ایران کا قطر پر تین ایرانی لڑاکا پائلٹوں کو قید میں رکھنے کا الزام، دوحہ کی تردید
ایرانی فوج کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 3 ایرانی پائلٹ قطر میں قید ہیں اور انہوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد باقر زادہ نے آئی سی آر سی کی صدر ماریانا سپولیئرک کو لکھے گئے خط میں کہا کہ دو ایس یو 24 جنگی طیارے 2 مارچ 2026کو قطر میں واقع دشمن فوجی اڈے‘ کو نشانہ بنانے کیلئے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔مشن کی تکمیل کے بعد واپسی کے دوران طیاروں کو دشمن کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایرانی پائلٹ متاثر ہوئے۔ ان 4 پائلٹوں میں سے ایک ماجد کاظمی کی میت بعد ازاں ایران منتقل کی گئی اور انہیں 29 اگست کو شیراز میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
علاوہ ازیں باقی 3 پائلٹوں، جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہروشیان کو قطری افواج نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔دوسری طرف قطری وزارت خارجہ نے ایرانی دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں وہ اس وقت ایسے گمراہ کن بیانات پر بہت حیران ہیں۔
ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں لکھا کہ مارچ میں قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد انہوں نے ایرانی پائلٹوں سے رابطہ کیا تھا اور ان کے ہدفی راستے کی تصدیق کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ جب پائلٹوں کی جانب سے پیغامات کا کوئی جواب نہیں ملا تو قطر نے ’تنازعات سے متعلق قوانین اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کے مطابق‘ اپنے دفاع میں کارروائی کی۔
قطری امدادی ٹیموں نے ان پائلٹوں کی تلاش کیلئے آپریشن کیا، ایک پائلٹ کی لاش ملی جس کی باقیات ایران کے حوالے کرنے کیلئے قطری حکومت نے تہران سے رابطہ بھی کیا۔