تھانے کی دہلیز پر انصاف کا قتل

ریاست اور شہری کے درمیان پہلا رابطہ عدالت نہیں، تھانہ ہوتا ہے۔ یہی وہ دروازہ ہے جہاں مظلوم اپنی فریاد لے کر پہنچتا ہے اور جہاں سے اسے یہ یقین ملنا چاہیے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر اسی دروازے پر خوف، جبر، بدسلوکی یا قانون شکنی کا سامنا ہو تو پھر انصاف کی پوری عمارت لرزنے لگتی ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تھانہ نظامِ انصاف کی پہلی اینٹ ہے۔ اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پوری عمارت سیدھی نہیں رہ سکتی۔ ایسے میں عدالتی اصلاحات، نئے قوانین اور بلند و بانگ دعوے بھی عوام کے اعتماد کو بحال نہیں کر سکتے، کیونکہ انصاف کا سفر وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں ایک عام آدمی پہلی بار ریاست کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ پولیس کا سپاہی محض ایک ملازم نہیں بلکہ ریاستی طاقت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں قانون نافذ کرنے کا اختیار بھی ہوتا ہے اور شہری کی آزادی تک محدود کرنے کا اختیار بھی۔ اسی لیے دنیا کے مہذب ممالک میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں میں بھرتی کا عمل انتہائی سخت رکھا جاتا ہے۔ صرف جسمانی فٹنس یا تحریری امتحان کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ امیدوار کی نفسیاتی کیفیت، ذہنی توازن، کردار، سماجی رویے، برداشت، غصے پر قابو اور انسانی حقوق سے متعلق سوچ تک کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

پاکستان میں بھی بظاہر ایسے کئی مراحل موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ نظام واقعی مؤثر ہے تو پھر ایسے افراد پولیس فورس تک پہنچ کیسے جاتے ہیں، جن کے رویے بعد ازاں پورے ادارے کو بدنام کر تے ہیں۔ لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ایک ذہنی معذور نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے نے ایک بار پھر انہی سوالات کو زندہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، اسے گرفتار کیا گیا جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران نے ایس ایچ او سمیت پورے تھانے کے 78 اہلکاروں اور افسران کو معطل کر دیا۔ یہ فوری انتظامی کارروائی اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف معطلی مسئلے کا حل ہے؟ یا ہمیں اس پورے نظام کے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے جہاں ایسے سانحات جنم لیتے ہیں۔

یہ مقدمہ عدالت میں جائے گا اور قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ لیکن اس واقعے نے ایک ایسا سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں: اگر ایک شہری، وہ بھی ایک ذہنی معذور لڑکی، خود کو تھانے کے اندر بھی محفوظ محسوس نہ کرے تو پھر عام آدمی انصاف کے لیے کہاں جائے؟ یہ پہلا واقعہ نہیں جس نے پولیس کے کردار پر سوال اٹھائے ہوں۔ ماضی میں بھی اختیارات کے ناجائز استعمال، تشدد، جعلی مقابلوں، رشوت، حراست میں اموات اور دیگر سنگین الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہزاروں ایماندار، فرض شناس اور بہادر پولیس اہلکار اپنی جانیں قربان کر کے معاشرے کو محفوظ بناتے ہیں۔ لیکن چند افراد کی مجرمانہ ذہنیت پوری فورس کی ساکھ کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔

پنجاب پولیس کی قیادت گزشتہ کچھ عرصے سے احتساب کے عمل کو فعال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کھلی کچہریوں کا انعقاد، روزانہ کی بنیاد پر اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں اور محکمانہ سزائیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصلاح کی خواہش موجود ہے۔ مگر جب ایک ہی نوعیت کے واقعات بار بار سامنے آئیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف احتساب کا نہیں بلکہ بھرتی، تربیت، نگرانی اور نفسیاتی جانچ کے نظام کا بھی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پولیس اہلکاروں کا نفسیاتی معائنہ صرف بھرتی کے وقت ہونا چاہیے یا ملازمت کے دوران بھی وقفے وقفے سے لازمی ہونا چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اسلحہ رکھنے اور ریاستی اختیار استعمال کرنے والے اہلکاروں کا باقاعدہ نفسیاتی جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ ذہنی دباؤ، غصے، انتہا پسندانہ رجحانات یا شخصیت کے خطرناک عوارض بروقت سامنے آ سکیں۔ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اگر کسی تھانے میں ایک اہلکار پر سنگین الزام سامنے آتا ہے تو کیا اس کے ساتھی اہلکاروں، سپروائزری افسران اور نگرانی کے پورے نظام کی ذمہ داری نہیں بنتی۔ ادارہ صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ اسی لیے غازی آباد واقعے میں پورے تھانے کے عملے کی معطلی نے اس اصول کی طرف اشارہ کیا ہے کہ نگرانی کی ناکامی بھی جواب طلب ہے۔

ریاست کی طاقت کا حسن اس کے اختیار میں نہیں بلکہ اس اختیار کے ذمہ دارانہ استعمال میں ہے۔ جب ریاستی طاقت کمزور کے تحفظ کے بجائے اس کے خوف کی علامت بن جائے تو پھر آئین کی روح مجروح ہوتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پولیس اصلاحات کو صرف وردی، گاڑیوں اور اسلحے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انسانی کردار کی تعمیر کو اصلاحات کا بنیادی ستون بنایا جائے۔ بھرتی کے معیار پر نظرثانی، جدید نفسیاتی ٹیسٹ، مسلسل تربیت، باقاعدہ ذہنی صحت کا جائزہ، باڈی کیمروں کا مؤثر استعمال، تھانوں میں سی سی ٹی وی کی مکمل نگرانی اور آزاد احتسابی نظام وہ اقدامات ہیں جن کے بغیر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی شخص، خواہ وہ عام شہری ہو یا وردی میں ملبوس اہلکار، برابر ہونا چاہیے۔ اگر ریاست اپنے نمائندوں کے جرائم پر فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی کرتی ہے تو عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے، لیکن اگر انصاف میں تاخیر یا جانبداری کا تاثر پیدا ہو تو اس کا نقصان صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے نہیں بنتیں بلکہ انصاف پر قائم اداروں سے بنتی ہیں۔ تھانہ اگر شہری کے لیے خوف کی علامت بن جائے تو عدالتوں کے فیصلے بھی دلوں کا اعتماد واپس نہیں لا سکتے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پولیس کو صرف طاقت کا ادارہ بنانا چاہتے ہیں یا عوام کے اعتماد کا۔ کیونکہ جب پہلی اینٹ مضبوط ہوگی تو انصاف کی پوری عمارت بھی مضبوط ہوگی، اور اگر پہلی اینٹ ہی کمزور رہی تو پھر نظامِ انصاف کی بحالی محض جزوی اقدامات سے ممکن نہیں ہوگی۔ اس تمام صورتحال میں اہلِ صحافت اور بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ کسی بھی حساس واقعے کی رپورٹنگ کا مقصد عوام کو آگاہ کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ریٹنگ، ویوز یا سوشل میڈیا مقبولیت حاصل کرنا۔ بدقسمتی سے بعض یوٹیوبرز اور غیر پیشہ ورانہ انداز اپنانے والے افراد ایسے واقعات میں متاثرہ خواتین، بچوں یا دیگر کمزور طبقات کی عزتِ نفس، رازداری اور نفسیاتی کیفیت کا خیال رکھنے کے بجائے انہیں سنسنی خیزی کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ خبر کی اہمیت برقرار رکھتے ہوئے متاثرہ فریق کے وقار، شناخت اور بنیادی انسانی حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے۔

اگر خواتین اور بچے واقعی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی "ریڈ لائن" ہیں، جیسا کہ بارہا سرکاری سطح پر کہا گیا ہے، تو غازی آباد تھانے جیسے نہایت سنگین واقعے پر اب تک ان کی جانب سے وہ بھرپور، واضح اور غیر مبہم ردِعمل سامنے نہیں آیا جس کی عوام بجا طور پر توقع کرتے ہیں۔ ایک ذہنی معذور نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی جیسے افسوس ناک واقعے پر خاموشی یا نسبتاً کمزور ردِعمل کئی سوالات جنم دیتا ہے۔ ایسے مواقع پر صرف محکمانہ معطلیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ سیاسی قیادت کو بھی واضح پیغام دینا ہوتا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، خواہ وہ وردی میں ملبوس ریاستی اہلکار ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ریاست اپنے ہی نمائندوں کے خلاف ایسے مقدمات میں غیر معمولی حساسیت، شفافیت اور فوری انصاف کا عملی مظاہرہ نہ کرے تو "خواتین اور بچے ہماری ریڈ لائن ہیں" جیسے دعوے عوامی اعتماد پیدا کرنے کے بجائے محض نعرے محسوس ہونے لگتے ہیں۔