ویژن پاکستان 2047: قیام پاکستان کے 100سال
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 12 / اگست / 2026
پاکستان کو قائم ہوئے 79سال ہو چکے ہیں۔ گزری صدی میں مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ تین براعظموں تک پھیلی ہوئی عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ سانحہ عظیم تھا اس سے پہلی صدی میں مسلمانوں کی عظیم مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ عالم اسلام پر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔
برصغیر انگریزی استعمار تلے کچلا جا رہا تھا۔ ہندی مسلمانوں نے محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں کی ایک نئی ریاست قائم کر دکھائی۔ یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست تھی۔ مسلمانوں کے لئے امید کا نشان۔ آزادی کا نشان۔ استعمار کے خلاف کامیابی کا نشان۔ قیام پاکستان مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم واقع ہے۔ قیام پاکستان کے 24سال بعد پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا بلکہ پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا پاکستان توڑنے میں جہاں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی منظم سازش اور فوج کشی کا کردار ہے وہاں ہماری اپنی غلطیوں کا بھی اہم کردار ہے بہرحال 1971 میں عالم اسلام کی سب سے بڑی ریاست پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دی گئی۔ اندرا گاندھی نے نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بہرحال بچا کھچا پاکستان 73کے آئین اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ایک نئے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اس سفر میں 55سال مزید گزر چکے ہیں۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ آبادی ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے اگر اس کا درست استعمال کیا جائے۔ چین کو ہی دیکھ لیں اس نے آبادی کو تعمیر و ترقی کے ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کیا تو وہ عظیم طاقت بن گیا۔ چینی قیادت نے ہر پیدا ہونے والے چینی بچے کے منہ کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ وسائل خرچ کرے گا اور معیشت پر بوجھ بنے گا بلکہ اس کے دو ہاتھوں کی طرف توجہ دی جسے بروئے کار لا کر معیشت میں بڑھوتی لائی جا سکتی تھی۔ چینی قیادت نے دو ہاتھوں کو استعمال کیا اور معاشی تعمیر و ترقی کا ذریعہ بنایا۔ انڈیا، انڈونیشیا وغیرہ کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں جہاں آبادی، افرادی قوت بنی اور ملک معاشی طور پر ترقی کرتا چلا گیا۔
پاکستان صرف زبانی طور پر بھی عطیہ خداوندی نہیں ہے بلکہ اس کی آبادی کا 67فیصد 30سال سے کم عمر کے شہریوں پر مشتمل ہے۔ گویا پاکستان عملاً بھی عطیہ خداوندی ہے خدا نے اسے کارآمد افرادی قوت سے مالامال کر رکھا ہے اس کی 26یا 27فیصد آبادی 15-29سال کے نوجوانوں پر مشمل ہے یہ ایک بہت بڑی کارآمد افرادی قوت ہے جسے استعمال کرکے بروئے کار لا کر معاشی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ابھی تک کوئی ایسا حکومتی یا ریاستی نظام ترتیب ہی نہیں دے سکے،جو افرادی قوت کو بروئے کار لا کر پیداواری مشین میں تبدیل کرسکے۔ ہم 1947تا 1956یعنی 9سال تک آئینی موشگافیوں میں ہی پڑے رہے کہ ریاست اور فرد کے درمیان تعلق کی بنیاد آئین کس طرزکا ہوگا۔ اسلامی ہوگا یا لادینی۔9سال بعد جو دستور العمل 56کے آئین کی شکل میں ترتیب دیا گیا ،وہ دو سال ہی چل سکا اور 1958 میں جنرل ایوب خان نے آئینی ریاست کی بساط لپیٹ کر مارشل لالگا دیا پھر 1962 میں ایک آئین بنایا گیا جو 1969 میں خود جنرل ایوب نے لپیٹ دیا اور ملک ایک بار پھر یحییٰ خان کے مارشل لامیں گھر گیا جو 1971کے سانحہ مشرقی پاکستان پر منتج ہوا۔
73کے آئین کو بنے 53سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران ہم جنرل ضیا الحق کا مارشل لاءبھی بھگت چکے ہیں۔ افغان جہاد اور سوویت یونین کا خاتمہ اسی دور کی یادیں ہیں۔ پھر جنرل مشرف کامارشل لاء اور دہشت گردی کے خلاف امریکی عالمی جنگ بھی ہم بھگتا چکے ہیں۔ امریکہ کی افغانستان سے پسپائی اسی دور کی یادیں ہیں۔ اب ہم ایران امریکہ جنگ بھگتا رہے ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک یا بغاوت اور خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور القاعدہ و داعش کی دہشت گردی بھی نمٹا رہے ہیں۔ کہنے کو ہم عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہیں ہم نے اپنے دیرینہ دشمن بھارت کو حال ہی میں ناکوں چنے چبوا کر دنیا پر اپنی عسکری برتری ثابت کر دی ہے ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں ہیں ہم دشمن کو ناکوں چنے چبوانے پر قدرت رکھتے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہیں،ہار نہیں مانیں گے ہم انہیں نابود کرکے ہی دم لیں گے۔ یہ سب کچھ درست ہے لیکن بحیثیت قوم ہم کہاں کھڑے ہیں۔
گزرے 55 سالوں کے دوران سقوط ڈھاکہ کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی صورت میں دو بڑی موروثی جماعتیں پاکستان کے سیاسی و ریاستی منظر پر چھائی ہوئی ہیں۔ 55سالہ تاریخ انہی سیاسی جماعتوں کی کارکردگیوں اور ناکارکردگیوں کا فسانہ ہے۔ عمران خان کی پی ٹی آئی ایک نووارد جماعت ہے لیکن اس نے سیاست میں ہی نہیں پاکستان کی ثقافت میں کچھ اس طرح سے غدر مچا دیا ہے کہ الامان۔ الحفیظ۔ انہوں نے پہلے ریاست کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو سپردخاک کرنے کی بڑی حد تک کامیاب کاوشیں کیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے عمران خان کو سپردخاک کرنے کا منصوبہ روبہ عمل آ گیا۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا اتحاد اور موجودہ ہائبرڈ سیٹ اپ اسی منصوبے کا کمال ہے لیکن بیرونی محاذ پر شاندار کامیابیوں کے باوجود معاملات چلتے اور آگے بڑھتے نظر نہیں آ رہے۔
ویژن پاکستان2047 پاکستان کے سو سال پورے ہونے میں ابھی 21سال باقی ہیں۔ ہم اپنی نوجوان نسل کو، موجودہ نسل کو یقینا ایک عظیم الشان قوت کی شکل دے سکتے ہیں۔ ہمارے نوجوان فعال ہیں ہمارے پاس قدرتی وسائل کی بھی بہتات ہے لیکن ایک نظام چاہیے جو یہ سب کچھ مرتب کرسکے ۔ہم ابھی تک اس نظام کے بارے میں متفق نہیں ہو سکے۔ موجودہ نظام کی ناکامی کی باتیں ہو رہی ہیں،کچھ درست بھی ہیں۔ہمارا موجودہ نظام نتائج پیدا نہیں کر پا رہا لیکن قوم کو جو نسخہ تجویز کیا جا رہاہے وہ کارگر نہیں ہو گا جب تک اس پر سب کا اتفاق نہ ہو سکے۔ لگتا ہے آنے والے 21سال بھی ایسے ہی گزر جائیں گے اور 2047کے وقت بھی ہم ایسا ہی کچھ لکھ رہے ہوں گے۔ پاکستان کو قائم ہوئے سو سال ہو چکے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)