بانی پی ٹی آئی کے انسانی حقوق
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 21 / اگست / 2026
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو دو دن میں الشفا ہاسپٹل منتقل کرنے اور پانچ رکنی میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیا ہے، جس میں ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمران کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمی کو شامل رکھنے کی بھی اجازت ہوگی۔
یہ بھی حکم دیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہل خانہ سے ہفتے میں ایک بار بالمشافہ ملاقات کروائی جائے گی، نیز اس کے بیٹوں کی ہفتے میں دو بار ٹیلی فون گفتگو کرائی جائے گی، مزید یہ کہ حکومت اب تک کا مکمل میڈیکل ریکارڈ عدالت میں جمع کروائے گی۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کر دی گئی ہے کہ میڈیکل رپورٹ کو پبلک کرنے یا سیاسی فائدہ کیلیے استعمال کرنے پر پابندی ہوگی۔ اس طرح ہسپتال کے احاطے میں سیاسی اجتماع یا ایسی سرگرمیوں پر بھی بندش ہوگی۔ ان ہدایات کی خلاف ورزی پر تمام فیسیلیٹیز فوری طور پر واپس لے لی جائیں گی۔ اگرچہ حکومت نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف ریویو کی اپیل دائر کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے، لیکن ایسے حکم میں تبدیلی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہی ہوتی ہے۔
سیاسی وعوامی حلقوں میں سپریم جوڈیشری کے اس فیصلے کی بھرپور تحسین کی جا رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہمارے سسٹم میں اس نوع کے فیصلے بالعموم کسی نہ کسی ڈیل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے انٹیرئیر منسٹر محسن نقوی کے ساتھ چیف منسٹر کے پی اور دیگر ذمہ داران کی ہونے والی ملاقاتوں کے ریفرنسز بھی دیے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کے پی چیف منسٹر احتجاجی تحریک کے حوالے سے جو لچک یا ڈھیل دکھا رہے ہیں، جیسے کہ انہوں نے احتجاجی تحریک میں شتابی دکھانے کی بجائے اسے 27 ستمبر تک التوا میں ڈال دیا ہے، تو یہ بھی درون خانے ہونے والی ایک نوع کی انڈرسٹینڈنگ کا نتیجہ ہے۔
لیکن پی ٹی آئی کے اندر شدت پسند اپروچ کے حاملین دبے لفظوں میں سہیل آفریدی پر تنقید کرتے بھی سنائی دے ہیں۔ ان لوگوں کو اس نوع کا ادراک ہونا چاہیے کہ کسی بھی ریاست میں بلا پلاننگ اندھا دھند احتجاجی تحریکیں بارہا بہتری کی بجائے بدتری کا باعث بن جاتی ہیں۔ حکومتی ذمہ داری پر فائز کسی بھی شخصیت کو معاملات کی حساسیت کا کچھ نہ کچھ ادراک کرتے ہوئے ہی آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ ایسی باتوں پر ناک بھوں چڑھانا یا کمپرومائزڈ کا طعنہ دینا زمینی حقائق کا منہ چڑانے والی بات ہوتی ہے۔ اسی مس انڈرسٹینڈنگ کا شکار ماقبل سابق چیف منسٹر علی امین گنڈاپوربھی ہو چکے ہیں۔ حالانکہ وہ آفریدی سے کہیں زیادہ حساس ایشوز کی سوجھ بوجھ رکھتے تھے، بلکہ ان کی کارکردگی آفریدی سے نمایاں طور پر بہتر تھی۔
ہمارے جو احباب ہمسایہ ملک میں جین زی کی کاکروچ تحریک سے متاثر ہو کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ عمران کی رہائی کے لیے بس کال دینے کی دیر ہے۔ نوجوانوں کے جتھے ہی نہیں عوام کا احتجاجی سونامی سڑکوں پر اُمنڈ آئے گا۔ انہیں چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا کے مائنڈسیٹ سے باہر آ کر پاکستان کے معروضی حالات کی روشنی میں اپنی سوچ پر نظر ثانی فرمائیں۔ انڈیا پر آپ لاکھ تنقید کریں، وہاں بہرحال پورے تسلسل کے ساتھ ایک مستحکم جمہوریت قائم و دائم چلی آ رہی ہے جبکہ پاکستان کے ہائبرڈ سسٹم کا کس کو انکار ہے؟ یہاں ہماری اسٹیبلشمنٹ اتنی طاقتور ہے کہ خود پی ٹی آئی کی عمومی قیادت ہی نہیں بانی تک کی اپروچ پیہم یہ چلی آ رہی ہے کہ ہم اپنی کسی سیاسی حکومت کو کچھ نہیں مانتے۔ بات چیت صرف عسکری اسٹیبلشمنٹ سے ہی ہو سکتی ہے یا ان کے براہ راست نمائندے سے۔ جبکہ عسکری اسٹیبلشمنٹ روز اول سے ایسے کسی بھی مطالبے کو سننے کے لیے آمادہ نہیں ہو پائی۔
بالفرض اب اگر انہی کی طرف سے بدلے ہوئے حالات ہیں کوئی گنجائش نکلتی دکھتی ہے تو اس کی تحسین کی جانی چاہیے۔ البتہ یہ امر کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی عسکری اسٹیبلشمنٹ سے جس نوع کا کامل ریلیف چاہتی ہے، بڑی شخصیت کی موجودگی میں اس کی امید نہ ہی رکھی جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ اس سلسلے میں صورتحال اس سطح تک پہنچی ہوئی ہے جیسی 77 کے بعد یہاں بھٹو اور ضیا کے حوالے سے تھی۔ کچھ خوش گمان اس نوع کی پیش گوئیاں فرما رہے ہیں کہ سیم پیج اگر پھٹا نہیں ہے تو پھر بھی شاید اس میں کوئی نہ کوئی دراڑ ضرور آ چکی ہے جس کا فائدہ پی ٹی آئی یا اس کے بانی کو پہنچ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اینٹ سے اینٹ بجانے والے سے لے کر بلند پرواز تک کے ریفرنسز سے مختلف النوع ہوایاں اڑائی جا رہی ہیں۔ کراچی کو فیڈرل کنٹرول میں دینے سے لے کر صوبوں کی نئی توڑ پھوڑ تک کو بطور حوالہ پیش کرتے ہوئے خوا مخواہ زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔
بالفرض اگر کراچی کے متعلق کوئی ایسا بڑا فیصلہ ہونے کی نوبت آ بھی گئی، تب بھی یہ سمجھنا غلطی ہوگی کہ موجودہ سندھی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ انہیں اپنے بانی سے لے کر بچہ جمہورا تک اس امر کا ادراک ہے کہ اس نوع کی اٹھان ان کے لیے کیا مصائب لا سکتی ہے ان کے اندر تو کوئی ایسا سافٹ وئیر ہی نہیں جسے بدلنے کی نوبت آئے۔ رہ گیا بلند پرواز اسے تو لیگی قائد کے بالمقابل اوپر لایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی سرشت میں فقط اللہ ہو اللہ ہو ہے اور پھر لیگی قائد نے بھی اس نوع کا حکم صادر فرما دیا ہے کہ شاہ کا مصاحب کچھ بھی کہے آپ سمجھیں دیوار کو کہا ہے، گونگے ہو جانا ہے۔
اب اصل بات پر آتے ہیں یہ سوال جو لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ کیا کھلاڑی کی رہائی ہو رہی ہے؟ کیا اسے لیگی قائد کی طرح بیرون ملک چلے جانے کی سہولت دی جانے والی ہے؟ درویش کی نظر میں فی الوقت تو دونوں آپشن خالی ہیں۔ اگرچہ کھلاڑی کے فینز اس نوع کا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان، بڑی بڑی پیشکشیں ہو چکی ہیں باہر جانے کی مگر انہیں پائے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا ہے۔ ایسی اپروچ غیر دانشمندانہ ہی نہیں بچگانہ بھی قرار دی جا سکتی ہے، بہ حالات موجودہ طاقتور ایسا کوئی رسک آخر کیسے لے سکتے ہیں؟ بالفرض وہ اس نوع کی گنجائش نکالنے کا سوچیں بھی تو پی ٹی آئی کیلیے اس سے میٹھی کھیر کیا ہو سکتی ہے؟
اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ اس ملک بدنصیب میں اس وقت جو بھی سسٹم ہے چاہے وہ ہائبرڈ ہے یا کلیپسڈ، ہیومن رائٹس کے حوالے سے درویش عرض گزار ہے کہ کسی بھی سیاسی لیڈر یا عوامی سطح پر پسندیدہ شخصیت کے لیے کم از کم وہ سیاسی و انسانی حقوق ضرور ہونے چاہئیں جن کی توقع کوئی بھی شہری اپنی آئینی ریاست سے کر سکتا ہے۔ وہ اڈیالہ جیل میں ہو یا الشفا ہاسپٹل میں یا اپنے گھربنی گالہ میں، اس کی فیملی یا اس کے بچوں کو اس سے ملاقات نہ کرنے دینا یا اس حوالے سے قدغنیں عائد کرنا ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح کسی سیاسی پارٹی کی قیادت کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے قائد سے ملاقات کرتے ہوئے رہنمائی حاصل کر سکے۔ اگر وہ تشدد یا توڑ پھوڑ کی بات کریں پھر تو قانون ضرور حرکت میں آئے۔ بصورت دیگر قانون کو ان کے شہری حقوق کا پاسدار ہونا چاہیے۔
بلا شبہ کھلاڑی کو ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے کے بعد اڈیالہ جیل ہی بھیجا جاۓ گا لیکن ایک متبادل اپروچ ہے کہ اس وقت سیاسی طور پر پاکستان میں جس نوع کی گھٹن محسوس کی جا رہی ہے، اسے معتدل کرنے کا بہترین تقاضا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سیاسی رہنما کو مسلسل جیل خانہ میں رکھنے کی بجائے اسے بنی گالہ میں منتقل کرتے ہوئے اس کے گھر کو ایک طرح سے سب جیل قرار دے دیا جائے۔ آپ فوجداری و کرپشن کے مقدمات ہرگز واپس نہ لیں لیکن عدالتی پیشی کا اہتمام شاید یہاں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔