مکے نے خاک تہران کو کیا پیغام دیا

ان دنوں مکہ جائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ بین الاقوامی امور اور میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔ پاکستان میں جہاں اس کی ستائش کے ڈنکے بجائے جا رہے ہیں، وہیں عالمی سطح پر بہت سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

ان سوالات اور دیگر عالمی خدشات پر آنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر پچھلے برس 17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب میں طے پانے والے سٹریٹجک میچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ کی ہی ایک لحاظ سے توسیع ہے۔ 7 اگست 2026 کو مکہ کے الصفہ محل میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے اسی مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں یہ طے پایا کہ ان تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ معاہدہ کسی خاص ملک کے خلاف نہیں بالخصوص سعودی عرب کی طرف سے کہا گیا کہ نہ تو یہ کوئی فرقہ ورانہ مذہبی بلاک بنانے کی کوشش ہے اور نہ ہی اس کے کوئی جوہری مقاصد ہیں۔ ترک صدر طیب اردوان کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے نہ کہ کسی پر حملہ آور ہونے کے لیے دیگر مسلم و غیر مسلم ریاستوں کے لیے بھی یہ کھلا ہے انہوں نے اس حوالے سے بالخصوص مصر کا نام لیا جو عرب ورلڈ میں دفاعی حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔

میثاقِ مکہ یا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت اس لحاظ سے واضح ہے کہ اس میں شامل تینوں ممالک اپنی اپنی فیلڈ میں اہمیت کے حامل ہیں۔ ترکیہ کے متعلق سب کو معلوم ہے کہ وہ نہ صرف نیٹو کا اہم طاقتور ممبر اور امریکی اتحادی ہے بلکہ امریکی ٹیکنالوجی کے بونافائیڈ حامل کی حیثیت سے اپنے ملک میں لڑاکا طیارے اور سوفسٹیکیٹڈ ڈرونز تیار کرتا ہے۔ اس کی دفاعی پیداوار انڈسٹری کا یورپ کو بھی ادراک ہے۔ کنگڈم آف سعودی عریبیہ آئل جیسے سیال سونے کی پیداوار سے مالا مال معاشی طور پر ایک زبردست طاقت ہے۔ اپنی سٹاک ایکسچینج میں انویسٹمنٹ کے لیے امریکی بھی سعودیہ کو للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ رہ گیا پاکستان، اکانومی کے لحاظ سے اگرچہ اس کے حالات دگرگوں ہیں لیکن ایک مضبوط آرمی کے ساتھ مسلم ورلڈ کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اگرچہ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت جوہری منتقلی یا پھیلاؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن ڈیٹرنس کے طور پر بہرحال اسے دیکھا ضرور جا رہا ہے۔

مدعا یہ ہے کہ یہ تینوں حیثیتیں اکٹھی ہو کر دفاعی حوالے سے جو پوزیشن اختیار کر سکتی ہیں، وہ ان تینوں ممالک میں رہنے والے کروڑوں عوام کو ایک نیا اعتماد، حوصلہ اور جذبہ دیں گی۔ خطے کے کسی بھی امن پسند ملک کو دفاعی حوالے سے خدشات محسوس ہوں گے تو وہ اس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ترکیہ کی مکہ معاہدہ میں شمولیت کی اہمیت اس پس منظر میں بڑی اہم ہے کہ ترک آٹومن ایمپائر نے تاریخی طور پر ایک وقت میں عربوں کے ساتھ جو زیادیاں کی تھیں بالخصوص پہلی سعودی کنگڈم کے آخری فرمانروا امام عبداللہ بن سعود بن عبدالعزیز کو محمد علی پاشا اور ابراہیم پاشا کے ذریعے گرفتار کرواتے ہوئے 1818 میں آیا صوفیہ کے سامنے سزائے موت دیتے ہوئے سر تن سے جدا کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ اس وقت وہ نجد اور درعیہ کے ہی نہیں، حجاز مقدس بشمول حرمین شریفین کے بھی حکمران تھے۔ مابعد بھی بدلے ہوئے حالات میں آٹومن ایمپائر کے حجازی امیرشریف مکہ کی بغاوت اور سعودیوں کا دوبارہ حجاز پر قبضہ ترکوں کی عربوں کے خلاف اور عربوں کی ترکوں کے خلاف بھڑاس واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کا کتنا بڑا رول ہے کہ اس نے ترکوں اور عربوں کو ایک معاہدے میں لاتے ہوئے ایک ساتھ بٹھا دیا ہے۔

اب جائزہ لیتے ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدے کی مرچیں کہاں کہاں لگی ہیں؟ اصولی طور پر تو امریکیوں کو لگنی چاہییں تھیں جن کے نااہل، ناعاقبت اندیش، تعلی باز، بڑبولے پریزیڈنٹ کی سوجھ بوجھ سے عاری پالیسیوں کے باعث نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر خلیجی اتحادی بھی اپنے ڈیفینس کے حوالے سے سخت پریشان اور مایوس ہوئے ہیں۔ وہ امریکیوں کو کیا سمجھتے تھے اور یہ نا اہل صدر کے کارن کیا نکلے؟ لہٰذا اپنے دفاع کے لیے وہ متبادل بندوبست کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ بجائے شرمندگی، خجالت اور اپنی نااہلی کے اسباب پر غور کرنے کے، اپنے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ کوئی بات نہیں، یہ تینوں ہمارے قریبی اتحادی ممالک ہیں، یہ اکٹھے ہو کر ایرانی پاسداران کا مقابلہ کر لیں گے، من پاپی حجتاں ڈھیر یا حجت گناہ بدتر از گناہ۔

سچائی تو یہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کی جتنی مرچیاں اسرائیل اور انڈیا کو لگی ہیں، ان سے سو گنا زیادہ ایرانی طاقت کے اصل مراکز کو چبھن دے رہی ہیں۔ حالانکہ ایران کی سیاسی قیادت نے اگرچہ تنقید کی ہے مگر خاصے نرم الفاظ میں جبکہ اسلامی پاسداران اور ان کے زیر اثرحلقوں کے نمائندگان نے تو پے در پے سعودی عرب پر بالخصوص اور دیگر دونوں ممالک پر بالعموم تنقید کے تیر و نشتر چلائے ہیں۔ یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ سوائے کاغذی ردی کے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر امریکا اور گلف میں اس کے دفاعی اڈے ہمیں زیر نہیں کر سکے تو یہ تینوں ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ سعودی عرب اپنی سلامتی کی جو بھیک مانگ رہا ہے، یہ معاہدہ اس کے بچاؤ کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ ایسی جلی کٹھی باتیں تو بہت ہو رہی ہیں، اسی لیے پاکستان نے خصوصی طور پر اپنے نمائندے کو ایرانی قیادت کے خدشات کم کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ بلکہ پاکستان تو بزبان اقبال یہاں تک کہہ رہا ہے کہ “مکے نے دیا خاک تہران کو یہ پیغام” کہ حضور آپ بھی اس معاہدے کا حصہ بن جائیں۔ لیکن درویش کی نظروں میں یہ ایسے ہی ہے جیسے آگ پانی یا دن اور رات کو یکجا کر دیا جائے۔ کیونکہ اصل رولا ہی ایرانیوں اور سعودیوں کے درمیان ہے۔ شاید اسی لیے عالمی سطح پر اسے سنی الائنس یا سنی ڈیفنس بلاک کا نام دیا جا رہا ہے کیونکہ شیعہ سنی کی تفریق کوئی آج تو پیدا نہیں ہوئی، چودہ صدیوں پر محیط افسوسناک طویل تاریخ ہے۔

کاش پاکستان اس پوزیشن میں ہو کہ جس طرح اس نے عربوں اور ترکوں کو ایک ساتھ بٹھا دیا ہے، اسی طرح عرب و عجم یا شیعہ سنی کو بھی قریب لا سکے جو کم از کم اس درویش کو نہیں دکھتا۔ شاید اسی وجہ سے ہمارے زیادہ تر لوگ اسے سنی الائنس کی بجائے اسلامی نیٹوکہنا قبول کر رہے ہیں یا اس پر خوش ہو رہے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدے کو اسلامی نیٹو کہنے والے اگرچہ امریکا و یورپ میں بھی کم نہیں لیکن اسرائیل اور بھارت میں اس حوالے سے زیادہ تشویش پائی جا رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس نوع کی توجیہات بھی کی جا رہی ہیں کہ اس الائنس کا کوئی مشترکہ دشمن نہیں ہے، سب کے درد اپنے اپنے ہیں۔

پاکستان کی انڈیا سے جتنی بھی دشمنی ہے، کیا سعودی عرب انڈیا سے وہ دشمنی رکھتا ہے؟ جس کی انڈیا سے تجارت پاکستان سے آٹھ گنا زیادہ ہے انڈیا اور سعودیہ کی تجارت 42 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی محض 5 ارب ڈالر، دونوں کے مشترکہ مفادات اتنے زیادہ ہیں کہ سعودی عرب کسی صورت انڈیا مخالفت پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ البتہ اسرائیل کی یہ تشویش ضرور قابل فہم ہے کہ ترک صدر طیب اردوان اگرچہ اسرائیل پر محض زبانی یا لفظی گولے پھینکتے رہتے ہیں، عملی و زمینی طور پر ایسا کچھ نہیں۔ الٹا اسرائیل کی دشمن شام میں ایرانی پراکسی بشار الاسد کا پتہ صاف کرنے میں ترکی نے پوری معاونت کی۔ اس کے باوجود اسرائیلی خدشات ہیں کہ اردوان پاکستانیوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب کو اس کی موجودہ معتدل صلح جو اپروچ سے کافی دور لے جا سکتے ہیں، لہٰذا یہ الائنس کسی وقت بھی ہمارے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ درویش کی نظروں میں اسرائیلیوں کو اتنی دور کی کوڑیاں نہیں لانی چاہئیں۔ ان کے لیے محض اتنا ہی کافی ہونا چاہیے کہ تینوں ممالک چونکہ امریکا کے قریبی اتحادی ہیں، اس لیے تسلی رکھیں کہ ابا کا دوست دشمن نہیں ہوتا۔

دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب افغانستان کہے مجھے بھی شامل کرو، متحدہ عرب امارات اس معاہدے میں شامل ہونے کی بعد تقاضا کرے کہ اس میں اسرائیل کو بھی شامل کیا جائے یا عرب جمہوریہ مصر کی قیادت اپنی شمولیت کے بعد انڈین شمولیت پر زور دینے لگے۔ جیسے کہ ماقبل او آئی سی کی ممبرشپ کے حوالے سے ہو چکا ہے۔ بہرحال ہمیں یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ ہم اسلامی نیٹو کی زیادہ تر تکرار سے پرہیز فرمائیں کیونکہ اس کا نقصان یہ ہے کہ ہم اقبال اور افغانی کی مثالیں دیتے ہوئے یہاں پان اسلامزم کا ڈھنڈورا تو خوب پیٹیں لیکن حاصل حصول زیرو جمع زیرو مساوی صفر جیسا ہو۔ دوسری طرف ہماری شدت سے حدت محسوس کرنے والی دیگر طاقتیں ضرور چوکنی ہو کر اس کا توڑ کرنے کے لیے اپنی توانائی یکجا کرنے لگیں۔ اگر ہم نے اس نوع کی زیادہ نعرے بازی کی تو عین ممکن ہے کہ اسرائیل، بھارت، سائپرس اور یونان کو ساتھ ملاتے ہوئے اپنے کچھ عرب اتحادیوں کو بھی ساتھ جوڑ لے نتیجتاً ہم کچھ کریں نہ کریں، وہ ضرور کل کلاں ہمارا مکو ٹھپ دیں۔

مکہ دفاعی معاہدے کا ایک خوشگوار پہلو یہ ہے کہ یہ جمعہ کے روز حرم شریف کے تقدس بھرے ماحول میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ دوسری خوبصورتی ماڈریٹ سعودیہ عریبیہ کی لبرل اپروچ کا اجاگر ہونا ہے۔ کراؤن پرنس محمد بن سلمان، ترک صدر طیب اردوان اور پاکستانی پرائم منسٹر شہباز شریف تینوں کو معاہدے کی دستاویزات پیش کرنے، دستخط کروانے اور مابعد اٹھانے والی تینوں نوجوان خواتین تھیں جن کے چہرے بھی حجاب میں نہیں، کھلے ہوئے مسکراتے اور قدامت پسندی کی بجائے جدت و اعتدال پسندی کی چغلی کھا رہے تھے۔