ایوارڈز کی دوڑ میں مودی۔سفارت کاری یا شخصیت پرستی؟
- تحریر فہیم اختر
- اتوار 16 / اگست / 2026
اعزاز انسان کو نہیں، انسان اعزاز کو معتبر بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے ایوارڈ اپنی دھات، رنگ یا قیمت سے نہیں بلکہ اپنی تاریخ، معیار اور غیر جانب داری سے پہچانے جاتے ہیں۔ ایک معتبر اعزاز برسوں کی روایت کا امین ہوتا ہے اور اسے حاصل کرنے والا اپنے نام کے ساتھ اس روایت کا ایک باب بھی جوڑ لیتا ہے۔
لیکن جب اعزازات سفارتی آداب کا حصہ بن جائیں، جب ہر دورے کا اختتام ایک نئی ٹرافی پر ہونے لگے اور جب ضرورت کے مطابق نئے ایوارڈ بھی تخلیق ہونے لگیں تو سوال صرف وصول کرنے والے پر نہیں بلکہ ایوارڈ کی وقعت پر بھی اٹھنے لگتا ہے۔سیاست میں تحائف اور اعزازات نئی بات نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ دنیا کے بعض ممالک میں اگر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تشریف لے جائیں تو استقبال کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ایک نیا اعزاز بھی تیار ہونے لگتا ہے۔ گویا سفارتی پروٹوکول کی فہرست میں اب ایک نئی شق شامل ہو چکی ہے:’’اگر مودی آ رہے ہیں تو کوئی نہ کوئی تمغہ بھی تیار رکھیے۔“
جون کے آخر میں سیشلز کے دورے کے دوران مودی کو ’گارڈین آف دی بلو ہورائزن‘کے نام سے ایک ایسا اعزاز دیا گیا جس کا دنیا کو پہلے علم ہی نہیں تھا۔ بتایا گیا کہ یہ سیشلز کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ہے، مگر دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ یہ ایوارڈ مودی کے دورے سے قبل کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ یہ کہ اس کے ساتھ درج تحریر میں خود ریپبلک آف سیشلز کے ہجے غلط تھے۔ یوں محسوس ہوا جیسے جلدی میں اعزاز بھی تیار ہوا اور عبارت بھی۔بلاشبہ ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے اپنا اعلیٰ ترین اعزاز عطا کرے، مگر جب اعزاز کی عمر چند دن اور وصول کنندہ کی آمد ایک ہی تاریخ سے شروع ہو تو سوالات پیدا ہونا فطری ہیں۔ لیکن تقریب کے دوران وہ جمہوریہ سیشلز کا سرکاری نام بھی درست طور پر ادا نہ کر سکے۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی کو ملنے والے کئی اعزازات ایسے ہیں جو ان کی آمد سے کچھ عرصہ پہلے ہی متعارف کرائے گئے یا وہ ان کے پہلے اور تاحال واحد وصول کنندہ بنے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا یہ حقیقی عالمی اعتراف ہے یا سفارتی تشہیر کا ایک منصوبہ بند انداز؟
اسی ماہ مودی کو سلوواکیہ کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز آرڈر آف دی وائٹ ڈبل کراس، فرسٹ کلاس بھی ملا۔ یہ ایک حقیقی، تاریخی اور معتبر اعزاز ہے جو ان غیر ملکی شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے سلوواکیہ کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔ اس سے قبل کئی عالمی رہنما بھی اس اعزاز سے نوازے جا چکے ہیں، اس لیے اس کی تاریخی حیثیت اپنی جگہ مسلم ہے۔اس سے پہلے 2018 میں اقوام متحدہ نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ مودی کو ماحولیاتی قیادت کے اعتراف میں اعزاز دیا، جبکہ 2019 میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے انہیں گلوبل گول کیپر ایوارڈ سے نوازا۔ یوں مودی کے شوکیس میں عالمی اعزازات کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی گئی۔لیکن سیاست کے طالب علم ایک دلچسپ سوال پوچھتے ہیں۔ کیا یہ سب اعزازات صرف خدمات کے اعتراف میں مل رہے ہیں یا ان میں سفارت کاری کی وہ مٹھاس بھی شامل ہے جس سے ریاستیں اپنے تعلقات کو مزید خوشگوار بناتی ہیں؟ آخر عالمی سیاست میں تمغے کبھی کبھی مسکراہٹوں کی زبان بھی بولتے ہیں۔
اگر دنیا میں غیر ملکی اعزازات جمع کرنے کا کوئی عالمی مقابلہ منعقد ہو تو شاید نریندر مودی اس کے مضبوط ترین امیدوار ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس ملک کا بھی دورہ ہو، وہاں ایک نہ ایک تمغہ، اعزاز یا خصوصی خطاب ان کے استقبال کے لیے تیار ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی رہنما کو اعزاز کیوں دیا جاتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ آخر ہر دورہ ایک نئے ایوارڈ پر ہی کیوں ختم ہوتا ہے؟اسرائیل، ایتھوپیا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو اور دیگر ممالک سے ملنے والے اعزازات کو بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوستان کی عالمی کامیابی قرار دیتی ہے۔ لیکن ایک جمہوری معاشرے میں ہر سرکاری دعوے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہر غیر ملکی سفر کی سب سے بڑی خبر ایک اور تمغہ بن جائے تو پھر خارجہ پالیسی کی اصل کامیابیوں پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
کسی بھی ملک کی عزت صرف اس کے وزیراعظم کے گلے میں لٹکنے والے تمغوں سے نہیں بڑھتی، بلکہ اس کے شہریوں کے معیارِ زندگی، جمہوری آزادیوں، معاشی استحکام اور سماجی انصاف سے بڑھتی ہے۔ اگر ملک کے اندر بے روزگاری، مہنگائی، مذہبی کشیدگی اور اختلافِ رائے پر قدغن جیسے مسائل موجود ہوں تو بین الاقوامی اعزاز ان تلخ حقیقتوں کو نہیں چھپا سکتے۔مودی کے مخالفین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر ان کے بیرونی دوروں کی رفتار یہی رہی تو جلد ہی دنیا میں دو قسم کے ایوارڈ ہوں گے: ایک وہ جو پہلے سے موجود ہیں، اور دوسرے وہ جو مودی کے استقبال سے چند روز پہلے وجود میں آ جائیں گے۔ ممکن ہے آئندہ کسی ملک کے سرکاری کیلنڈر میں یہ بھی درج ہو:وزیر اعظم کی آمد سے ایک ہفتہ قبل نئے قومی اعزاز کے ڈیزائن کی منظوری لازمی ہے۔
طنز اپنی جگہ، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایوارڈز کی بہتات بعض اوقات خود ایوارڈ کی عظمت کو کم کر دیتی ہے۔ اگر ہر سفارتی ملاقات کے بعد ایک نیا تمغہ وجود میں آئے تو پھر غیر معمولی اور معمول کی حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ عزت تقسیم کرنے سے کم نہیں ہوتی، لیکن اعزاز ضرور سستا محسوس ہونے لگتا ہے۔تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ الماریوں میں سجے تمغے وقت کے ساتھ گرد آلود ہو جاتے ہیں، مگر قوموں کے حافظے میں صرف وہی نام زندہ رہتے ہیں جنہوں نے انصاف، امن، رواداری اور انسان دوستی کی کوئی روشن مثال قائم کی ہو۔ اقتدار کے ایوانوں میں ملنے والے اعزاز وقتی ہوتے ہیں، لیکن عوام کے دلوں میں ملنے والا اعزاز کبھی اپنی چمک نہیں کھوتا۔شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تمغے دھات سے بنتے ہیں، مگر عظمت کردار سے۔ اور تاریخ ہمیشہ کردار کو محفوظ رکھتی ہے، شوکیس کو نہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے رہنما اپنے اعزازات سے نہیں بلکہ اپنے فیصلوں، کردار اور عوامی خدمت سے پہچانے جاتے ہیں۔ تمغے وقت کے ساتھ عجائب گھروں کی زینت بن جاتے ہیں، مگر عوام کے دلوں میں جگہ صرف وہی رہنما بناتا ہے جو انصاف، مساوات اور خوشحالی کی بنیاد رکھے۔نریندر مودی کو ملنے والے اعزازات کی تعداد یقیناً قابلِ توجہ ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعزازات ہندوستان کے عام شہری کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لا رہے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ایوارڈز کی یہ چمک محض تصویروں اور سرخیوں تک محدود رہ جائے گی۔دنیا کے سب سے بڑے اعزاز کا فیصلہ کسی حکومت یا تقریب میں نہیں ہوتا، بلکہ تاریخ اور عوام کرتے ہیں۔