بلوچستان کے وزیر داخلہ دہشت گرد حملے میں محفوظ رہے
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کے قافلے پر ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ان کے سکواڈ کے چھ اہلکار زخمی ہوگئے۔ تاہم وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق میر ضیا اللہ لانگو قلات میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر مستونگ کے شہید نواب غوث بخش میموریل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد بعض زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ روانہ کردیا گیا۔
وزیر داخلہ ایک روز قبل قلات پہنچے تھے، جہاں انہوں نے پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر ڈی سی کمپلیکس میں منعقدہ تقریب میں پرچم کشائی کی تھی۔ تقریب کے اختتام پر وہ اپنے قافلے کے ہمراہ کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ راستے میں یہ حملہ پیش آیا۔ بی بی سی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ حملہ آور سڑک کے دونوں اطراف موجود باغات میں چھپے ہوئے تھے اور قافلے کے علاقے میں پہنچتے ہی انہوں نے شدید فائرنگ شروع کردی۔ حملہ آور باغوں کے اندر موجود تھے اور دونوں جانب سے ہماری گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
وزیر داخلہ کے مطابق ان کے سکواڈ نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے اور حملے کے دوران ان کی بلٹ پروف گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ کے شیشے پر پانچ گولیاں لگیں۔
میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ اللہ کے فضل سے وہ محفوظ رہے، تاہم سکواڈ کے اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے انہیں خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا اور حکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
ریاست مخالف عناصر اور ان کے مبینہ بیرونی سرپرست اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
دریں اثنا، محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ قافلے کے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کردیا۔ ان کے بقول حملے کا مقصد علاقے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا، تاہم سکیورٹی فورسز ایسے عناصر کے عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
دریں اثنا کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس آج دوسرے روز بھی معطل رہی جبکہ کوئٹہ سے ٹرین سروس کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس گذشتہ روز دوپہر معطل کی گئی تھی جو کہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔
سرکاری سطح پر انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم گزشتہ اتوار کو جب کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی تو وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی تھی۔