پاکستان، ہم راضی ہیں
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 11 / اگست / 2026
چند دن بعد ہم یوم آزادی منائیں گے۔ 14اگست آتے ہی کم از کم آزادی کا احساس تو ضرور ہوتا ہے۔ اب ایک صورت تو یہ ہے کہ شکوہ شکایت کا طرزِ عمل اپنایا جائے۔ وہ روایتی جملے کہے جائیں جو ہم اکثر کہتے ہیں کون سی آزادی کہاں کی آزادی، ہم تو سرتاپا غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔
79سال ہوگئے آج بھی لگتا ہے وہ منزل ابھی نہیں آئی جس کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے 1947 میں ہجرت کی تھی۔ بعض لوگ تو انتہائی عجیب اصطلاح استعمال کرتے ہیں کہ ہم گورے انگریزوں کی غلامی سے نکل کر کالے انگریزوں کی غلامی میں آ گئے ہیں مگر صاحبو! یہ تو ہر شخص کے دیکھنے کا زاویہ ہے۔ دوسرے زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تمام تر کوتاہیاں اپنی جگہ مگر ہم نے سفر تو کیا ہے۔ تبدیلی تو آئی ہے۔ فر دکو دیکھیں یا معاشرے کو وہ آگے تو بڑھا ہے جو اس وقت بوریاں نشیں تھے جب آزادی کے بعد سفر شروع کیا، وہ آج اچھے گھروں میں رہتے ہیں ۔جہاں خاک اڑتی تھی وہاں اب عالیشان سڑکیں، عمارتیں اورباغات ہیں۔ باوجود بے تحاشہ آبادی بڑھنے کے ہم نے اسے سنبھالا ہوا ہے۔ کہیں غربت ہے کہیں خوشحالی لیکن لوگ مر نہیں رہے، کم خوشیوں کے ساتھ ہی سی زندگی گزار رہے ہیں۔
تعلیم بڑھی،تعلیمی ادارے بڑھ گئے۔ شرح خواندگی میں اضافہ ہو گیا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ سات کروڑ کی آبادی 27کروڑ کو چھو رہی ہے،اس کے باوجود ہمارے ہاں کوئی قحط نہیں، زندگی گزر رہی ہے۔ میں خود اپنی طرف دیکھتا ہوں تو میرا خاندان امرتسر سے لٹا پٹا آیا تھا۔ ملتان میں ایک چھوٹا سا مکان مل گیا۔ والد چودھری عبدالحکم خان برما آرمی میں تھے۔ یہاں آئے تو نجی فیکٹری میں ملازم ہوئے۔ سات بہن بھائی اس وقت یتیم ہوگئے جب عمریں بہت کم تھیں۔ 1978 میں والد صاحب کی وفات کے بعد محنت مزدوری کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ ساتھ ہی ساتھ مشکل حالات میں تعلیم بھی جاری رکھی۔ گرمیوں میں برف اور سردیوں مونگ پھلی بیچ کر گزارا کیا لیکن یہ احساس تھا کہ اپنے ملک میں ہیں، محنت کریں گے تو راستے نکلیں گے اور پھر راستے نکلے۔سب بھائی پیروں پر کھڑے ہوئے۔ بڑے بھائی رائے محمد فاروق نے تو اس زمانے میں بہت نام کمایا۔ وہ لاہور چلے گئے تھے اور انہوں نے وہاں فلم انڈسٹری کو اپنا مسکن بنا لیا۔شریف نیئر، پرویز ملک اور حسن طارق جیسے بڑے ڈائریکٹروں کے ساتھ ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا۔ پھر خود ہدایتکار بن گئے۔ منو بھائی جیسے بڑے رائٹر کو فلم لکھنے کی طرف راغب کیا اور ان سے ’دو بھیگے بدن‘ فلم لکھوائی، جس کی ہدایتکاری خود سنبھالی۔ یہ فلم اپنے طرز کی ایک خوبصورت فلم تھی، اس کے بعد کئی فلمیں بنائیں۔
میں ایم اے کے بعد لیکچرر بن گیا، باقی تین بھائیوں کو بھی اچھی ملازمتیں مل گئیں، یوں گاڑی چل پڑی۔ وہ گاڑی جو تقسیم کے بعد والدین برے حالات میں کھینچ کر لائے تھے۔ یہ کوئی تنہا مثال تھوڑی ہے۔ ایسی لاکھوں کروڑوں مثالیں ہیں، جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ پاکستان نے شفیق ماں کی طرح اپنے بچوں کو سنبھالا ہے۔ سوچیں تو پاکستان نے ہمیں فخر کرنے کے کئی جواز پیدا کئے ہیں۔ نہ سوچیں تو پھر یہی پیٹتے رہیں کہ پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے۔کبھی اس سوال کو الٹ کرکے پوچھیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا نہیں دیا، تو جواب دینا مشکل ہو جائے۔ پاکستان میں جہاں بھی ترقی ہو مجھے خوشی ہوتی ہے۔ وہ سب شہر سب جگہیں میری ہیں، جب چاہوں وہاں جا سکتا ہوں اس پر بحث آگے ہوگی کہ یکساں ترقی کیوں نہیں ہو رہی، مگر اس بنیاد پر میں اس ترقی کو جو پاکستان کے اندر ہو رہی ہے برا نہیں کہہ سکتا۔
انسان بیس کمروں کا گھر بھی بنا لے تو اس نے رہنا تو کسی ایک کمرے میں ہوتا ہے۔ اسی طرح کا احساس پاکستان میں رہتے ہوئے بھی ہونا چاہیے۔ ہم پہاڑی علاقوں میں سیر کرنے جاتے ہیں لیکن وہاں رہنا نہیں چاہتے۔ لاہور جا کر کسی ملتانی کا دل جلد از جلد ملتان واپس آنے کو کرتا ہے۔ یہ احساسات ہیں، تاہم لاہور کی جو ترقی ہے اور جس کے بارے میں اب کہا جا رہا ہے کہ وہ ایشیا کا خوبصورت ترین شہر بن رہا ہے تو یہ بات خوشی کی ہے کہ لاہور تو ہمارا ہے، اپنا ہے۔ یہ ترقیاں اس پاکستان کی دین ہیں جو پیارا وطن ہے اس کی ترقی درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم آگے کی طرف سفر کررہے ہیں۔ ترقی معکوس کا شکار نہیں ہیں۔ میں ملتان کی جم پل ہوں۔ یہیں پیدا ہوا، یہیں پلا بڑھا، یہیں تعلیم حاصل کی اور ملازمت کا سارا عرصہ بھی یہیں گزارا۔ میں اس کے چپے چپے کا شناور ہوں۔ ستر کی دہائی میں یہ شہر تانگے پر دیکھا جاسکتا تھا۔ بس اس کی حدود اتنی ہی تھی۔ گاڑیاں نہ ہونے کے برابر اور بڑی عمارتیں خال خال، آج اس شہر کا فاصلہ تیس کلومیٹر تک پھیل چکا ہے۔ کسی بھی ایک سرے سے دوسرے تک جانے کے لئے گھنٹہ لگ جاتا ہے اور وہ بھی کا رپر۔ آج یہاں کاریں اتنی ہیں کہ کسی وجہ سے سڑک بند ہو جائے تو کئی میل لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔
اس زمانے میں ایک پل ہوتا تھا، آج انڈر پاسز اور فلائی اوورز ہیں۔ شاپنگ مالز دیکھیں تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی فراوانی ہے۔ گویا ملتان اب گرد، گرما، گڈوگورستان سے بہت آگے جا چکا ہے۔(ہاں اس بات پر شکوہ بنتا ہے کہ ہمیں قائداعظم کے بعد مخلص قیادت نہیں ملی۔ ہمیں اچھا نظام نہیں ملا) عدل و انصاف ہم سے روٹھا رہا اور اب بھی روٹھا ہوا ہے۔ ہمارے ادارے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ وہ آج بھی ناصر کاظمی کا یہ شعر پڑھتے ہیں:
وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے
اقتدار و مفادات کا ایک ایسا گٹھ جوڑ ہوا کہ جو اب تک ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ عوام کو دکھ اس بات کا نہیں کہ وہ پسماندہ علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور بڑے شہر ترقی یافتہ ہیں۔ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ ریاست انہیں تحفظ فراہم نہیں کرتی۔ ان پر کوئی طاقتور، کوئی ظالم، کوئی وڈیرا ظلم ڈھاتا ہے تو ریاست ان کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی۔ ہماری ریاست تو ایک پولیس کو ہی لگام نہیں ڈال سکی۔ اب یہ شکورہ تو جائز ہے مگر اس کے باوجود پاکستان ایک نعمت ہے۔ ایک ایسا شجر سایہ دار ہے، جس کا دور دور تک کوئی نعم البدل نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)