ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ نیٹو آرٹیکل 5 جیسا ہے: ترک وزیر خارجہ

  • اتوار 09 / اگست / 2026

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ نیٹو آرٹیکل 5 جیسا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ 3 ملکی دفاعی اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں۔ حملے کی صورت میں اتحادی ملک مشاورت سے مدد کا طریقہ طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترک صدر اردوان پاکستان، سعودی عرب دفاعی اتحاد کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ مصر مستقبل میں ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔نئے دفاعی اتحاد کی وزارتی سطح کی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

حاقان فیدان کا مزید کہنا تھا کہ ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب دفاعی اتحاد کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں ہوگا۔ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے 2 سال 8 ماہ سے کوششیں جاری تھیں۔

وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا جانے والا باہمی دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو معاہدے کی شق 5 سے مشابہت رکھتا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

بی بی سی فارسی کے مطابق سنیچر کے روز ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کا مقصد تینوں رکن ممالک کی سلامتی کے لیے ایک عمومی عزم پیدا کرنا ہے۔ اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ کتنی، کس نوعیت کی اور کس شکل میں مدد درکار ہے۔ اور جب تک کسی رکن ملک کو حملے کا نشانہ نہ بنایا جائے کسی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جنعمہ کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘