پاکستان کے لیے آگے کا راستہ کیا ہو؟

دھوم دھام سے یوم آزادی منانے کے بعد  اہل پاکستان کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ  اب آگے کا راستہ کیسے ہموار کیاجائے۔ اس موقع پر ملک بھر میں  سامنے آنے والی آرا میں یہی امید کی گئی ہے کہ بالآخر یہ ملک بھی جمہوریت اور خوشحالی کا سفر شروع کر سکے گا۔ البتہ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ یہ عجوبہ کیسے رونما ہوگا۔

اس حوالے  سے درپیش مشکلات میں سب سے بنیادی مسئلہ تو عوام اور  حکمرانوں کی سوچ اور ترجیحات میں تفادت ہے۔ عوام  جن مسائل کا سامنا کررہے ہیں، حکمران انہیں مسائل کی بجائے وقتی رکاوٹ سمجھ کر یہ یقین دلانا چاہتے ہیں  یہ مشکل وقت کٹ جائے گا اور  پاکستانی عوام جلد ہی روشن   مستقبل  کی طرف گامزن ہوں گے۔ عوامی ضرورتوں  اور خواہشات سے  حکمرانوں کی  لا تعلقی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت کرنے والے تمام سیاسی  لیڈروں کے پیش نظر  کوئی قومی ایجنڈا نہیں ہوتا بلکہ اقتدار کا حصول اور اس پر قابض  رہنے کی خواہش ہی  ان  کے نزدیک اہم ہوتی ہے۔  دوسری طرف سیاسی /جمہوری سیٹ اپ کو قوت فراہم کرنے والی عسکری اسٹبلشمنٹ ہے۔  عوام کی فلاح و بہبود اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے بلکہ سرحدوں کی حفاظت کے بنیادی فریضے کے ساتھ ملکی فوج نے ’نظریاتی سرحدوں‘ کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود ہی قبول کی ہوئی  ہے۔ اس لیے عسکری قیادت سے عوامی بہبود کے کسی منصوبے کے آغاز و تکمیل کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

ہر ملک کچھ اقدار پر یقین رکھتا ہے اور ان کی روشنی میں سیاسی مباحث کے ذریعے ایسے اقدامات  پر اتفاق کیا جاتا ہے جس کے ذریعے عوام کو سہولت حاصل ہو، انہیں ملکی حکومتی  انتظام پر اعتبار ہو اور وہ  کسی ملک یا ریاست کے ساتھ  اپنی پہچان پر فخر محسوس کریں۔ پاکستان میں یہ احساس ناپید  ہورہاہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جن سیاست دانوں کو  عوامی مسائل و خواہشات کے بارے میں بحث و تمحیص اور مکالمے کا آغاز کرنا تھا، انہیں صرف اقتدار اور اپنے مفادات سے غرض رہی ہے۔  قومی سیاسی لیڈر شپ کا فقدان پاکستان کا ایک ایسا المیہ ہے جس نے اس ملک  میں مایوسیوں کے بادل گہرے کیے ہیں۔

سال ہا سال سے  چند  خاندان بلکہ چند لوگ سیاستدان کے طور پر اس ملک پر مسلط ہیں ۔ انہیں اپنے بچاؤ اکایک ہی راستہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے تعاون کو ہی راہ نجات سمجھیں۔ اسی طریقہ حکمرانی کو اب ہائبرڈ نظام کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن اس نظام میں عوام کی شمولیت کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے یہ طریقہ کامیاب نہیں ہوپارہا۔ فوج کو تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔   سیاسی انتظام میں شریک لوگ اگر عوام کے سامنے  بے توقیر ہوجاتے ہیں تو اس کے پاس نئے چہرے تلاش کرنے کا آپشن موجود رہتا ہے۔ اسی لیے گزشتہ کچھ  عرصہ سے مسلسل یہ مباحث سنے جارہے ہیں کہ کیسے شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ معاملات حل نہیں ہورہے اور لوگ خوش  نہیں ہیں۔    جب شہباز شریف اثاثے کی بجائے بوجھ بننے لگیں  گے تو انہیں کسی قابل قبول چہرے سے تبدیل کرلیا جائے گا۔ ملکی سیاست دانوں کو اس بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی کیوں کہ وہ تو   پہلے  ہی قطار میں  اپنی باری کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔  البتہ فوجی قیادت کے لیے ضرور  یہ حقیقت پریشانی کا  سبب ہونی چاہئے کہ عوام کا عدم اعتماد کسی فرد یاپارٹی کے خلاف نہیں ہے بلکہ موجودہ طرز حکمرانی کے بارے میں بے چینی پیدا ہورہی ہے۔ خود اسٹبلشمنٹ تسلیم کررہی ہے کہ موجودہ نظام ڈلیور کرنے میں ناکام ہے، تو دیکھا جاسکتا ہے کہ اس نظام سے اپنی حفاظت و بہبود کی توقع لگائے ہوئے عوام کی سوچ کیا ہوگی؟

ملکی صورت حال اب اس  حد تک پہنچ چکی ہے کہ پاک فوج یا تو ملکی ’نظریاتی سرحدوں‘ کی حفاظت کی ذمہ داری سے سبک دوش ہونے کی طرف پیش قدمی کرے یا پھر زیر زمین پکنے والا لاوا محض چند علاقوں میں بے چینی  تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات زیادہ گہرے اور تکلیف دہ  ہوسکتے ہیں۔   یہ کہنے کا محل  نہیں ہے کہ عوامی بے چینی کسی نئے انقلاب کی صورت اختیار کرکے سری لنکا یا بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا کرسکتی ہے۔ کیوں کہ پاکستان کے حالات اور  مزاج مختلف ہے اور یہاں شاید ابھی نہ تو کسی ایسی سیاسی تحریک کے لیے فضا سازگار ہے اور نہ ہی شاید  ایسی قیادت موجود ہے جو اس بے چینی کو سیاسی احتجاج کی شکل میں منظم کرکے  ملکی انتظام میں دوررس  تبدیلیوں کا اہتمام کرسکے۔ البتہ عسکری قیادت کے لیے یہ حقیقت  بھی کسی بڑے انقلاب یا احتجاج سے کم اہم نہیں ہونی چاہئے کہ  جو فوج  ہمیشہ عوام میں مقبول رہی ہے اور جس کی تکریم کے لیے ہر سر احترام و محبت سے جھکتا رہا ہے، اب اس میں قابل ذکر کمی محسوس کی جارہی ہے۔  حالانکہ پاک فوج نے بھارت کے ساتھ مقابلے میں شاندار کامیابی کے علاوہ سفارتی میدان میں عظیم الشان کامیابیاں سمیٹی ہیں ۔ لیکن چونکہ عوام میں شراکت کا احساس مسلسل کم ہورہا ہے، اس لیے  انہیں یہ کامیابیاں ملک و قوم کا اعزاز نہیں لگتیں  بلکہ مٹھی بھر افراد کے مفاد کے ہتھکنڈے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی چپقلش و ناراضی کی وجہ سے ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ اور بے بنیاد خبریں پھیلا کر اس خلیج کو گہرا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ ان  کوششوں کو کیسے ناکام بنایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سوال کو اس طرح باقاعدہ مرتب کرکے اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

تصویر کو بڑا کرکے دیکھا جائے تو فوج کے لیے اس وقت تک موجودہ  انتظام سے باہر نکلنا ممکن نہیں ہوگا جب تک وہ نام نہاد ’نظریاتی سرحدوں‘ کی حفاظت  کے فریضہ سے فاصلہ لینے کا اقدام نہیں کرتی۔  کسی قوم کے نظریات یا سوچ کی حفاظت عسکری انتظامات کے تحت نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ کام  فعال سیاسی نظام اور عقلی  و فکری مکالمے کی صورت میں طے پاتا ہے۔ نظریات  دو ملکوں کے درمیان سرحدوں کی طرح ٹھوس حقیقت کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ حالات و ضرورت کے تحت ان میں مناسب تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ فوج جب نظریاتی سرحدوں کے پرفریب سلوگن    سے نجات حاصل کرے گی ، تب ہی اسے احساس ہوگا کہ    اس غیر ضروری ذمہ داری نے اس کی مشکلات میں اضافہ کیا اور اس  کے آئینی فرائض کے بارے میں بھی شبہات جنم لینے لگے۔ جب یہ کام سیاسی لیڈروں کو سونپا  جائے گا تو عوام اظہار کے متعدد طریقوں سے  انہیں حقائق  سمجھنے اور  نظریات کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر مجبور  کرسکیں  گے۔

پاکستان میں  نظریاتی سرحدوں کا  تصور خود ساختہ نظریہ پاکستان اور اس کے بعد قرار داد مقاصد کے ذریعے راسخ  ہؤا۔ پھر ضیاالحق  نے اپنے اقتدار کو طول دینے  کے لیے  انتہائی ظالمانہ طریقے سے  عقیدے کو  استعمال کیا۔  افغانستان  میں سوویت فوجوں کے خلاف جنگ کو نظریے کی جنگ کہا گیا حالانکہ یہ مفادات کی لڑائی تھی۔ لیکن اس جنگ نے ملک میں ایسی جہادی سوچ راسخ کی   جس کا خمیازہ پاک فوج کے جوان روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں  کا مقابلہ کرتے ہوئے بھگت رہے ہیں۔ سماجی طور سے دین کے ٹھیکیداروں کو اتنی قوت حاصل ہوگئی کہ وہ کسی وقت بھی قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں  اور عوام    کوملکی قوا نین  کو جوتے کی نوک پر رکھنے کا درس دے سکتے ہیں۔ کسی مسلمان ملک میں مذہبی لیڈروں کو ایسی آزادی اور حقوق حاصل نہیں ہیں جو پاکستان میں مولویوں نے   نظریہ پاکستان اور قرار داد مقاصد کے طفیل حاصل  کیے ہوئے ہیں۔  یہ صورت حال صرف اسی وقت تبدیل ہوگی جب ریاستی مفادات، سرحدوں کی حفاظت اور  نظریات کو  علیحدہ کیا جائے گا۔

عوام کو فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہئے کہ وہ کس عقیدہ پر کیسے عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے فوج کو ذمہ داری دینے یا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستانی فوج مخصوص  جغرافیائی حدود میں قائم  ریاست پاکستان کی حفاظت کے  لیے قائم کی گئی ہے۔ اس  کی یہ ذمہ داری نہیں ہوسکتی کہ وہ اس بات  کی نگرانی بھی کرے کہ لوگ کس عقیدے پر کیسے عمل کرتے ہیں اور کون سی بات کرنے سے کس کا ایمان خراب ہوجاتا ہے۔ جب طاقت کا یہ توازن درست کیا جائے گا تو ملک میں شعور کے  ایسے امکانات پیدا ہوں گے جو سماجی، معاشی اور ذہنی پریشانیوں کا حل تلاش کرنے میں معاونت کرسکیں  گے۔

البتہ  اگر مذہب کو  سیاسی ہتھکنڈا بنا کر اسے آمرانہ طرز عمل اختیار  کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا  رہے گا تو  تناؤ، پریشانی، بداعتمادی اور بے یقینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ پھر لوگ  پاکستان سے محبت کرنے کی بجائے، وہاں سے بھاگنے کے راستے تلاش کریں گے۔ جنہیں یہ راستہ نہیں ملے گا، وہ تخریب کاروں کا آلہ کار بنیں گے۔ اس کے مظاہر پہلے  ہی پاکستان میں جابجا دیکھے جاسکتے ہیں۔