سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق

پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدہ کے بعد دو انتہائی آرا  سامنے آئی ہیں۔ کچھ لوگ متوازن رائے بھی رکھتے ہوں گے لیکن زیادہ تر یا تو اسے ملت اسلامی کی نشاط ثانیہ سے تعبیر کیا جارہا ہے یا پھر مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ محض کاغذی دستاویز ہے جس کی کوئی عملی حیثیت نہیں ہوگی۔

اگر اس دوسری رائے پر بھی اتفاق کرلیا جائے تو بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تین بڑے ممالک کی طرف سے  یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ اس طرح تین ممالک نے باہمی اشتراک اور تعاون کا وعدہ کیا ہے۔  ایک دوسرے سے کیا گیایہ وعدہ بھی سفارتی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اگر یہ تینوں ممالک کوئی ایسا عملی ڈھانچہ استوار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں  جس میں حالت جنگ میں پیش قدمی، حکمت عملی، تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کے اصول اور طریقہ  کارطے  ہوجائے تو اس معاہدے کی اہمیت دو چند ہوسکتی ہے۔

اس سہ ملکی دفاعی معاہدے کے بارے میں جذباتی کیفیت پیدا کرنے میں خود حکومتی وزرا کا کردار شامل ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ، وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ  سعودی  عرب گئے ہوئے  تھے۔ معاہدے پر دستخط کے فوری بعد انہوں نے پرجوش بیانات کے ذریعے اسے وزیر اعظم اور پاکستان کی شاندار کامیابی کے طور پر پیش کیا۔  ایسے بیانات سے یہی تاثر ملنے لگا گویا عالم اسلام ایک پرچم تلے اکٹھا ہوکر  دشمنوں سے مشترکہ طور سے نمٹنے کا اعلان کررہا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں یہ معاہدہ  اس افہام و تفہیم کی بنیاد پر  طے  ہؤا ہے کہ کسی جارحیت کی صورت میں  ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی  اور اس کے لیے کوئی فریم ورک اور عملی  انتظامات بھی کیے جائیں  گے۔ گویا  یہ معاہدہ اس مرحلے پر تینوں ممالک کی طرف سے   مل جل کر حملہ آور کا مقابلہ کرنے کے ارادے کا اظہار ہے تاہم اس ارادے پر کیسے اور کیوں کر عمل درآمد ہوگا، یہ ساری تفصیلات ابھی طے ہونا  باقی ہے۔

حکومت پاکستان کی طرف سے  سفارتی سطح پر ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے بارے میں  شاندار کامیابی  کے دعوؤں کا جواز درحقیقت ملکی دگرگوں حالات، سیاسی تناؤ، سماجی زوال اور گورننس کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کو پس پردہ دھکیل کر حکومت کو سرخرو او رکامیاب ثابت  کرنا ہوتا ہے۔ حکمران پارٹی کی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے تو اس قسم کی حکمت عملی  قابل فہم ہوسکتی ہے لیکن اس سے متعدد غلط فہمیاں پیدا ہونے اور عوام میں مذہبی وابستگی کے حوالے ابھرنے والی جذباتی کیفیت اس معاہدے کی روح اور  عملی سیاسی حالات سے میل نہیں کھاتی۔ اس  لیے حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ  ایسے معاہدوں کے بارے میں جذباتی ماحول پیدا کرنے اور   نصرت و کامرانی کے اعلانات  کی بجائے  متوازن  رائے بنائے تاکہ ایسے معاہدوں کے بارے میں عوام کے شعور میں اضافہ ہو اور وہ کسی  سفارتی پیش رفت سے غیر معمولی امیدیں وابستہ نہ کریں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بعد اب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ سہ ملکی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے لیکن اس کے ساتھ وہ یہ  تفصیل  بتانے سے قاصر رہے ہیں کہ ا  س معاہدے کے تحت پاکستان کیا اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کی وجہ سے ملکی افواج پر کسی  تیسرے فریق کے تنازعہ میں شریک ہونے کی کوئی براہ راست پابندی عائد نہیں ہوتی۔ البتہ اس کی کچھ تفصیلات بہتر انداز میں ترکیہ کے وزیر خارجہ  ہاکان فیدان نے فراہم کی ہیں۔   ترکیہ طویل عرصہ سے چونکہ نیٹو کے دفاعی الائنس کا رکن ہے، اس لیے ترک حکام کو ایسے معاہدوں کی عملی پیش رفت اور اسٹرکچرل ضرورتوں کے بارے میں عملی تجربہ ہے۔ اسی لیے ایک طرف  فیدان نے واضح کیا ہے کہ  ایک پر حملہ معاہدے میں شامل  تینوں ملکوں پر حملہ تصور ہوگا کی شق  نیٹو کی شق پانچ سے ملتی جلتی ہے۔ اس کے تحت بھی یہی اصول طے کیا گیا ہے کہ  ایک ملک پر حملہ باقی تمام 32 رکن ممالک پر حملہ  مانا جائے گا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ اصول فوری طور سے تمام ممالک کو کسی ایک ملک کی حمایت میں جنگ میں ملوث ہونے کی ہدایت نہیں کرتا۔ بلکہ تمام رکن ممالک  انفرادی و اجتماعی طور پر طے کرتے ہیں کہ  کیا شق 5 کے تحت جنگ میں حصہ لینا ناگزیر ہوگایا ہے۔ یہ مرحلہ کس قدر دشوار اور مشکل ہوسکتا ہے، اس کا اندازہ اس حقیقت سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ  1949 میں قائم ہونے والے اس دفاعی اتحاد نے صرف ایک بار اس شق کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ ستمبر 2001  میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں کارروائی کے لیے اس شق کا اطلاق ہؤا تھا  ۔ البتہ ایسا فیصلہ ہونے کے بعد بھی ہرملک خود مختارانہ طور سے یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک اس عسکری کارروائی میں حصہ دار ہوگا۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ نیٹو کی طرز پر نئے سہ ملکی  اتحاد کا سیکرٹریٹ  سعودی عرب  میں قائم ہوگا۔ تاہم اس سے پہلے تینوں ملکوں کی وزارتی کمیٹی ا س معاہدے کے تحت کارروائی کا طریقہ کار طے کرے گی۔  ہاکان فیدان نے جو تفصیلات بتائی ہیں، ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ مکہ پیکٹ کے نام سے طے ہونے والا معاہدہ درحقیقت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن یہ تین بڑے مسلمان آبادیوں والے ممالک  کے درمیان افہام و تفہیم اور تعاون کی خواہش کا ٹھوس اعلان ہے۔ اس کی عملی شکل کے بارے میں ابھی کافی غور و خوض کے بعد ایسا میکنزم تیار ہوگا جو ان ممالک کی ضرورتوں اور حالات سے مماثلت رکھتا ہو۔  تاہم عمومی طور سے جب تین ممالک مشترکہ دفاع کے اصول کو ایک معاہدے کی شکل دینے پر آمادہ ہوتے ہیں تو یہ بھی سفارتی لحاظ سے بڑی پیش رفت کہی جائے گی۔

امریکہ اور بیشتر یورپی ممالک کے درمیان  نیٹو کے نام سے طے پانے والے دفاعی اتحاد  کے پاس بھی کوئی براہ راست فوج نہیں ہے۔  نیٹو ایک تنظیمی اور کمانڈ ڈھانچے کا نام ہے جو اپنے تمام رکن ممالک کے مشورے اور تعاون سے کام کرتا ہے۔ سول کونسل  ملکوں کی سیاسی قیادت کی ہدایت پر فیصلے کرتی ہے جبکہ ملٹری کمیٹی عسکری اشتراک اور کسی جنگ میں شرکت کی صورت میں مشترکہ کمانڈ کے تحت انتظامات کا اہتمام کرتی ہے۔  اتحاد کے تمام رکن ممالک خود ہی اپنے عسکری وسائل اور فوج پر کنٹرول کا اختیار  رکھتے ہیں۔ نیٹو کا سیکرٹریٹ ان افواج کو کوئی ہدایت جاری نہیں کرسکتا۔   ترکیہ کے وزیر خارجہ نے شاید اسی لیے نیٹو کی شق 5 کا حوالہ  دیا ہے تاکہ واضح ہو کہ   کوئی  دفاعی اتحاد کیسے کام کرتا ہے ۔اور اس کے تحت کسی بھی ملک سے نہ تو غیر ضروری توقع کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی ایک ملک کے کسی تنازعہ میں شرکت کے بعد اسے دوسرے کی جنگ میں زیر با رکیا جاسکتا ہے۔

 شاید یہی وجہ ہے  کہ سعودی عرب اور ترک حکام واضح کرتے رہے ہیں کہ   یہ معاہدہ تمام رکن ممالک  کے پہلے سے  موجود  معاہدوں پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ اگر  پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب  بھی نیٹو کے ماڈل کی پیروی  کرنا چاہتے ہیں تو   یہ  فیصلہ بھی کیا جائے گا  کہ  کسی جنگ کے بارے میں کوئی ایک ملک یہ طے نہیں کرے گا کہ یہ اس پر حملہ ہے بلکہ ایسا کوئی فیصلہ سب ممالک اپنی اپنی خود مختار حیثیت میں کریں گے۔  مثا ل کے طور پر پاکستان اگر بھارت کے ساتھ کسی تنازعہ میں ملوث ہوتا ہے تو  معاہدے کے تحت دیگر ملکوں کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کرسکتا بلکہ ترکیہ اور سعودی عرب خود مختارانہ طور پر یہ طے کرنے کے مجاز ہوں گے کہ کیا واقعی پاکستان پر حملہ ہؤا ہے اور کیا انہیں بھی اس جنگ میں ملوث ہونا چاہئے۔

دفاعی معاہدے اپنی  فطرت میں  کسی معاہدے میں شامل  رکن ممالک کی  کمٹ منٹ اور  وابستگی کی بنیاد پر  ایسے اتحاد کی ساکھ استوار کرتے ہیں۔ نیٹو اتحاد اس سلسلہ میں نمایاں مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی تنازعہ میں براہ راست فریق بنے بغیر بھی یہ الائنس دنیا کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا ہے کہ اس کے رکن ملکوں سے چھیڑ چھاڑ کا مطلب سب  رکن ممالک کو  جنگ کی دعوت دینا ہوگا۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے  ہونے  والے معاہدے کو  ایسی ساکھ قائم کرنے کے لیے کئی دہائیاں صرف ہوسکتی ہیں۔