پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی موایدہ ایران کے خلاف نہیں: اسماعیل بقائی

  • سوموار 10 / اگست / 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے، جسے معاہدۂ مکہ کہا جاتا ہے، کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔

انہوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔ بقائی نے یہ بھی کہا کہ جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ’آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ جب تک امریکہ کی جانب سے عہد شکنی جاری ہے، مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج کہا کہ عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے دورۂ پاکستان کے لیے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور مناسب وقت پر یہ دورہ انجام پائے گا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران فی الحال آبنائے ہرمز میں راستے کے تعین کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ’ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے۔ پیغامات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے اور یہ روزمرہ معاملات کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔‘

وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان مذاکرات میں ماحولیاتی امور اور بحری خدمات کی فراہمی کے حوالے سے طریقۂ کار زیر بحث آئے ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ جب آپ بحری خدمات فراہم کرتے ہیں تو اس کے عوض معاوضہ وصول کریں گے۔