مکہ ڈیکلریشن
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 15 / اگست / 2026
مکہ ڈیکلریشن پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک دفاعی معاہدہ ہے جس کی گونج بڑی شدت سے ہر طرف سنی ہی نہیں جا رہی بلکہ اس کے بارے میں وسیع پیمانے پر گفتگو بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے حامی اسے مسلم ممالک کے ناٹو سے تعبیر کر رہے ہیں۔
مکہ ڈیکلریشن کو صدی یا تاریخ کی بہت بڑی شے قرار دے رہے ہیں اور ایسے لگ رہاہے کہ جیسے کوئی بہت بڑا انہونا واقع ہو گیا ہو۔ حالیہ ایران۔ امریکہ جنگجو اسرائیل نے شروع کی تھی، عربوں کی بربادی کا ایک باب بن چکی ہے۔ ایران نہ تو امریکہ کا کچھ بگاڑ پایا ہے اور نہ ہی اسرائیل کو زک پہنچا سکا ہے۔ ایرانی ڈرونز اور راکٹ عربوں کی تباہی کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران تو امریکی مفادات پر حملے کررہا ہے لیکن فی الاصل عرب تباہ ہو رہے ہیں۔ ایک بات تو طے ہو چکی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ عظیم اول کے بعد قائم کردہ استعماری نظام فیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کردہ عالمی نظام بھی ناکام ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ مکمل طور پر امریکی استعماری پتلی کے طور پر اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ عالمی نظام کے دیگر آرگنز بشمول آئی ایم ایف، ورلڈبینک و دیگر زرعی و مالیاتی ادارے دنیا میں معاشی بے اعتدالی اور صہیونی عزائم کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ دنیا میں غربت و عدم استحکام فروغ پا چکا ہے۔ وسائل کا بے دریغ استعمال جنگی مقاصد کے لئے کیا جا رہا ہے ۔عام انسان کی فلاح و بہبود کہیں مقصد ِ اول کے طور پر نظر نہیں آ رہی ہے۔ عربوں کی دولت بھی اللوں تللوں میں خرچ ہو رہی ہے ۔یہ اسی عالمی نظام کا کمال ہے کہ ایران بجائے اسرائیل کی تباہی کے عربوں کی بربادی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمزکی بندش کس کی معیشت تباہ کرے گی؟ ہرمز کی بندش سے کیا امریکہ کو پریشانی ہوگی؟ کیا اسرائیل پر فلسطین کی ریاست قائم کرنے کے لئے دباؤ بڑھے گااس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔ پھر دیکھتے ہیں کہ ہمارے عسکری اتحاد کہاں کھڑے ہیں۔
سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے دسمبر 2015میں اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کوآلیشن (IMCTC) کے قیام کا اعلان کیا۔ مارچ 2016میں اتحاد کی پہلی میٹنگ ہوئی جس میں ممبر ممالک کے عسکری رہنماؤں (فوجی سربراہان) نے شرکت کی، مسلم ممالک کی افواج کے سربراہان نے اتحاد کے مشن سے اتفاق کیا اور حسب ضرورت اور حیثیت تعاون کا یقین دلایا۔ یاد رہے یہ تمام ممالک آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کے 57 ممبران میں شامل ہیں۔ اب تک اس کے ممبران کی تعداد43ہو چکی ہے جن میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور یو اے ای بھی شامل ہیں۔ ایران، عراق اور شام جیسے شیعہ اکثریتی ممالک کی عدم شرکت کے باعث اسلامک ملٹری الائنس کو سنی عسکری اتحاد بھی کہا جاتا رہا ہے۔ بہرحال طے کیا گیا کہ دہشت گرد نظریات کے خلاف اعتدال پسند امور کو فروغ دیا جائے گا۔ میڈیا میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے نظریات کا توڑ کیا جائے گا۔ دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل مہیا کرنے والوں کا قلع قمع کیا جائے گا۔ ممبر ممالک اپنی عسکری مہارت ایک دوسرے سے شیئر کریں گے اور ممبر ممالک کی عسکری تربیت کے ذریعے استعداد کار بڑھائیں گے۔ 6جنوری 2017 کو پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اس اتحاد کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
17ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب نے سٹرٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) پر دستخط کئے جس کے تحت دونوں ایک دوسرے کے دفاعی اتحادی قرار پائے۔کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پرحملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دفاع کے لئے ہے۔
7اگست 2026 کوسعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کئے جس کے مطابق تینوں ممالک ایک دوسرے کے دفاع کے لئے شراکت دار قرار پائے ہیں ۔یہ معاہدہ بنیادی طور پر ستمبر 2025کے سعودی پاکستان دفاعی معاہدے کی طرز پر سہ فریقی معاہدہ ہے جس میں پاکستان ایٹمی طاقت، سعودی عرب دنیا کا بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک اور ترکی، ناٹو کی دوسری بڑی فوج شامل ہے۔
ایسے اتحاد اب تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کر سکے۔ ہم اتحادوں کے قیام پر شاید یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ ایک بات بڑی واضح ہے کہ ریاست اسرائیل نہ صرف عربوں کے لئے ایک حقیقی خطرہ ہے بلکہ تمام اہل حرم کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ صہیونی عالم عرب کی ہر فکری اور نظری تحریک ملیامیٹ کر چکے ہیں جو ان کے افکار و نظریات کو چیلنج کر سکے۔ اخوان المسلمون ہوں یا انصار اللہ و دیگر ان سب فکری تحریکوں کو بعث ازم یا عرب نیشنلزم کے ذریعے کمزور یا ختم کر دیا گیا ہے۔ عالم عرب میں دین اسلام کے ساتھ وابستگی پر فخر کی بجائے عربی شناخت پر فخر کرنے کو فروغ دیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی عسکری تنظیم یا تحریک کو جو صہیونیت کو چیلنج کر سکے یا اسرائیلی ریاستی مقاصد کی راہ میں کھڑی ہو سکے، تباہ و برباد کر دیا گیا۔ غزہ میں حماس پر جاری ظلم و ستم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد ان کا اعلانیہ ہدف پاکستان و ترکی ہیں۔ پاکستان ایک عسکری قوت ہے لیکن یہاں کی معاشی و سیاسی صورتحال ابتر ہے جبکہ اردوان کا ترکی سیاسی، معاشی اور عسکری لحاظ سے ایک مربوط اور متوازن ملک ہے۔ مکہ ڈیکلریشن کے ذریعے نہ صرف دو عسکری قوتیں (پاکستان و ترکی) باہم مربوط ہو گئی ہیں بلکہ عالم اسلام کی روحانی قوت سعودی عرب بھی اس اتحاد میں شامل ہے جس سے ایک طاقتور تکون معرض وجود میں آ گئی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ اس اکٹھ میں برکت دے اور صہیونی عزائم کو خاک میں ملائے۔(آمین)
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)