دِل کی کھڑکی کھولیں

ایک خبر نے میرے دماغ کے تانے بانے ہلا دیئے۔ یہ نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں گیارہ سال سے داخل 26سالہ نوجوان کے وفات پا جانے کی خبر تھی۔2014 میں اُسے ٹریفک حادثے میں سر پر شدید چوٹ لگی،ملتان اور لاہور کے ہسپتالوں میں علاج ہوا، کچھ بحالی ہوئی تو گھر آ گئے۔

 لیکن شومئی قسمت کہ گھر کی سیڑھیوں سے گرے اور وہی چوٹ ایک ایسا المیہ بن گئی کہ نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں یہ نوجوان گیارہ سال تک اس طرح پڑا رہا کہ ہل سکتا تھا نہ چل سکتا تھا۔ اُس کی یہ قید31جولائی2026 کو اُس وقت ختم ہو گئی جب و ہ ز ندگی کی قید سے آزاد ہو گیا۔ اُس وقت سے میرے ذہن میں یہ خیال کچوکے لگا رہا ہے کہ اُس نے ہسپتال کی آئی سی یو میں جو گیارہ سال گزارے کیا اُسے زندگی کے گیارہ سال کہا جا سکتا ہے؟ زندگی ایک بیڈ پر ساکت پڑے رہنے کا نام تو نہیں،مگر اُس کے لئے تو یہی زندگی رہ گئی تھی۔ وہ آئی سی یو میں نہ ہوتا تو شاید اسے یہ گیارہ معذوری کے سال بھی نہ ملتے۔اُس کے ورثاکی ہمت ہے وہ اُس کے ساتھ اس حالت میں جیتے  رہے۔اُن کے دِلوں پر اُسے یوں بے حرکت پڑے ہوئے  دیکھ کر کیا گذرتی ہو گی یہ وہی جانتے ہیں۔

یہ حادثات تو ایسی اَن گنت کہانیاں روزانہ تشکیل دیتے ہیں تاہم ان کہانیوں میں چھپے درد کو کوئی کوئی محسوس کرتا ہے۔ کہنے کو محمد اسد26سال جیا مگر نہیں صاحب اُس کی زندگی تو2014میں اُس وقت جامد ہو گئی تھی جب وہ حادثے میں دماغی صلاحیت کھو بیٹھا تھا۔ جب اُس کے دماغ کا حرام مغز پانی کی طرح بہہ نکلا تھا۔وہ ہنسی مسکراتی زندگی جو اُس حادثے سے پہلے تھی، وہ تو کہیں گم ہو گئی تھی۔ بس اب تو وہ زندہ لاش تھا، جسے اُس کے والدین اور ورثانے اٹھانا تھا۔ ان گیارہ برسوں میں محمد اسد نے چلتے پھرتے انسانوں کو جس حسرت سے دیکھا ہو گا،اُس کا اندازہ ہم چلتے پھرتے انسان کیسے کر سکتے ہیں۔ ہمیں تو روزانہ اس بات سے فرصت نہیں ہوتی،دس کو بیس کیسے کریں،کسی کا حق ماریں یا ظلم ڈھائیں بس اپنا گھر بھر لیں۔ وہ ایک حسرتِ نگاہ جو کوئی شدید بھوکا کھاتے ہوؤں پر ڈالتا ہے وہ حسرت کی نگاہ گیارہ برسوں میں اس بدقسمت نوجوان نے شاید لاکھوں مرتبہ ڈالی ہوگی۔ آزاد زندگی کو زندگی کی قید میں گزارنے کا تجربہ کسی کو ہوا تو وہ سمجھے کہ ایک ہی بیڈ پر پڑے ہوئے انسان کے دُکھ کیا ہوتے ہیں۔ہم اپنے گزرے ہوئے گیارہ سال کو یاد کریں تو پلک جھپکنے میں گزر جاتے ہیں، مگر محمد اسد نے یہ گیارہ سال کیسے گزارے،اُس کے لواحقین، معالجوں اور نرسوں نے ایک ایک دن کا حساب کیسے رکھا یہ کوئی اور نہیں جان سکتا۔

کسی بڑے ادیب، بڑے لکھاری کی نظر اُس کہانی پر پڑے تو شاید وہ ادب عالیہ کا کوئی شاہکار تخلیق کر دے،لیکن ہم تو وہ معاشرہ ہیں جہاں ایسی کہانیوں کی روزانہ فصل اُگتی ہے۔ حادثات کی حشر سامانی آئے روز ایسے واقعات اور کرداروں کو جنم دیتی ہے کہ جو اپنی اپنی جگہ عبرت کا سامان ہوتے ہیں۔ ملتان کے صحافی ناصر محمود شیخ کے پاس ایسی اَن گنت کہانیوں کا ذخیرہ موجود ہے۔درد کی یہ کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ چلتی ہوئی زندگی کو اچانک بریک کیسے لگ جاتی ہے، مرنے والے تو دائمی دُکھ دے کر چلے جاتے ہیں اور  نظام قدرت کے تحت اُن کے جانے پر جلد یا بدیر صبر بھی آ جاتا ہے، لیکن جو ان حادثات میں زخمی ہو کر بستروں پر آ جاتے ہیں وہ زندگی کو گزارتے نہیں، بلکہ زندگی جیسے چاہے انہیں گزارتی ہے۔

پاکستان اُن ممالک میں سرفہرست ہے جہاں حادثات میں مستقل معذوری کی شرح  سب سے زیادہ ہے۔ایسے حادثات موٹر سائیکل سواروں کو زیادہ پیش آتے ہیں اور اُن میں بھی زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے۔ کسی ایک گھر میں حادثے کا ایک مستقل معذور آ جائے تو اُس کی بڑی آزمائش شروع ہو جاتی ہے،بچہ تھوڑا سا قد نکالے تو والدین کی پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے اسے موٹر سائیکل لے دی جائے۔ پرانے استاد کہا کرتے تھے موٹر سائیکل شیطان کا چرغہ ہے اس پر بیٹھنے والا اگر بھٹک جائے تو اُس کی زندگی داؤ پر لگ جاتی  ہے۔ میں اُس منظر کو بھی نہیں بھول سکتا جب ایک قریبی عزیز کا بیٹا چین سے ایم بی بی ایس کر کے لوٹا، ملتان کے پرانے دوستوں سے ملا تو انہوں نے کہا آؤ آج موٹر سائیکلوں کی ریس لگاتے ہیں۔ آج والدین کہتے ہیں کاش ہمیں معلوم ہوتا ہم اُسے کبھی نہ جانے دیتے۔وہ اس رات دوستوں کے ساتھ کھانے کا کہہ کر گیا اور پھر کبھی نہ لوٹا۔ہاں اُس کی خون میں تر نعش ضرور والدین کو دیکھنے کے لئے ملی اب وہ اکلوتے بیٹے کا غم لئے آ ہیں بھرتے ہیں، جس کے ماتھے پر سہرا سجانے کی تیاریاں بھی کر رہے تھے۔

سو پہلا شکر  تو اِس بات کا بنتا ہے کہ آپ کی اولاد فرماں بردار ہو،آپ کا کہا مانے، اُس دُکھ کو محسوس کرے جو اُسے نقصان پہنچنے سے والدین کو مل سکتا ہے۔د وسرا شکر اِس بات پر ادا کریں کہ زندگی کی مشینی دوڑ میں آپ بچوں کی طرف سے غافل نہیں ہوتے، اُن پر توجہ دی،نظر رکھی۔ اُن کے معمولات کو انہی پر چھوڑنے کی بجائے اپنی آنکھ کا پہرہ بھی رکھا۔

محمد اسد جیسی کہانیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اُن سے سبق سیکھیں،زندگی کو بے حسی کی مشین نہ بنائیں، بلکہ قدم قدم پر شکر بجا لائیں کہ سب کچھ کر سکنے والا اب ہم پر اتنا مہربان ہے کہ ہمیں ایسی کسی آزمائش سے بچایا ہوا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ زندگی دے اور حرکت نہ دے۔ وہ اِس بات پر بھی پورا اختیار رکھتا ہے کہ ماہ و سال توکئی بخشے مگر اُن کی چاشنی ختم کر دے، خواہشوں اور حسرتوں میں ڈوبے ہوئے ہم لوگ جو ملا ہے اُس پر شکر ادا نہیں کرتے جو دوسروں کے پاس ہے اُسے دیکھ کر کڑھتے ہیں۔ ہمیں محمد اسد جیسے کردار نظر نہیں آتے جو بے چارگی کی تصویر بنے زندگی کے دن گزارتے ہیں،بلکہ بڑی گاڑیوں میں گھومتے اور بڑے ہوٹلوں پر کھانے کھاتے لوگ نظر آتے ہیں جن پر نگاہ ڈالتے ہی ہمارے اندر ناشکری کی آندھیاں سی چلنے لگتی ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ مال و اسباب اور زمانے بھر کے تعیشات کے ساتھ اگر ہمیں محمد اسد کی طرح گیارہ سال گزارنا پڑیں تو زندگی کس قدر اذیت ناک بن جائے۔ پھر تو سب چیزیں ایک بوجھ بن جائیں اور زبان پر ایک ہی فریاد ہو، مولا مجھے صحت والی زندگی دے دے۔

 معذوری کا تو ایک لمحہ نہیں کٹتا، گیارہ سال تو موت سے بھی بھاری لگتے ہیں مگر کیا کریں صاحب، ہم ایسی حقیقتوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ سبق سیکھنے کے لئے بھی تو دِل کی کھڑکی کا کھلا ہونا ضروری ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)