پاکستان میں سسٹم کیوں بیٹھ گیا (3)

 کسے معلوم نہیں کہ ترقیاتی کام کروانا بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے نہ کہ ممبران اسمبلی کی لیکن یہاں رونا اتھارٹی کا ہی نہیں کمیشن کھانے کا بھی ہے۔ نالیاں یا سڑک بنا کر اپنے معصوم ووٹرز پر احسان جتلایا جاتا ہے اور جو کچھ بطور کمیشن کھایا یا جیبوں میں پایا، وہ گویا کسی کو معلوم ہی نہیں۔

رہ گئی ظالم اور شتر بے مہار بیوروکریسی تو ان کا تذکرہ ہی کیا۔ ان کی اپروچ اپنے ذاتی مفادات سے شروع ہوتی ہے اور وہیں کہیں ختم ہو جاتی ہ۔، عوام جائیں بھاڑ میں، ہر گردن میں ایسا سریا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ سسٹم کولیپس کی سٹوریاں گھڑتے ہوئے، مگرمچھ کے آنسو بہانے والوں کی خدمت میں درویش کا سوال ہے، تمہارے پاس کتنی بڑی اتھارٹی ہے؟ کیبنٹ کیا، اس کے ہیڈ کو بھی انگلیاں چڑھا یا انگلیوں پر نچوا سکتے ہو؟ ایک ایسے ہی دل جلے نے ٹھیک کہا تھا، شکر ہے وہ داخلہ پر اکتفا کر گیا، ورنہ بی بی خارجہ کیا، عظمی بھی اس کے قدموں میں ہوتی۔

اس ملک بدنصیب کو ایک طرف ہمالہ جیسے بڑے داخلی ایشوز درپیش ہیں، خدا لگتی کہو کہ ایسے حالات میں کس قدر ڈھٹائی ہے کہ اس ملک کو پارٹ ٹائم یا جز وقتی انٹیریئر منسٹر پر گزارہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی کرکٹ کی بربادی ہو گئی ہے لیکن اسے فل ٹائم چیئرمین دستیاب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ آپ سے زیادہ قابل، عقلمند، ذہین و فطین کوئی دوسرا پاکستانی اس ملک بدنصیب میں پیدا ہی نہیں ہوا۔ سچ بتاؤ جب آپ اتنے طاقتور ہو، اتنے درد مند ہو اور سسٹم کے کولیپس ہونے کا رونا روتے ہو تو کیوں مضبوط بلدیاتی ادارے منتخب نہیں کرواتے ہو؟ کیوں طلبا یونینز کی بحالی نہیں ہونے دیتے ہو تاکہ ان سے اور نئی بلدیاتی قیادت سے ہماری جواں سال نئی لیڈرشپ سامنے آ سکے۔

اختیارات کے ارتکاز کا خاتمہ ہو سکے، ہماری نئی نسلوں کی محرومیاں کسی نہ کسی حد تک دور ہو سکیں، انہیں آگے بڑہنے کے مواقع مل سکیں۔ اور نہیں تو اپنے پرویز مشرف والا ڈیوولیوشن پلان ہی ایک مرتبہ پڑھ لو، درویش تو سرکاری سطح پر اس کو پڑھاتا اور پورے پنجاب میں اس کی ٹریننگ دیتا رہا ہے۔ اگر سسٹم کیلیے اتنی دردمندی ہے تو اس پر مذاکرہ کرواؤ اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر جمہوری اسلوب کے ساتھ اسے تمام صوبوں میں لاگو کروا دو۔ پھر گراس روٹ لیول تک عوام میں اس کے نتائج دیکھ لو۔

رہ گئی نئے صوبوں کی بات، آپ اپنے زیر کنٹرول کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر باضابطہ طور پر پنجاب اور سندھ جیسا ایک نیاصوبہ تشکیل دلوا دیں، جس کی سینٹ اور نیشنل اسمبلی میں بھی نمائندگی ہو۔ وہاں کے لاکھوں عوام کا احساس محرومی بھی دور ہو جائے بلکہ وہ خوشی سے ناچنے لگیں گے۔ قومی اور عالمی سطح پر بھی اس کی تحسین ہو گی، آخر انڈیا بھی تو 370 ختم کر چکا ہے، کس نے روکا ہے اور زمینی حقائق تسلیم کرنے پر، آپ کو کون روک سکتا ہے؟ وسیع تر توڑ پھوڑ کی سوچ اذہان سے نکال دو، اس سے ملکی سلامتی و یکجہتی کیلیے ہی نہیں خود آپ کیلیے بھی ایک سو ایک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ کیونکہ آپ لوگ پہلے ہی کمزور بیساکھیوں پر کھڑے ہیں، سیاستدانوں کو آپ کے تعاون کی جتنی ضرورت ہے، وقت بدلنے کے ساتھ اس سے زیادہ آپ کو ان کی محتاجی سامنے آنے والی ہے۔

آخر میں درویش کا سوال ہے کہ اس سب میں بالخصوص مضبوط بلدیاتی سسٹم لانے میں آپ کو کیا امر مانع ہے؟ محض اس لیے کہ آپ کا اصلی ایجنڈا ہی شخصی اقتدار کا دوام ہے، نہ کہ کسی منتخب جمہوری سسٹم کا قیام۔ درویش کو آپ کی مجبوریوں کا پورا احساس و ادراک ہے، آپ کا اصل ایشو یہ ہے کہ آپ کو مضبوط دفاع درکار ہے جس کیلیے ایک بدترین ازلی دشمن دکھانا بھی مجبوری ہے۔ تاکہ اس گیریژن سٹیٹ میں آپ کی بلے بلے بنی رہے، پورا سسٹم آپ کا طواف کرتا رہے۔ اس کے لیے بھاری رقوم درکار ہیں، جن کا حصول اٹھاویں ترمیم کے موجودہ سسٹم میں مشکل ہو رہا ہے۔

سو باتوں کی ایک بات، درویش آپ کو اس کا مجرب نسخہ بتلاۓ دیتا ہے، محض ایک ہی نکتہ قابل التفات ہے۔ وہ یہ کہ جتنی جلدی ہو سکے، آپ انڈیا دشمنی کا کیڑا اپنے دماغوں سے نکال دیجیے۔ سارے مسائل حل نہ ہو جائیں، تو اس قلمکار کو جھوٹا وطن دشمن کہہ کر پھانسی پر لٹکا دیجیے۔ آپ شب و روز ٹسوے بہاتے ہیں، یہ کہ بلوچستان میں، پختونخوا میں اور اب آزاد کشمیر میں فتنتہ الہند نے اپنی پراکسیاں آپ پر چڑھا رکھی ہیں۔ ہم نے چھبیس کروڑ عوام کا تیل نکال کر یا پیٹ کاٹ کر ڈیفنس مضبوط کرنا ہے۔ درویش گارنٹی دیتا ہے کہ چھبیس کروڑ عوام خوشحال اور آپ کا دفاع پائیدار ہو جاۓ گا۔

صرف ایک بات سمجھ لو، انڈیا یا ہندو دشمنی کی روایتی منافرت اپنے دماغوں سے نکال پھینکو، دشمنی کو دوستی میں بدل دو۔ کشمیر ایشو ہی نہیں، ایک سو ایک ایشوز حل ہو جائیں گے۔ چھبیس کروڑ عوام نہ صرف سکون کا سانس لیں گے بلکہ جہنم سے نکل کر جنت میں آ جائیں گے۔