قومی ایوارڈز، سرکاری شخصیات

ایک زمانے تک تو عوامی خدمات پر قومی ایوارڈز دینے کا یہی تصور تھا کہ وہ شخصیات جو ستائش و صلہ کی تمنا کئے بغیر خلقِ خدا کی خدمت کرتی ہیں انہیں قومی ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔ ایسی شخصیات عہدے یا مراعات نہیں لیتی تھیں بلکہ عبدالستار ایدھی کی طرح بے لوث خدمت کرتیں۔

 مگر زمانے کے انداز بدلے گئے،نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔ اس بار وزیروں اور بڑے حکومتی عہدیداروں کو پبلک سروس کے شعبے میں ایوارڈز دے کر روایات کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ایک ناکام گورننس میں جہاں خلقِ خدا دہائیاں دے رہی ہے کہ کھانے کو کچھ مل رہا ہے اور نہ امن و امان بہتر ہے، وہاں پانچ وزراکو نشان امتیاز سے نواز دیا گیا جبکہ چھ حکومتی شخصیات ایسی ہیں جنہیں پبلک سروس کے شعبے میں ہلال امتیاز دیا گیا ہے۔ یہ دونوں ملک کے بڑے ایوارڈز ہیں اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ پبلک سروس کے شعبے میں اگر گیارہ ایوارڈز دیئے گئے ہیں تو اس کامطلب ہے حکومت کی اس شعبے میں کارکردگی تو آسمان کو چھو رہی ہے۔ ملک میں گڈ گورننس کا دور دورہ ہے۔ عوام شاداں و فرحاں ہیں۔ جو لوگ یہ لطیفہ سنا رہے ہیں کہ جو وزیرابھی چند ہفتے پہلے سسٹم کے فیل ہونے کی بات کررہے تھے انہیں بھی نشانِ امتیاز دے دیا گیا تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے انہیں سسٹم کو فیل قرار دینے کی گراں قدر خدمت پر یہ ایوارڈ دیا گیا ہے؟

او بھائی ایسا نہیں البتہ یہ درست ہے کہ سسٹم کے فیل ہونے کی وجہ ہی سے ایسے ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔یہ تو اندھا بانٹے ریوڑیاں والی بات ہے اور وہ بھی اپنوں کو۔ ایوارڈ حکومت دیتی ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اپنی ہی کابینہ کے وزیروں میں بانٹ دے۔ یہ تو سول ایوارڈز کہلاتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے جو لوگ ملک بھر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جائے کسی بھی ایوارڈ دینے والی کمیٹی کی یہ جرات ہے کہ وہ ملک کے وزیرداخلہ کا نام رد کر دے۔ یعنی کیسی الٹی گنگا بہہ رہی ہے کہ جنہیں ایوارڈز بانٹنا چاہئیں وہ ایوارڈ لے رہے ہیں۔ اب دو دن سے سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ وہ خدمات گنوائیں اور بتائی جائیں جو عوامی خدمات کے شعبے میں ان وزرااور مشیروں نے کی ہیں اگر محسن نقوی کو دوسری بار نشان امتیاز دیا گیا ہے تو پھر کرکٹ کو تباہ کرنے والے اقدامات کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے گی؟ بلوچستان میں بدامنی تو انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یہ تو وزارتِ داخلہ کی صریحاً ناکامی ہے، پھر نشان امتیاز کیوں ضرور سمجھا گیا۔ عوامی خدمات کا عالم یہ ہے کہ ائرپورٹس سے آئے روز مسافروں کوسفر سے ایف آئی اے روکتی ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں جبکہ وزیرداخلہ نے ایک بار ائرپورٹ پر جا کر یہ مسئلہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اب ایف آئی اے کسی کو بلاوجہ  آ ف لوڈ  نہیں کرے گی مگر اس پر کتنا عمل ہوا سب جانتے ہیں۔

سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ جس کا جو فرض ہے اور جس کیلئے اسے عہدہ، مراعات اور اختیارات بھی دیئے گئے ہیں اگر وہ انہیں عوام کی بہتری کیلئے استعمال کرتا ہے تو اسے تمغہ کس بات کا دیا جائے  یہ تو اس کی ذمہ داری تھی،فرض تھا۔ میرے نزدیک یہ سہل پسندی اور اقربا پروری ہے کہ آپ قومی ایوارڈز اس طرح بانٹ دیں، اب اگر پانی و بجلی کے وزیرمحمد اویس خان لغاری یہ دعویٰ کر دیں کہ مجھے نشانِ امتیاز کیوں نہیں دیا گیا  حالانکہ میں نے بجلی کے شعبے میں سب سے زیادہ کمائی کرکے دی ہے۔ عوام کا بھرکس نکال دیاہے، سخت گرمی میں لوڈشیڈنگ بھی دبا کر کی ہے  پھر بھی بجلی کے بل کم نہیں ہونے دیئے،تو ان کے دعوے کو کیسے جھٹلایا جا سکے گا۔ دوسری طرف پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک بھی یہ دعویٰ لے کر آ سکتے ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں تیل کی قیمتیں کم نہیں ہونے دیں اور عوام کو قیمتیں بڑھنے کی اذیت سے نکال کے ایک دن دو روپے کم کرکے اگلے دن چار روپے بڑھانے کی شاندار پالیسی نافذ کی جو انتہا درجے کی عوامی خدمت کے زمرے میں آتی ہے۔پھر مجھے نشان امتیاز کیوں نہیں دیا گیا۔غرض ہماری کابینہ میں ایک سے بڑھ کر ایک وزیر عوامی خدمت کا دعویٰ لئے گھوم رہا ہے  اگر دس بارہ وزیروں کو مزید اس لسٹ میں شامل کرلیا جاتا تو کم از کم اس لسٹ کی توقیر میں اتنا اضافہ ضرور ہو جاتا کہ اسے گلے کا طوق بنایاجا سکتا تھا۔ مگر نجانے کس نے ایسا نہیں ہونے دیا اور روڑے اٹکائے اس حکومت کے سنہرے کارناموں میں ایک اور اضافے کی راہ روک دی۔

ہر سال جب قومی اعزازات کی فہرست آتی ہے تو اس میں کچھ اچھے اور ایسے نام بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ان اعزازات کی عزت و توقیر میں ضافہ ہوتا ہے اور بہت سے بھرتی کے اور سفارشی ناموں کا اندراج بھی ہوتا ہے مگر ایسا  بہت کم ہوتا رہا ہے کہ وزرااور مشیروں کا بھی ایک کوٹہ، ان اعزازات کیلئے منتخب کر دیا جائے۔ اگر ایسا کرنا ہی مقصود ہے تو ایسی کیٹگری کو کوئی اور نام دیا جائے، پبلک سروس کا شعبہ ان شخصیات کیلئے چھوڑ دیا جائے جو واقعی حقیقی معنوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔  اس کیٹگری کو گورنمنٹ آفیشلز کا نام دیا جاسکتا ہے  پھر یہ حکومت کی صوابدیدی ہوگی جسے چاہے نواز دے اپنے تئیں تو حکومت کا ہر وزیر عوامی خدمات کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ان میں سے دوچار کو ایوارڈز دے کر باقیوں کی دلآزاری نہ کی جائے۔ سب کو نواز دیاجائے تو حکومتی خزانے کو کیا فرق پڑے گا۔

 ویسے حیرت اس بات پر خواجہ محمد آصف کو وزرا کی اس فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا گیا، وہ حکومت کے سب سے بڑے سپوکس مین ہیں۔ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں  اگرچہ ان کی وزارت کا عوام سے براہ راست تعلق نہیں لیکن جو خدمات وہ عوام کوخوش رکھنے کیلئے اپنے بیانات سے سرانجام دیتے ہیں، ان پر تو ان کیلئے ایک ایوارڈ بنتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)