آزادی کا جشن اور احساسِ زیاں

ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا جب سے طبیب کے ساتھ ادیب بنے ہیں چھکے پہ چھکا مار رہے ہیں۔ پچھلے دِنوں امریکہ گئے، وہاں بیٹھ کے بھی تخلیق کے معجزے دکھاتے رہے۔ اب انہوں نے یوم آزادی کے حوالے سے ایک توشہ خاص بھیجا ہے اس میں حب الوطنی دریا تو بین ا لسطور بہہ رہی رہا ہے۔

لیکن جو انہوں نے اپنے اندر کے درد کو لفظوں میں سمویا ہے وہ شاید ہم سب کے دِل کی آواز ہے۔ وہ آواز جو ہم سننا نہیں چاہتے، حالانکہ ہماری سماعتوں سے یہ آواز بار بار ٹکرا رہی ہے۔آیئے اس فن پارے سے فکرو نظر کو جھنجھوڑتے ہیں:

’یہ کیسی آزادی ہے، کہ بازار مہنگا، انصاف مہنگا، حفاظت بھی قیمت مانگتی ہے اور علاج بھی دسترس سے باہر ہے۔یہ کیسی آزادی ہے کہ روٹی کیلئے قطار ہے،حق کیلئے سفارش ہے اور سکون کیلئے انسان اپنے ہی گھر میں بے قرار ہے۔ہم نے آزادی تو پا لی، مگر شاید خود مختاری بھول گئے، ہم نے پرچم تو لہرا لئے، مگر اپنے فیصلے کرنا بھول گئے۔اب ہم کسی مسیحا کے منتظر ہیں،کسی امام کے آنے کی اُمید میں، کسی معجزے کی دُعا لئے، خاموش بیٹھے ہیں ۔ہم کہتے ہیں کوئی آئے اور اس ملک کو ٹھیک کر دے،مگر کون آئے گا؟ اور کب تک آئے گا؟ جو قومیں اپنے ہاتھوں سے اپنی تقدیر نہیں لکھتیں، وہ صدیوں تک نجات دہندوں کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔ مسیحا شاید باہر نہیں، ہم میں ہی کہیں سویا ہوا ہے۔ بس اُسے جگانے کیلئے، قوم کو اپنے اندر کا خوف مارنا ہو گا، اپنی خاموشی توڑنا ہو گی اور یہ سمجھناہو گا، آزادی صرف پرچم کا نام نہیں۔ آزادی وہ دن ہے جب انصاف نہ بکتا ہو، علاج، دولت کا محتاج نہ ہو،حفاظت خریدنا نہ پڑے اور عام آدمی سکون سے سانس لے سکے۔ ورنہ یہ آزادی نہیں صرف آزادی کا جشن ہے اور ہم جشن مناتے ہوئے اپنی محرومیوں کا ماتم کرتے رہیں گے‘۔

میں نے جب یہ تحریر پڑھی تو سوچا ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا نے یہ سب کیوں لکھا، وہ تو ایک کامیاب،خوشحال اور اُن فکروں سے آزاد آدمی ہیں جن کا ذکر انہوں نے اپنی تحریر میں کیا ہے؟ مگر پھر مجھے خیال آیا، ایک حساس دِل کا مالک تخلیق کار صرف اپنے بارے میں تو نہیں سوچتا، وہ تو معاشرے کی اجتماعی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے اور اس کی رفتار سے اندازہ لگاتا ہے ٹھیک چل رہی ہے یا اُس  میں کوئی رخنہ ہے۔اب کوئی آنکھیں چرانا چاہے تو بے شک چرا لے،مگر 79 ویں یوم آزادی تک پہنچتے پہنچتے حالات تو وہی ہیں جن کا اوپر بیان ہوا ہے ہم اس حوالے سے تو آزاد ہیں کہ ہمارے پاس ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ہماری جغرافیائی آزادی کو کوئی چیلنج درپیش نہیں،اس کے لئے پوری قوم بند مٹھی کی طرح ایک ہے۔مگر جس آزادی کی ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا نے بات کی ہے وہ ہماری داخلی و معاشرتی آزادی ہے۔ بلاشبہ اس آزادی پر کئی سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔ آزادی کوئی کیک نہیں کہ جس میں سے کوئی زیادہ لے جائے اور کسی کو ملے ہی نہ، آزادی ایک احساس ہے جو یکساں طور پر ادنیٰ و اعلیٰ کے دِلوں میں نہ ابھرے تو آزادی اپنا جواز کھو دیتی ہے۔

ہم نے1973کے آئین میں کئی بنیادی حقوق لکھ دیئے،مگر اُن پر عمل نہیں ہونے دیا، جو بالادست ہیں اُنہیں وہ حقوق مل گئے اور جو بے دست و پا ہیں وہ اُن کیلئے ترستے اور ٹکریں مارتے رہے اور آج بھی مار رہے ہیں۔ ریاست جب آزادی کا احساس دلاتی ہے تو تحفظ پہلے دیتی ہے۔ آج ہمیں تحفظ مانگنا پڑتا ہے اور وہ بھی نہیں ملتا۔ وہ ادارے ہی جو تحفظ دینے کے ذمہ دار ہیں اپنے عملی اقدامات سے شہریوں کو عدم تحفظ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔حالیہ دِنوں میں جو کچھ ہوا، جو جائے امان نہیں تھی، وہ جس طرح عذاب جان بنی، اُس نے اس احساس کو پھر دوچند کر دیا کہ ہم بھٹک گئے ہیں۔  ہم انفرادی آزادی اور انفرادی حقوق کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ یہ سوچ پروان چڑھ چکی ہے کہ آزادی پر میرا حق ہے، باقی لوگ آزادی سے محروم رہتے ہیں تو یہ میری ذمہ داری نہیں۔طبقاتی کشمکش ہر معاشرے میں ہوتی ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ ریاست کے ان تصورات کو ہی بدل دیا جائے جو اسے ریاست بناتے ہیں۔ ریاست کو ہر معاشرے میں ماں کا درجہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ ماں ہی ہوتی ہے جو اپنے بچوں میں حقوق کے حوالے سے تفریق نہیں کرتی مگر ہم نے تو ریاست کا یہ مرتبہ بھی چھین لیا ہے۔غریبوں اور امیروں کیلئے علیحدہ قانون یا اُس کا نفاذ ایک ایسا فعل ہے جو نہ صرف معاشرے کی یکجہتی کو متاثر کرتا ہے بلکہ طبقاتی نفرت کی دیواریں بھی کھڑی کر دیتا ہے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ ہم قیام پاکستان کے بعد حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت سے محروم ہوئے تو تب سے کسی مسیحا کے انتظار میں ہیں ۔اِس دوران ہم نے کئی مسیحا بنائے اور کئی اُترتے دیکھا، مگر وہ تو پانی کا بلبلہ ثابت ہوئے۔اپنا اپنا وقت گزار کر اور آزادی و حقوق کی صورتحال کو مزید خراب کر کے چلے گئے۔آپ پچاس سال پہلے کا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیں اُس میں لوڈشیڈنگ کی بات بھی ہو گی اور غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کا تذکرہ بھی،  ’انصاف کو یقینی بنایا جائے گا‘ جیسی سرخیاں بھی ملیں گی اور یہ بھی نظر آئے گا کہ عوام کے بنیادی حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ہو جو کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھوم رہی ہے۔ علاج معالجہ کی سہولت آج بھی غریبوں کا خواب ہے اور کل بھی تھا۔ سستا اور فوری انصاف آج بھی ناپید ہے کل بھی غائب تھا۔ ایسے میں کوئی مسیحا، کوئی امام کیسے آ سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا نے درست کہا ہے، جب تک ہم اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر پر نہیں لکھیں گے مسیحا کی خواہش بس خواب ہی رہے گی۔ کچھ خرابیاں تو بطور قوم ہم میں بھی ہیں کہ یہاں مسیحا نہیں اُتر رہا اور ہم جشن مناتے ہوئے اپنی محرومیوں کا ماتم بھی کر رہے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)