آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران تنہا ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 08 / اگست / 2026
حیرت انگیز طور پر ایک ایسے وقت میں ایران کی طرف سے سخت اور اشتعال انگیز پیغامات کے سلسلہ میں تیزی آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے بیانات کے ذریعے گولہ باری میں توقف کیا ہؤا ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے اہداف پر حملے بند کیے ہوئے ہیں لیکن آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔ آج ہی ابوظہبی نے بتایا ہے کہ اس کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران دنیا بھر میں تنہا ہورہا ہے۔
دو سری طرف تہران مسلسل یہ اعلان کررہا ہے کہ عمان کے ساتھ بات چیت کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کے میں ٹریفک کی آمد و رفت کے سوال پر عمان کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔ یہ مذاکرات مبینہ طور پر ایسی آبی گزرگاہ کی نشاندہی اور اس پر اتفاق کے حوالے سے ہورہے ہیں جسے دونوں ملک تسلیم کریں اور عالمی بحری ٹریفک محفوظ طریقے سے اسے استعمال کرسکے۔ تاہم آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک کے راستے کےسوال پر اتفاق رائے کی مثبت خبریں دینے کے باوجود تہران سے مسلسل یہ اعلان بھی کیا جارہا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کے بعد آبنائے ہرمز بھی کھل جائے گی۔
موجودہ سفارتی صورت حال اور جنگی حالات میں ایسے ایرانی بیانات کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ جنگ کا فاتح ہے اور اب امریکہ کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ اس حوالے سے آج ہی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ دلچسپ بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے جنگ کے معاوضے سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’آبنائے ہرمز کا کھلنا دیگر شرائط سے مشروط ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے ’اسلام آباد مفاہمت نامے‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے (ہرجانے کی ادائیگی) کا معاملہ بھی شامل ہے‘۔ واضح رہے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ اصولوں پر کسی فریق نے بھی عمل نہیں کیا بلکہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ بالآخر تھک کر دونوں نے یہ حملے بند کرنے کا اعلان کیا البتہ بیان بازی کی حد تک ’جنگ ‘ جاری ہے جس میں اس وقت ایران کا پلہ بھاری دکھائی دیتا ہے کیوں کہ امریکہ میں شاید صدر ٹرمپ دوسری مصروفیات کی وجہ سے یا کسی مفید مشورہ کی وجہ سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ویسےپر جوش بیانات شئیر کرنے سے گریز کررہے ہیں جو ان کا خاصہ ہے۔ اور جو اپنی شدت اور ہتک آمیز نوعیت کی وجہ سے پاسداران انقلاب کے بیانات سے ملتے جلتے دکھائی دیتے تھے۔ ایران کے یک طرفہ جوشیلے بیانات سے قطع نظر موجودہ حالات میں اس تنازعہ کے فوری حل کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
اس دوران میں عمان نے پہلی بار ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے سوال پر ہونے والے مذاکرات پر تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے ہیں‘۔ تاہم عمان نے اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بار بار ہونے والے حملوں کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ آج جاری ہونے والے بیان میں عمان کی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مسلسل حملوں کی مذمت کی۔ تاہم بیان میں ایران کا نام لینے سے گریز کیا گیا۔وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے طریقہ کار سے متعلق جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہو رہے ہیں‘۔ عمان کی وزارتِ خارجہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہو۔
عمان کی وزارت خارجہ کا بیان صرف باہمی مذاکرات کی تصدیق کرتا ہے۔ اس میں کامیابی اور مثبت پیش رفت کے بارے میں ویسی گرم جوشی موجود نہیں ہے جس کا اظہار گزشتہ چند روز سے ایرانی حکام کی جانب سے کیا جارہاہے۔ بلکہ ایرانی وزیر خارجہ نے آج بھی اس بارے میں بیان میں کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں لیکن مسقط کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹریفک کے راستے کے تعین اور اس کے قانونی طریقہ کار و انتظام کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ آبنائے ہرمز سے ٹریفک کے راستے پر اتفاق رائے کے معاملے میں ’تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں‘ کے باعث، ایران اور عمان فی الحال ایک ایسے عارضی راستے پر اتفاق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے بعد میں مرکزی راستے کی بنیاد سمجھا جائے گا۔
تاہم عمان کی وزارت خارجہ کا بیان اس خوش فہمی کی تائید کرتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ عمان نے مذاکرات کے دوران بحری ٹریفک پر حملوں سے متنبہ بھی کیا ہے اور ان کی مذمت بھی کی ہے۔ اس انتباہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایران عمان رابطوں کے بارے میں محتاط طریقے سے صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی گرشتہ چند بیانات میں جب آبنائے ہرمز کھولنے کی امید ظاہر کی تھی تو شاید ان ہی مذاکرات کی طرف اشارہ کیا جارہا تھا۔ تہران اگر یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ عمان کو دباؤ میں لاکر امریکہ کی بیان شدہ پالیسی اور عمان کے مفادات و خود مختاری کے خلاف کوئی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گا تو اسے اس غلط فہمی سے باہر نکل آنا چاہئے۔ مفاہمتی یادداشت میں ضرور آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایران عمان اتفاق رائے کی بات کی گئی تھی لیکن اس کا یہ ہرگز مقصد نہیں تھا کہ ایران عمان کے ساتھ مفاہمت کے نام پر آبنائے ہرمز کے سوال پر من مانی کرے گا۔ ایرانی لیڈروں کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی طرح عمان کو معاہدے میں پھنسا لیا جائے ، اس کے بعد اعلان کردیا جائے کہ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز نہیں کھل سکتی۔ اس سارے قضیے میں ایران نہ صرف آبنائے ہرمز میں اپنی حدود پر کنٹرول چاہتا ہے بلکہ وہ اس تنازعہ کے دوران عمان کے علاقے سے ٹریفک روکنے کی کوششیں بھی کرتا رہا ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے عمان کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی پوزیشن متاثر ہوگی۔
دوسری طرف اس بات کا امکان نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی مکمل اور کسی محصول کے بغیر بحالی کے بغیر ایران کی بحری ناجہ بندی ختم کردیں گے۔ عمان کے ساتھ مذاکرات درحقیقت اس گتھی کو سلجھانے کا ایک بہتر طریقہ ہوسکتے ہیں لیکن اگر ایران مسلسل عمان کی خود مختاری کے بارے میں شبہات پیدا کرے گا تو شاید یہ مذاکرات بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔ یہ تو طے ہے کہ ایران آبنائے ہر مز کو ہمیشہ کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کاتہیہ کرچکا ہے۔ دریں حالات اس کے پاس امریکہ یا عرب ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسے یہ بھی ماننا چاہئے کہ امریکہ کے ساتھ مسلح تنازعہ سے نکلنے کے لیے اسے امریکہ کو ’فیس سیونگ‘ کے طور پر ہی سہی ، کچھ نہ کچھ رعایت تو دینا پڑے گی۔ ایرانی سیاسی قیادت شاید اس نزاکت کو سمجھتی ہے لیکن پاسداران اس مفاہمت پر راضی نہیں ہیں۔ اس وقت یہی تنازعہ کی اصل جڑ ہے۔
اس دوران نو منتخب روحانی لیڈر مجتبیٰ خامنہ کی زندگی کے بارے میں کوئی علامات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر ان افواہوں نے زور پکڑا ہے کہ شاید مجتبی خامنہ بھی ہلاک ہوچکے ہیں مگر پاسداران ان کی موت کو خفیہ رکھ کر کسی طرح ’ولایت فقیہ‘ کے نام پر حاصل ہونے والی جذباتی و مذہبی ہمدردی اور قوت استعمال کرتے ہوئے ، اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کررہے ہیں۔ اگر مجتبیٰ خامنہ کی موت کا اعلان کردیا جائے تو موجودہ چپقلش میں مذہبی رنگ پھیکا پڑ جائے گا اور دونوں طرف سے سیاسی ہتھکنڈوں پر بات ہوگی۔ یہ واضح ہورہا ہے کہ مجتبی کی زندگی یا موت سے قطع نظر پاسداران کے لیڈر ہی دراصل سارے فیصلے کررہے ہیں۔ جبکہ ایران کےسیاسی لیڈر زندگی کے خوف یا کسی بہتری کی امید پر بدستور پاسداران کا ترجمان بن کر معاملات آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
تہران میں جاری سیاسی کشمکش کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیکن تمام انسانوں کی طرح امن ہی ایرانی عوام کی ضرورت ہے تو شاید حالت جنگ جاری رکھنا پاسداران کی مجبوری ہے۔ جنگ بند ہونے اور حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاسداران کے جنرلز شاید من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ خاص طور سے اگر انہیں ’قوت ‘ فراہم کرنے والا رہبر اعلیٰ بھی کوئی فیصلہ کرنے یا عوام کو شکل دکھانے کے قابل نہیں ہے تو پاسداران انقلاب کی ’مجبوری‘ قابل فہم بھی ہوجاتی ہے۔