کراچی اور لاہور پولیس میں مقابلہ
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 13 / اگست / 2026
ایسا لگ رہا ہے کراچی پولیس اور لاہور پولیس کے درمیان نااہلی کا مقابلہ چل رہا ہے۔ کراچی میں میر رضا کیس اور لاہور میں تھانے کے اندر دو لڑکیوں کی ہلاکت، دونوں صوبوں کے دارالحکومتوں کی پولیس کے لئے دردِ سر بن گئے ہیں۔
بس فرق صرف اتنا ہے کہ کراچی میں نوجوان میر رضا کو انصاف دلانے کے لئے سڑکوں پر ہیں،اس کا والد اور وکیل جبران ناصر پوری طرح ناانصافی اور مجرمانہ غفلت کے بخیئے اُدھیڑ رہے ہیں لیکن لاہور ان لڑکیوں کے معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ صرف سوشل میڈیا پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے بالآخر مجبور ہو کر لاہور پولیس کے سربراہ کو پریس کانفرنس کرنی پڑی ہے۔تاہم وہ اس معاملے میں کسی کو بھی مطمئن نہیں کر سکے کیونکہ سوالات اتنے واضح اور نوکیلے ہیں کہ اُن کا جواب دینے کے لئے سوائے سچ کا راستہ اختیار کرنے کے اور کوئی راستہ نہیں، مگر فی زمانہ کے سچ پولیس والے تو بول ہی نہیں سکتے۔ اس کا اندازہ کراچی میں ہو چکا ہے جہاں آئی جی سے لے کر نچلی سطح کے تفتیشی تک سب جھوٹ کا بول بالا کرتے رہے۔
میر رضا کیس کی جس دن نعش ملی تھی، اُس کے بعد سے لے کر دوسرے پوسٹ مارٹم تک کراچی پولیس نجانے کس لئے اور کس کو بچانے کی خاطر اُس کی موت کا سبب خود کشی کو قرار دیتی رہی۔ حتیٰ کہ پولیس سرجن خاتون نے بھی کہہ دیا پوسٹ مارٹم درست نہیں ہوا،مگر کراچی پولیس کے افسر صاحبان ٹس سے مس نہ ہوئے،جس کے بعد میر رضا کے والد نے جبران ناصر کے توسط سے عدالت میں دوسرے پوسٹمارٹم کی درخواست گزاری۔ اس پر بھی سندھ حکومت اور سندھ پولیس حیران کن حد تک ایسی حرکتوں کی مرتکب ہوئی کہ صاف لگ رہا تھا کہ کچھ کالا ضرور ہے۔ میڈیکل بورڈ حیدر آباد اور جامشورو کے ڈاکٹروں کا بنا دیا اور تعداد بھی آٹھ سے پانچ کر دی۔
کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے شہر میں کیا ڈاکٹروں کا کال پڑ گیا تھا،جس کی وجہ سے حیدر آباد کے ڈاکٹروں کو بلانا پڑا۔ یہ سوال میر ر ضا کے والد نے اٹھایا تو اُس کی سنی نہ گئی، اس کے لئے پھر عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ پھر جب آٹھ ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا تو تمام شواہد سامنے آ گئے اور میر رضا کے قتل کی تصدیق کر دی گئی ۔جب یہ رپورٹ سامنے آ گئی تو کراچی پولیس کے افسروں کی بھی ساری کہانی بکھر گئی۔ اس پر تین بڑے افسروں کے استعفے بنتے تھے لیکن ایسی جرأتِ رندانہ اور غیرت ناپید ابھی پاکستان میں مفقود ہے۔ قتل کی دفعہ شامل کر لی گئی تاہم قاتل کو ڈھونڈنے کی سرگرمی ابھی تک نظر نہیں آ رہی،اس دوران شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے خفیہ ہاتھ بھی متحرک رہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ نعش میر رضا کی نہیں وہ لوگوں کے پیسے لے کر روپوش ہو گیا ہے۔ لیکن ڈی این اے کی رپورٹ والد سے مل گئی یوں یہ حربہ بھی ناکام رہا۔
اب اس عجیب بات کو تو پورے ملک کے عوام نے محسوس کیا ہے کہ کراچی پولیس نجانے کس کے ایما پر اس کیس کو حل کرنے کی بجائے اُلجھا رہی ہے، وہ اسے دبانے میں کامیاب بھی ہو جاتی مگر کراچی کے نوجوانوں نے اُس کے سارے منصوبے اُلٹ دیئے۔ سندھ حکومت کو بھی بیک فٹ پر لا کھڑا کیا۔ وہ آج بھی سڑکوں پر میر رضا کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں ۔اس کیس کو جتنا تاخیری حربوں سے دبایا جا رہا ہے اتنا ہی اُبھر رہا ہے اور شکوک کے سائے سندھ کی بہت بڑی شخصیات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔دوسری طرف کراچی کے نوجوانوں کو بھی اکٹھے ہونے کا موقع مل رہا ہے ،یہ تحریک کسی اور طرف بھی جا سکتی ہے اور جنریشن زی جسے بھارت کے نوجوانوں نے کاکروچ کا نام دیا اگر اس چنگاری سے شعلہ بن گئی تو پھر میر رضا اس ناانصافی پر مبنی نظام کے لئے بھی ڈراؤنا خواب بن جائے گا۔
اب آتے ہیں لاہور پولیس کی طرف، اُس نے بھی اپنی فورس کے وقار کو مٹی میں رولنے کی حد کر رکھی ہے۔ یہاں بھی جو معاملہ رضا ڈار کی وجہ سے پولیس کے لئے ہزیمت کا باعث بنا تھا، وہ آگے بڑھتے بڑھتے اُس کے اخلاقی زوال کو بھی ظاہر کرنے تک آ گیا ہے۔ پہلے تھانہ غازی آباد میں ایک ذہنی معذور لڑکی سے ایک تھانیدار نے زیادتی کی، بات سامنے آئی تو لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن نے پورا تھانہ معطل کر دیا ۔اے ایس آئی کو ہتھکڑیاں لگ گئیں اور تھوڑی سی واہ واہ بھی ہو گئی۔ ڈی آئی جی آپریشن نے جلدی میں یہ حکم بھی جاری کر دیا کہ مغرب کی نماز کے بعد کوئی خاتون تھانے نہیں لائی جائے گی، اس حکم نے اس بحث کو جنم دیا کہ کیا پولیس نے اس بات کو مان لیا ہے۔ مغرب کے بعد تھانے خواتین کے لئے محفوظ نہیں ۔ابھی اس معاملے سے جان چھوٹی نہیں تھی کہ تھانہ ٹاؤن شپ کی خبر آ گئی، جس میں دو لڑکیاں ایک ہی وقت میں مر گئیں۔ اب جھوٹی کہانیاں گھڑنے کا سلسلہ پھر شروع ہوا، پہلے کہا گیا زیادہ نشے کی وجہ سے مرگئیں، پھر خود ہی پوسٹ مارٹم کرا کے اُن کے ہارٹ اٹیک سے مرنے کی خبر جاری کی گئی۔جب ہر طرف سے تنقید ہوئی کہ ایک ہی وقت میں دو لڑکیوں کو ایک ہی جگہ دِل کا دورہ کیسے پڑ سکتا ہے تو نئی تدبیروں کی ضرورت پڑ گئی۔
اتنا بڑا واقعہ ہو گیا، لاہور پولیس کے سربراہ اور ڈی آئی جی کئی دن چپ سادھے بیٹھے رہے مگر جب یہ بات تواتر سے ہونے لگی کہ خواتین تو چیف منسٹر مریم نواز کی ریڈ لائن ہیں پھر یہ واقعہ کیسے ہوا تو پولیس والے پوسٹ مارٹم کی آڑ والی پرانی کہانی اٹھا لائے۔ پوسٹ مارٹم کیسے ہوتے ہیں ،اس کا اندازہ کراچی میں ہو چکا ہے۔ پولیس نے نعشیں اپنے قبضے میں کیوں رکھیں، کیوں بھاری نفری اُن کی تدفین کے لئے پاکپتن گئی، کیوں جلد دفنانے پر زور دیا، آخر دِل کا دورہ پڑا تھا تو اتنی احتیاط کیوں کی گئی۔ اس کیس میں بہت کچھ چھپا ہوا ہے اور مریم نواز کی طرف وہ جھگی نشین دیکھ رہے ہیں جن کی بٹیوں کو مار کر انصاف بھی نہیں دیا جا رہا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)