عوامی سطح پر انکار کے باوجود افغان حکومت ٹی ٹی پی حمایت کررہی ہے: اقوام متحدہ

  • جمعرات 13 / اگست / 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے افغان طالبان حکام کی حمایت جاری ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافے کے ردعمل میں دونوں ملکوں، افغانستان اور پاکستان، کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم نے تیار کی ہے جسے 10 اگست کو شائع کیا گیا ہے۔ اور اسے نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش)، القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے متعلق قائم کردہ سلامتی کونسل کی کمیٹی میں جمع کروایا گیا ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب 15 اگست کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے پانچ سال مکمل ہونے والے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں جنوبی ایشیا میں شدت پسند گروہوں کا خطرہ بڑھا ہے اور ’جنوبی ایشیا میں علاقائی کشیدگی بلند سطح پر رہی ہے، کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملے جاری ہیں۔‘

افغانستان میں عملی طور پر اقتدار میں موجود حکام (طالبان) نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے اپنی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا ہے اور اس سے (دونوں ملکوں کے درمیان) فوجی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان ’عوامی سطح پر مسلسل دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کی تردید کرتے ہیں۔ مگر رُکن ممالک نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ یہ تنازع دہشت گرد گروہوں کے لیے مواقع پیدا کر سکتا ہے جس سے خطے کے لیے اضافی سکیورٹی چیلنجز جنم لے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے لیے افغان طالبان کی حمایت کا ذکر کیا گیا تھا۔