ایران امریکہ مذاکرات کے بارے میں متضاد دعوے

  • اتوار 09 / اگست / 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے۔ایران براہ راست مذاکرات کی تردید کرتا ہے۔

ایک بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران تنازع ابھی اختتام تک نہیں پہنچا۔امریکا سفارتی، معاشی اور فوجی ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ تنازع ختم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ایران امریکی شرائط پوری کرنے کے قابل ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے راستے زیادہ سے زیادہ تیل اور گیس کی ترسیل ایران کے ساتھ مذاکرات کا اہم موضوع ہے۔

دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کرتا رہے گا، تہران مذاکرات شروع نہیں کرے گا۔ تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کی جانب سے ہماری تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک اس آبنائے پر کنٹرول برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اب ہمارے لیے محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ عملاً میدانِ جنگ بن چکی ہے۔ یہ بیانات ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے واشنگٹن کے لیے شرائط عائد کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں۔ ذوالقدر نے کہا تھا کہ ’امریکہ کا رویہ درست کیے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔‘