوگی۔لیکن اگر یہ معاہدہ پاکستان کو کسی ایسی جنگ میں دھکیل دے جو اس کے اپنے قومی مفاد سے متصادم ہو تو پھر فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات اور داخلی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔اسے کسی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس کا فیصلہ اسلام آباد میں نہیں بلکہ کسی دوسرے دارالحکومت میں ہو۔پاکستان کو دوستیاں ضرور نبھانی چاہئیں۔مگر اپنی جنگ خود منتخب کرنی چاہیے۔سعودی عرب اپنے وژن 2030 کے تحت ایک نئے معاشی دور کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس کے لیے امن ضروری ہے۔سرمایہ کاری ضروری ہے۔سیاحت ضروری ہے۔توانائی کی مستقل برآمد ضروری ہے۔اور سب سے بڑھ کر علاقائی استحکام ضروری ہے۔اگر نیا دفاعی معاہدہ سعودی عرب کو زیادہ محفوظ بناتا ہے تو یہ یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔لیکن اگر یہی معاہدہ سعودی عرب کو کسی نئے علاقائی تنازع کا فریق بنا دیتا ہے تو پھر اس کے معاشی خواب متاثر ہوسکتے ہیں۔

تاہم ترکی کا معاملہ بھی مختلف نہیں ہے۔ترکی پہلے ہی شام، عراق، بحیرہ اسود، مشرقی بحیرہ روم اور دیگر علاقوں میں اپنی سکیورٹی ترجیحات کے باعث متعدد محاذوں پر سرگرم ہے۔ایسے میں سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط دفاعی اتحاد ترکی کو ایک نئی علاقائی قوت فراہم کر سکتا ہے۔لیکن ہر طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔اگر اس اتحاد کو صرف دفاع اور امن کے لیے استعمال کیا گیا تو ترکی، پاکستان اور سعودی عرب تینوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔لیکن اگر اسے کسی بڑی جنگی صف بندی کا حصہ بنا دیا گیا تو پھر تینوں ممالک کے لیے خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔

لیکن مجھے سازش کی بو کیوں آ رہی ہے؟یہ سوال شاید میرے قارئین کے ذہن میں بھی ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے۔ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک جنگ دوسری جنگ کو جنم دیتی ہے۔ہم نے دیکھا کہ  ایک ملک کی تباہی دوسرے ملک کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ہم نے دیکھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پورے خطے کی سیاست تبدیل ہوگئی۔ہم نے دیکھا کہ جمہوریت کے نام پر جنگیں ہوئیں، مگر جنگوں کے بعد جمہوریت کہیں دکھائی نہ دی۔ہم نے دیکھا کہ طاقتور ممالک کمزور ملکوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے۔اسی لیے آج جب تین اہم مسلم ممالک ایک ایسے وقت میں مشترکہ دفاعی معاہدہ کرتے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ہوچکی ہے، امریکہ براہ راست اس تنازع میں شریک رہا ہے اور پورا خطہ شدید کشیدگی سے گزر رہا ہے، تو ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے:کہیں یہ کسی بہت بڑے کھیل کی پہلی چال تو نہیں؟

اگر میرا خدشہ غلط نکلا تو؟میں چاہوں گا کہ میرا خدشہ غلط ثابت ہو۔میں چاہوں گا کہ یہ معاہدہ واقعی صرف دفاعی ہو۔میں چاہوں گا کہ سعودی عرب محفوظ ہو۔ترکی محفوظ ہو۔پاکستان محفوظ ہو۔ایران محفوظ ہو۔اور پورا خطہ جنگ کے بجائے امن کی طرف بڑھے۔میں یہ بھی چاہوں گا کہ امریکہ اور اسرائیل سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اس خطے کو اپنے مفادات کی جنگ کا میدان بنانے کے بجائے یہاں امن قائم کرنے میں کردار ادا کریں۔لیکن اگر آنے والے دنوں میں حالات نے ایک مختلف رخ اختیار کیا، اگر ایران کے بعد کسی اور ملک کو نشانہ بنایا گیا، اگر پاکستان اور ترکی پر دباؤ بڑھا، اگر خلیج ایک بار پھر جنگ کا میدان بنی، اگر نئے میزائل چلے اور اگر ایک ایک کرکے نئے محاذ کھلتے گئے تو پھر آج کے معاہدے کو ہمیں ایک مختلف نظر سے دیکھنا پڑے گا۔تب شاید ہم کہیں گے کہ مکہ میں صرف تین ممالک نے دفاعی معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے۔بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی بساط پر ایک نئی چال چلی گئی تھی۔

 سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اس معاہدے پر میرا نظریہ بہت سادہ ہے:دوستی ضرور کیجیے۔دفاع ضرور مضبوط کیجیے۔ایک دوسرے کے ساتھ ضرور کھڑے رہیے۔لیکن کسی دوسرے کی جنگ اپنے گھر مت لائیے۔کیونکہ اگر یہ واقعی تین دوستوں کا اتحاد ہے تو دنیا کو خوش ہونا چاہیے۔لیکن اگر اس کھیل میں کوئی چوتھا کھلاڑی بھی موجود ہے، جو پردے کے پیچھے بیٹھا ہے، مہرے دیکھ رہا ہے اور اگلی چال سوچ رہا ہے،تو پھر ”تھری ایڈیٹس“ کی یہ کہانی فلم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔فلم میں تین دوست آخرکار اپنا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔عالمی سیاست میں اگر تین دوست کسی اور کے کھیل کا حصہ بن جائیں تو پھر راستہ ہمیشہ اپنا نہیں رہتا۔اور اب اصل سوال یہی ہے:مکہ میں معاہدہ تین دوستوں نے کیا ہے …مگر اگلی چال کس کی ہوگی؟۔