کیا خرابی کی ذمہ دار صرف فوج ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 16 / اگست / 2026
ملکی حکومتی نظام کی ناکامی کے سرکاری اعتراف کے بعد اس بات کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ موجودہ حکومت ، عوام کی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام ہے۔ البتہ حیرت انگیز طور پر کوئی ایک بھی ادارہ یا فرد اس معاملہ میں اپنی ذمہ داری محسوس کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بصورت دیگر اصلاح احوال کی کوئی صورت دکھائی دیتی۔
عام طور سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ سول سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت اصل مسئلہ کی جڑ ہے۔ موجودہ ہائبرڈ انتظام حکومت چونکہ سول و عسکری قیادت کے اشتراک عمل سے کام کرتا ہے، اس لیے اس نظام میں بھی فوج ہی کو ڈرائیونگ فورس سمجھا جاتا ہے۔ تبصروں ، تجزیوں میں یہ رائے سامنے آتی رہتی ہے کہ سارے فیصلے عسکری قیادت کرتی ہے اور وزیر اعظم ’کٹھ پتلی‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ البتہ تصویر اتنی سادہ نہیں ہوسکتی کہ فوج پر الزام عائد کرکے مسائل کی درست نشاندہی کا کام مکمل ہوجائے۔
وزیر اعظم اگر واقعی بے اختیار اور مجبور ہے تو پارلیمنٹ میں آواز بلند ہوسکتی ہے۔ اگر پارلیمنٹ بھی اپنا کرداد ادا کرنے سے انکار کرتی ہے تو میڈیا اس کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ اور اگر پابندیوں کا حوالہ دے کر میڈیا کو طاقت وروں کا ’بھونپو‘ مان لیا جائے تو کم از کم یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر وزیر اعظم واقعی اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کے قابل نہیں اور بعض بالائی حلقے اس کے حلق پر انگوٹھا رکھ کر فیصلے صادر کراتے ہیں تو کم از کم وہ استعفیٰ دے کر اپنے گھر جانے کا اختیار تو رکھتا ہی ہے۔ اب اگر کوئی وزیر اعظم اس ’اختیار یا حق‘ کو استعمال کرنے سے بھی انکار کرتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ صورت حال اتنی سادہ نہیں ہے جیسی عام طور سے اپنی آسانی کے لیے سمجھ لیا جاتا ہے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف ایسا کوئی قدم اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی خواہش دل میں دبا کر اپنے ہی نام سے قائم مسلم لیگ کی صدارت سنبھالنے والے نواز شریف بھی عملی طور سے ریٹائر زندگی گزارنے کے باوجود سیاست کی طاقت سے بہرہ ور ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ آزاد کشمیر میں احتجاج، شدید بے چینی اور متنازعہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی متنازعہ کامیابی کے بعد نواز شریف نے وزیر اعظم کو ساتھ بٹھا کر وہی دہائیوں پرانا راگ دہرایا کہ دوسری پارٹیوں نے آزاد کشمیر کو تباہ کردیا۔ اب مسلم لیگ ان کے سارے گلے شکوے دور کردے گی۔ نواز شریف کا دعویٰ تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام ترقی و خوشحالی کے لیے پنجاب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ گویا وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی سربراہی میں پنجاب میں دودھ و شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں۔ ملک کے نصف سے زائد لوگ پنجاب میں رہتے ہیں۔ یہ صوبہ قومی پیداوار میں 55 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اگر پنجاب میں عوامی سہولت اور بہبود کے حالات مثالی ہوتے تو کسی کو بھی مرکز میں شہباز شریف کی حکومت پر ناکامی کا الزام لگانے کی جرات نہ ہوتی۔ لیکن آئی ایس پی آر اور وزیر داخلہ محسن نقوی بیک زبان اس حکومت کوناکام قرار دے چکے ہیں۔ ایسے میں آزاد کشمیر انتخابات کے بعد نواز شریف کی باتوں سے صرف یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ملکی سیاست دان اقتدار کی دوڑ میں کسی اخلاقی یا سیاسی حدود کے قائل نہیں ہیں۔ حکومت حاصل کرنے کے لیے اگر جمہوری روایات پامال بھی کرنا پڑیں تو وہ اسی میں ’عوامی مفاد‘ دیکھنے لگتے ہیں۔ بدنصیبی سے بے بس عوام کو اس جوڑ توڑ اور سیاسی تگ و دو کا کوئی فائدہ نصیب نہیں ہوتا۔
ان حالات میں اپنے 80 ویں سال میں قدم رکھنے والے پاکستان میں خرابی کی ذمہ داری صرف فوج پر عائد کرنے سے نہ مسائل کو سمجھا جاسکے گا اور نہ ہی کوئی تعمیری مباحثہ شروع ہوسکے گا۔ مسائل کی شناخت کے لئے مکالمہ کا آغاز اسی صورت میں ہوتا ہے جب سب کھلے دل سے غلطیوں کا اعتراف کریں اور اپنی جان بچانے کے لیے دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے کردار کا جائزہ لیں۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ سے مستعفی ہونے والے ایک جج صاحب نے یہ دعویٰ کیاہے کہ ملکی مسائل کی ذمہ داری سب سے زیادہ عدلیہ پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ ججوں کے پاس قانون کی طاقت ہوتی ہے جس کی بنیاد پر وہ درست راہنمائی کرسکتے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ عدالتوں نے ملک میں طویل فوجی آمریتوں کو سہارا دیا اور عوامی حقوق غصب کرنے میں کردار ادا کیا لیکن طویل عرصہ ایسے مشتبہ نظام میں کام کرنے کے بعد سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننے میں ناکام ہونے والا جج مستعفی ہونے کے بعد اگر اپنے ہی ادارے پر سنگ زنی کرے تو اسے اصولی بحث کی بجائے ذاتی عناد پر مبنی رائے کہا جانا چاہئے۔ جسٹس (ر) منصور علی شاہ نے تو اپنے استعفی کی وجوہات کا بھی اعلان نہیں کیا حالانکہ اگر وہ عدلیہ کے منفی کردار سے مایوس ہوکر استعفی دے رہے تھے تو ججوں کی طرف سے ’خفیہ خط و کتابت‘ کی طرح وہ اپنے استعفی میں ان وجوہات کا ذکر کرکے خراب حالات کی نشاندہی کرسکتے تھے۔ لیکن اب ایک سال بعد عدلیہ کے خلاف محاذ کھولنے سے وہ سوائے ذاتی توجہ کے کوئی دوسرا مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔
پاکستان کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عام طور سے ایسے خوشحال ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں جہاں آبادی کم اور وسائل زیادہ ہیں۔ اس طرح وہاں فلاحی نظام بھی قائم ہے اور لوگ بھی خوشحال ہیں۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ اور اس کی مجموعی قومی پیداوار 452 ارب ڈالر ہے۔ ایسے ملک کا مقابلہ ناروے، برطانیہ ، امریکہ یا جاپان کے ساتھ کرکے کسی متوازن نتیجہ تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ البتہ یہ سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے کہ جب آبادی میں بے پناہ اضافہ ہی قومی وسائل پر بوجھ میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے تو اس پر قابو پانے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیوں دیکھنے میں نہیں آتے۔ تاکہ وسائل اور آبادی میں توازن پیدا ہو اور عوامی سہولتوں کے منصوبے شروع ہوسکیں۔ اس بحث کا سلسلہ لامحالہ طور سے ملک کے خراب نظام حکومت اور دیگر خرابیوں کی طرف جانکلتا ہے جس میں پھر کون ذمہ دار کی لایعنی اور لاحاصل بحث شروع ہوجاتی ہے۔
ایسے مباحث کی بجائے اہل پاکستان کو ان مسائل کی نشاندہی کی کوشش کرنی چاہئے جن کی وجہ سے ملک میں سیاسی نظام کامیاب نہیں ہؤا اور حکومتی معاملات میں فوج کی مسلسل مداخلت سے ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ ہر شعبہ اپنی ذمہ داری سے گریز کرنے لگا۔پاکستان اور بھارت بیک وقت آزاد ہوئے تھے اور سرحد کے دونوں طرف ایک ہی جیسے لوگ رہتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بھارت میں پارلیمانی جمہوریت کو کوئی براہ راست ادارہ جاتی خطرہ لاحق نہیں ہؤا جبکہ پاکستان میں وہی نظام مشکلات کا شکار رہا ہے۔ یہاں آج بھی پارلیمانی جمہوریت کی افادیت پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ملک میں ایک باختیار صدر ہو جو ’ڈنڈے کے زور‘ پر سارے مسائل حل کردے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ فوجی ادوار میں ایسی انفرادی یا شخصی حکومتوں کے تجربے بھی ہوچکے ہیں جو کامیاب نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ جاننا چاہئے کہ امور حکومت پر بیورو کریسی اور ملٹری اسٹبلشمنٹ نے کیسے کنٹرول حاصل کیا اور اسے زائل کرنے کے لیے کون سے فکری و عملی اقدامات کرنا بنیادی ضرورت ہے۔
بدنصیبی سے پہلی دستور ساز اسمبلی نے لیاقت علی خان کی نگرانی میں پاکستان کی اقلیتوں کے نمائیندوں کے انتباہ اور مخالفت کے باوجود ’قرار داد مقاصد‘ منظور کی۔ اس قرارداد میں مساوات کے اصول کو پس پشت ڈال کر ملک میں تھیوکریسی سے ملتا جلتا نظام نافذ کرنے کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی قرارداد نے جمہوریت ، مساوات، آزادی رائے اور انسانوں میں تمیز نہ کرنے کے بنیادی اصولوں کو مسترد کرکے نظریہ اور ایک خاص عقیدے کی بنیاد پر ملک کو چلانے کے منصوبہ کا آغاز کیا گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ ملکی دستور سازاسمبلی میں سیاست دانوں نے کیا تھا لیکن اس کی بنیاد پر ملکی بیوروکریسی اور ملٹری اسٹبلشمنٹ ’نظریہ پاکستان اور اسلامی روایت‘ کی محافظ کے طور پر سامنے آئی۔ پوری کہانی اس ملک کے ہر شہری کو ازبر ہے۔
77 سال تک پاکستان کو اسلامی ریاست بنا کر عوام کی ضرورتیں پورا کرنے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ فوجی آمر تو اقتدار سنبھالتے ہوئے اپنے فعل کو درست قرار دینے کے لیے یہ نعرہ لگاتے رہے لیکن دھیرے دھیرے تمام سیاست دانوں نے بھی انہی نعروں میں پناہ لینے کو اپنی سیاست کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا۔ اس لیے دہائیوں بعد اگر ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں درست نشاندہی اور انہیں حل کرنے کا ارادہ کیا جائے تو یہ کہنا لازم ہوجائے گا کہ مذہب کے نام پر سیاسی نظام کم از کم پاکستان میں ناکام ہوچکا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ نام نہاد اسلامی ریاست کے تصور سے نجات حاصل کرکے ایسے نظام کی طرف پیش قدمی کی جائے جس میں سب انسانوں کو مساوی اعتبار اور احترام دیا جاسکے۔
وقت آگیا ہے کہ ایک لمحہ کے لیے توقف کرکے یہ سوچ لیا جائے کہ اگر پاکستان کو نظریاتی ریاست نہیں بنایا جاسکا تو اس کی کیاوجوہات ہیں ۔ اور اسی طریقے پر اصرار کرنے کی بجائے ایسا جمہوری طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی جائے جس میں عوام خود کو مہروں کی بجائے نظام چلانے میں فعال کردار کے طور پر محسوس کریں۔