وزیراعظم نے ملک کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا اعلان کردیا
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا اعلان کردیا جس کے مطابق تمام لیبر فورس میں خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹا لازمی ہوگا۔ نوجوانوں کو اسٹارٹ اپ کے لیے مدد کی جائے گی۔
پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا اعلان انہوں نے نوجوانوں کے عالمی دن پر اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس ملک میں لاکھوں ذہین نوجوان موجود ہیں جنہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے تو وہ دوسروں کو پیچھے چھوڑ جائیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ امرا کے بچوں کو دنیا بھر کی درس گاہوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع موجود ہیں۔ دوسری جانب غریب والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے شدید خواہش رکھتے ہیں مگر ان کی استطاعت نہیں ہے۔ ایچی سن کالج میں غریب کا بچہ قدم بھی نہیں رکھ سکتا اسی لیے ایچی سن کالج کے مقابل دانش اسکول قائم کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید علوم سے نہ جوڑا تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔وفاقی دارالحکومت میں نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دانش سکولز کا دائرہ کار دیگر صوبوں تک وسیع کیا جا رہا ہے، صوبائی حکومتوں کو بھی اسی طرز کے معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں، اگر نوجوانوں کو جدید علوم کے سفر میں شامل نہ کیا گیا تو پاکستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا، دانش سکولز جیسے ادارے پسماندہ اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کا اپنے دورِ حکومت میں پنجاب میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور بعض لوگوں نے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کو رشوت سے تعبیر کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ تاہم آج یہی لیپ ٹاپ نوجوانوں کو جدید دور میں داخل ہونے اور جدید علوم تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے لیپ ٹاپ کو صرف ایک مشین قرار دیا، لیکن وہ اسے ایک ’مشن‘ سمجھتے ہیں، انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے اس مشن کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے، اس لیے انہیں معیاری تعلیم، جدید علوم اور ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی دینا قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔