ہم سب کے اندر کا جانور 47 میں کیوں جاگا

سن 1974  کی ایک شام اٹلی کے شہر نیپلز کے آرٹ سٹوڈیو میں ایک عجیب تماشا ہوا۔ ایک اٹھائیس سالہ فنکارہ، مرینا ابراموویچ، کمرے کے وسط میں بت بنی کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنے سامنے میز پر 72 مختلف اشیا رکھ دیں۔

ان چیزوں میں گلاب کا پھول، پرندے کا پر، شہد، انگور وغیرہ تھے، مگر ساتھ ہی قینچی، بلیڈ، چھری، کیل تھے اور ایک پستول بھی تھا جس کے ساتھ ایک گولی بھی رکھی تھی۔ دیوار پر ایک اعلان چسپاں تھا کہ اگلے چھ گھنٹے میں آپ ان چیزوں میں سے جو چاہیں اٹھائیں اور میرے ساتھ جو چاہیں کریں، تمام ذمہ داری میری ہو گی۔ گویا اس عورت نے تماشائیوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ آج تمہارا کوئی احتساب نہیں ہو گا۔ پہلے گھنٹے میں لوگ شرمائے شرمائے رہے۔ کسی نے گلاب تھما دیا، کسی نے گال چوم لیا، کسی نے پانی پلا دیا۔ مگر پھر جوں جوں وقت گزرا اور لوگوں کو یقین آتا گیا کہ یہ عورت واقعی مزاحمت نہیں کرے گی اور ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا تو انسانوں کی وہ پرت اترنا شروع ہوئی جسے ہم تہذیب کہتے ہیں۔

کسی نے قینچی سے اس کے کپڑے کاٹ ڈالے، کسی نے بلیڈ سے اس کی گردن پر زخم لگایا، کسی نے گلاب کے کانٹے اس کے پیٹ میں چبھو دیے اور بالآخر ایک صاحب نے پستول میں گولی ڈال کر اس کے ہاتھ میں تھمائی اور ُرخ اُس کی اپنی گردن کی طرف کر دیا۔ اس موقع پر ہال میں موجود چند لوگوں کی غیرت جاگی اور انہوں نے مداخلت کی ورنہ فن کی تاریخ اس شام ایک لاش اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی۔ چھ گھنٹے مکمل ہوئے تو مرینا نے حرکت کی اور تماشائیوں کی طرف چل پڑی۔ مگر وہ لوگ جو چند منٹ پہلے تک اس کے جسم پر بلیڈ چلا رہے تھے، اُس کے آگے بڑھتے ہی ہال سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب تک وہ بے جان شے تھی، سب شیر تھے، جوں ہی وہ دوبارہ انسان بنی، کسی نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کی۔ مرینا نے برسوں بعد اس تجربے کا نچوڑ ایک فقرے میں بیان کیا کہ اگر آپ فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیں تو وہ آپ کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔

جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو سوچا کہ آخر ان چھ گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا جس نے انسانوں کو حیوانوں میں بدل دیا۔ نیپلز کے اُس سٹوڈیو میں کوئی جرائم پیشہ لوگ جمع نہیں تھے، یہ فن سے دلچسپی رکھنے والے پڑھے لکھے شائستہ لوگ تھے، وہی لوگ جو گھر جا کر بچوں کو پیار کرتے ہیں، بوڑھی ماں کا حال پوچھتے ہیں اور اتوار کو گرجا گھر میں سر جھکاتے ہیں۔ پھر انہوں نے مرینا کو لہولہان کیوں کر دیا؟ جواب بہت خوفناک ہے۔ اُن چھ گھنٹوں میں صرف ایک چیز تبدیل ہوئی تھی، احتساب کا خوف ختم ہو گیا تھا۔ جس لمحے انسان کو یقین ہو جائے کہ اس سے کوئی نہیں پوچھے گا، اس لمحے اس کے اندر بیٹھا جانور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

تہذیب دراصل کوئی اندرونی خوبی نہیں، یہ ایک باریک سا خول ہے جو قانون کے ڈنڈے، سماج کی نظر اور خدا کے خوف سے قائم ہے۔ یہ تینوں پہرے دار سو جائیں تو اندر کا قیدی خول سے باہر نکل آتا ہے۔ سائنس دانوں نے یہ تجربہ اپنے انداز میں بھی کیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکی ماہر نفسیات سٹینلے ملگرام نے عام شہریوں سے کہا کہ وہ ایک تجربے کے دوران دوسرے کمرے میں بیٹھے شخص کو غلط جواب پر بجلی کے جھٹکے دیں۔ حکم دینے والا سفید کوٹ پہنے ایک شخص تھا اور بس یہی کافی تھا۔ لوگوں کی اکثریت جھٹکوں کی شدت بڑھاتی چلی گئی حالانکہ دوسری طرف سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ چند سال بعد سٹینفرڈ یونیورسٹی میں طلبہ کو قیدی اور جیلر بنا کر ایک نقلی جیل بسائی گئی تو جیلر بنے ہوئے شریف لڑکے چند ہی دنوں میں ایسے ظالم بن گئے کہ تجربہ وقت سے پہلے بند کرنا پڑا۔ ان تجربات پر بعد میں طریقہ کار کے حوالے سے اعتراضات بھی ہوئے، مگر بنیادی سبق وہی رہا جو مرینا کے سٹوڈیو میں ملا تھا۔ ظلم کرنے کے لیے باقاعدہ ظالم ہونے کی سند ضروری نہیں، صرف موقع درکار ہے۔ اور اگر موقع اگر کسی قوم کو اجتماعی طور پر مل جائے تو کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں اٹلی جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس سن 47  ہے۔

بٹوارے کے ہنگام جو کچھ پنجاب اور بنگال میں ہوا وہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق پچھتر ہزار سے ایک لاکھ کے قریب عورتیں اغوا ہوئیں، حالانکہ میرا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی کیونکہ بے شمار خاندانوں نے عزت کے خوف سے رپورٹ ہی درج نہیں کروائی اور کچھ ایسی بھی تھیں جو مل تو گئیں مگر اب وہ دوسروں کی ’بیویاں‘ بن کر بچے پیدا کر چکی تھیں، سو اُن بیچاریوں نے جانے سے انکار دیا۔ مگر ان اعداد و شمار سے زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ یہ سب کرنے والے کون تھے۔ یہ کوئی باہر سے آئے ہوئے حملہ آور نہیں تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جو نسلوں سے ایک دوسرے کے پڑوس میں رہ رہے تھے، جن کے بچے اکٹھے کھیلتے تھے، جو ایک دوسرے کی شادیوں میں شامل ہوتے اور جنازوں کو کندھا دیتے تھے۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ غلام غوث نے اپنے یار کرتار سنگھ کی بیٹی اٹھا لی اور کرتار سنگھ کے بھائیوں نے غلام غوث کا محلہ جلا دیا؟

ہوا وہی جو نیپلز کے سٹوڈیو میں ہوا تھا، بس پیمانہ بدل گیا۔ ریاست تحلیل ہو چکی تھی، پولیس اور فوج خود تقسیم ہو رہی تھی، عدالتیں معطل تھیں، حکومت ناپید تھی اور ہر شخص کو یقین تھا کہ اب کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اوپر سے مذہبی جنون نے یہ سہولت بھی فراہم کر دی کہ ظلم کو فرض کا درجہ مل گیا۔ جس شخص کو یقین ہو جائے کہ دوسرے کی بہو بیٹی اٹھانا نہ صرف جرم نہیں بلکہ اپنے مذہب اور اپنی قوم کی خدمت ہے، اس کے ہاتھ کون روک سکتا ہے۔ مرینا کے تماشائیوں کے پاس تو صرف احتساب سے آزادی تھی، 47  کے بلوائیوں کے پاس احتساب سے آزادی کے ساتھ ساتھ ثواب کی امید بھی تھی۔ نتیجہ یہ کہ چھ گھنٹے کا تجربہ چھ مہینوں پر پھیل گیا اور بلیڈ کی جگہ کرپانوں، چھریوں اور جلتی ہوئی مشعلوں نے لے لی۔

منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘ یاد آ گیا۔ بوڑھا سراج الدین بلوے میں اپنی جوان بیٹی سکینہ سے بچھڑ جاتا ہے اور کیمپ میں رضاکاروں کی منت کرتا ہے کہ میری بچی کو ڈھونڈ دو۔ رضاکار سکینہ کو ڈھونڈ بھی لیتے ہیں مگر باپ تک پہنچانے کے بجائے خود اس پر وہ قیامت ڈھاتے ہیں کہ قلم لکھتے ہوئے کانپتا ہے۔ افسانے کے آخر میں نیم مردہ سکینہ ہسپتال پہنچتی ہے تو ڈاکٹر کھڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کھول دو، اور کئی ہفتوں کی اذیت کی ماری وہ لڑکی بے ہوشی کے عالم میں اپنے ازار بند کی طرف ہاتھ لے جاتی ہے۔ باپ خوشی سے چلا اٹھتا ہے کہ میری بیٹی زندہ ہے اور ڈاکٹر پسینے میں نہا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی ادب میں دو لفظوں کا اتنا خوفناک استعمال شاید ہی ہوا ہو۔

تو پھر کیا انسان بنیادی طور پر بدی کا منبع ہے؟ میں اتنا قنوطی نہیں۔ اسی نیپلز کے سٹوڈیو میں وہ لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے پستول والے کو گولی چلانے سے روکا اور 47  میں بھی وہ ہندو، سکھ اور مسلمان موجود تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر پڑوسیوں کو گھروں میں پناہ دی اور سرحد پار پہنچایا۔ تقسیم کے یہ دردناک قصّے، منٹو، کرشن چندر اور بیدی کے لہو ٹپکاتے قلم ہی سے نکل سکتے تھے۔ سن 47  کا گھاؤ اتنا گہرا ہے کہ سُرخا سُرخ خون کی دھار اب تک بہہ رہی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)