ہم نہیں جانتے کہ پاکستان کیا چاہتا ہے: افغان وزیر خارجہ

  • ہفتہ 15 / اگست / 2026

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ بارہا کوششوں کے باوجود ہم یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی سے پاکستان کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سید عبداللہ نظامی سے گفتگو کرتے ہوئے امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے کبھی ان(پاکستان) پر حملہ نہیں کیا، ہم نے ان کی سڑکیں بند نہیں کیں، ہم نے ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ہم نے ان کے ٹرانزٹ (سامان) کی نقل و حمل میں بھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔‘

امیر متقی کے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے آمدورفت محدود کی، حملے کیے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم امیر متقی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اس کی مجبوری یا تشویش کیا ہے اور معاملات یہاں تک کیوں پہنچے ہیں۔ یاد رہے کہ ان حملوں کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسلح گروہوں کی جانب سے ہونے والے حملے ہیں، جنہیں وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

تاہم امیر خان متقی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل کا سامنا ہے جبکہ وہاں (پاکستان میں) اختیارات کی تقسیم بھی غیر متوازن ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین اس کے مخالف مسلح گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

تاہم اس بارے میں امیر خان متقی نے کہا کہ ’اگر بات بلوچ گروہوں کی ہے تو وہ گزشتہ 78 برس سے حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر ٹی ٹی پی کی بات کی جائے تو وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہے اور جہاں تک افغان سرزمین کا تعلق ہے تو ہم نے ماضی کے مقابلے میں سرحدی نگرانی اور کنٹرول کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔‘

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا مخالف فریق کے مطالبات اور خدشات کو سمجھنا بھی ان کی ذمہ داری نہیں، تو امیر خان متقی نے جواب میں دعویٰ کیا کہ ’ہماری جانب سے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں اور ہماری طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

امیر خان متقی کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستانی حکام اور حکومت کے حامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔

اگرچہ طالبان حکومت مذاکرات اور تحمل کے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہے، تاہم اس نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو وہ اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے۔

طالبان حکومت کے وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے حال ہی میں افغان سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو حکومت کو اپنی پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔