میں واپس آؤں گا

کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے۔ کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے: پچانوے برس کے ایشر سنگھ گریوال کی یادداشت گڈ مڈ ہو جاتی ہے۔ ایک صبح وہ اپنے ڈرائیور کو کہتا ہے کہ اسے سرگودھا لے چلو، اسے وہاں کچھ کام ہے، ڈرائیور کو سرگودھا کا کچھ اتا پتا نہیں۔

 ایشر سنگھ کہتا ہے کہ لاہور تک چلو آگے میں بتاتا ہوں۔ ڈرائیور ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ ”لاہور تو دوسری طرف ہے، جی۔“ ایشر سنگھ بضد رہتا ہے۔ ڈرائیور اسے اٹاری بارڈر تک لے آتا ہے جہاں اسے سرحدی فوجی روک لیتے ہیں۔ ایشر سنگھ حیران پریشان ہو کر سب کو دیکھتا ہے۔ ”یہ اتنی پُلس کیوں ہے آج، کیا کوئی ڈکیتی ہوئی ہے؟“ اسے ایک افسر کے پاس لے جایا جاتا ہے جو ایشر سنگھ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ سرگودھا نہیں جا سکتا۔

’دیکھیے انکل یہ تو انٹرنیشنل بارڈر ہے نا، اُس طرف پاکستان ہے، اِس طرف انڈیا، تو کنٹری کا تو بٹوارہ ہو گیا تھا نا؟‘

بٹوارہ؟ کیوں؟

کیوں؟ مطلب پارٹیشن کیوں ہوا تھا؟ کیونکہ کسی نے کہا کہ دو دیش بننے چاہئیں، تاکہ دونوں کمیونیٹیز، ایکچولی تین، مطلب تین کمیونیٹیز الگ الگ رہ سکیں، مگر کنٹریز دو بنیں۔ اُس کی وجہ۔

وجہ جو بھی ہو، بات یہ ہے کہ میں جو ہوں، اُس طرف کا ہوں، غلطی سے اِس طرف آ گیا شاید، آپ گیٹ کھلوا دو، مجھے گھر جانا ہے۔ اِس کے بعد ایشر سنگھ یک دم بے حال سا ہو کر گر جاتا ہے۔

میں نے فلم کا یہ سین بار بار دیکھا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ میں غیر جذباتی سا آدمی ہوں، عقل وقل کی باتیں کرتا ہوں، لیکن گزشتہ دو دنوں سے میں یہ سین بیسیوں مرتبہ دیکھ چکا ہوں اور اِس کے سحر سے نکل نہیں پا رہا۔ اِس فلم نے مجھے دم بخود سا کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسے رومان کی کہانی ہے جو سرگودھا میں پروان چڑھتا ہے، ایک سکھ نوجوان اور مسلم لڑکی کے درمیان، بٹوارے کے باوجود وہ سکھ نوجوان اپنا شہر، اپنا محلہ، اپنی گلیاں اور سب سے بڑھ کر اپنی محبوبہ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا جس کا نام ’ملکہ دلفریب‘ وہ اپنی کلائی پر لکھوا لیتا ہے۔ جب چاروں طرف قتل عام شروع ہو جاتا ہے تو مجبوراً اُس کے گھر والے اسے کھینچ کھانچ کر ٹرین میں بٹھا دیتے ہیں، مگر وہ لڑکی سے وعدہ کرتا ہے کہ ”میں واپس آؤں گا۔“ یہی فلم کا نام ہے۔ فلم کیا ہے، پنجاب کی تقسیم کا نوحہ ہے۔ ایک رنج و الم کی داستان ہے۔ ایک دکھ اور کرب کا فسانہ ہے جس کو امتیاز علی نے پردہ سیمیں پر منتقل کیا ہے۔

ہر سال جب بھی اگست کا مہینہ آتا ہے، دل پر عجیب سی کیفیت چھا جاتی ہے، سمجھ نہیں آتا کہ آزادی کا جشن منائیں یا اپنے پنجاب کے دو ٹکڑوں میں بٹ جانے کا ماتم کریں۔ جو زخم پنجاب کے دل پر 47  میں لگے تھے وہ اِس قدر گہرے تھے کہ آج بھی اُن کے نشان مٹائے نہیں مِٹ رہے۔ یہاں والوں سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں ”ہم امبرسر سے آئے تھے“ یا ”اسی پچھوں جالندھر دے آں“ ۔ وہاں گلزار سے پوچھو تو وہ دینہ کو یاد کر کے آہیں بھرتاہے، کسی کو راولپنڈی کا بازار نہیں بھولتا اور کسی کی محبت سرگودھا میں ہے۔ وہی منٹو کا ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘وہی کرشن چندر کا ’غدار‘ ۔ دس لاکھ بندہ مارا گیا، سوا کروڑ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ کسی نے کہا تھا کہ اگر مجھے اپنا گھر چھوڑنے اور موت میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو میں بخوشی موت کو ترجیح دوں گا۔ اور پورا پنجاب ادھیڑ دیا گیا۔ ایک قلم کی جنبش سے لائل پور اِدھر رہ گیا اور لدھیانہ اُدھر، ننکانہ صاحب اِدھر اور امرتسر اُدھر، ملکہ دلفریب اِدھر اور ایشر سنگھ اُدھر۔

گوالمنڈی، لاہور میں ہمارا آبائی گھر ہے۔ اس کے باہر ’شانتی بھون‘ لکھا ہے اور کسی چرنجی لعل پریم کے نام کی تختی لگی ہے اور تاریخ 27 اکتوبر 1927 درج ہے۔ راتوں رات لوگوں نے اپنے کپڑے لتے جمع کیے اور معصوم بچوں کو اپنی آغوش میں لے کر گھر سے نکل کھڑے ہوئے، اِس امید پر کہ ایک دن وہ واپس آئیں گے۔ لیکن وہ دن کبھی نہ آیا۔ کسی کی حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کر دیا گیا تو کسی کی بیٹی کا گینگ ریپ۔ بوڑھی عورتوں نے اپنی بچیوں کے گلے اِس ڈر سے کاٹ دیے کہ کہیں وہ بلوائیوں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ سینکڑوں نے کنوؤں میں کود کر جان دے دی، ہزاروں لا پتہ ہوئیں اور جو ملیں تو اِس حال میں کہ مارے شرم کے واپس جانے سے ہی انکار کر دیا۔ راجندر سنگھ بیدی کی ’لاجونتی‘ واپس تو آ جاتی ہے مگر۔ ۔ ۔ اِس مگر کا جواب نہیں مل سکا۔

لیکن اگست کے مہینے میں یہ نوحے نہیں پڑھنے چاہئیں، آزادی کی خوشیاں منانی چاہئیں۔ ہم کرائے دار سے مالک مکان بن گئے اور ملازم سے سیٹھ۔ جس کے لیے بینک کی نوکری خواب تھی اُس کا بیٹا بینک کا صدر بنا۔ ہمیں یہ شناخت، یہ نوکریاں، یہ کاروبار اِسی بٹوارے نے دیے۔ ادھر ہندوستان میں بی جے پی کا شکریہ جہاں بابری مسجد شہید کرنے والے باعزت بری ہوئے اور اُسی جگہ عالی شان مندر تعمیر ہوا جس کا افتتاح کسی پجاری نے نہیں، خود وزیر اعظم نے کیا۔ کہیں طالبات کے حجاب پر پابندی ہے تو کہیں ملزم کا گھر عدالتی فیصلے سے پہلے ہی بلڈوزر سے گرا دیا جاتا ہے، شہروں اور سڑکوں کے ناموں سے مسلمان تاریخ کھرچی جا رہی ہے اور نصاب کی کتابوں سے وہ ابواب غائب کیے جا رہے ہیں جن میں مغلوں کا ذکر تھا۔ بیس کروڑ سے زائد مسلمان اپنے ہی دیس میں دوسرے درجے کے شہری بنا دیے گئے ہیں۔

یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن کچھ مشترکہ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف انسانوں کو بلکہ قوموں کو بھی آپس میں جوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے اور ہندوستان کے درمیان جو چیز سب سے زیادہ سانجھی ہے وہ 47  کا دکھ ہے۔ یہ المیہ سرحد کے دونوں طرف برابر ہے۔ جس ظلم نے ہمیں کاٹا تھا، وہی ظلم ہمیں جوڑ سکتا ہے اور پہل ہم کر سکتے ہیں، اِس لیے کہ ہم وارث ہیں۔ ننکانہ صاحب ہمارے پاس ہے، کرتار پور ہمارے پاس ہے، ایشر سنگھ کا سرگودھا ہمارے پاس ہے، ملکہ دلفریب کی گلی ہمارے پاس ہے۔ ہمارے شہروں میں اُن کے بچپن دفن ہیں، ہماری حویلیوں کے ماتھوں پر اُن کے بزرگوں کے نام کندہ ہیں، ہمارے سکولوں کے پرانے رجسٹروں میں اُن کے داخلے درج ہیں۔

میں نے کبھی نہیں چاہا کہ گوالمنڈی والے گھر سے چرنجی لعل کی تختی اتار دی جائے، یہ تختی امانت ہے۔ میرا خواب ہے کہ ہم اُنہیں بلائیں اور کہیں کہ آؤ، دیکھو، یہ ہے وہ پنجاب جو تقسیم ہوا تھا، یہ اُس کی گلیاں ہیں، یہ اُس کے دریا ہیں، یہ اُس کی ٹاہلیاں اور بوہڑ ہیں جن کی چھاؤں میں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے۔ ایشر سنگھ گریوال یہ نہیں پوچھ رہا کہ 47  میں اقتدار کی منتقلی کا آئینی فارمولا کیا طے پایا تھا، وہ یہ پوچھ رہا ہے کہ جس گلی میں اُس نے سائیکل چلائی تھی اور جس ٹیلے پر وہ ملکہ دلفریب سے ملا کرتا تھا، جس محلے میں مسجد کی اذان اور گوردوارے کا کیرتن ایک ہی ہوا میں گھلتے تھے، وہ سب کچھ راتوں رات ”پرایا دیس“ کیسے ہو گیا؟

 اِس سوال کا جواب دنیا کے کسی مورخ کے پاس نہیں، لیکن اگر کسی ایشر سنگھ گریوال نے سرگودھا آنا ہے تو سو دفعہ آئے، ہم اُس کا راستہ روکنے کے بجائے خود اُسے وہاں تک لے جائیں گے جہاں کبھی ملکہ دلفریب رہا کرتی تھی۔ وہ فلم میں وعدہ کرتا ہے کہ ”میں واپس آؤں گا“ ۔ ہم اِس وعدے کے دوسرے سرے پر بانہیں کھولے کھڑے ہیں اور ہمارے پاس کہنے کو بس ایک ہی جملہ ہے : جی آیاں نوں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)