ہم مضبوط پوزیشن میں ہیں، جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ تہران اس وقت واشنگٹن کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پزشکیان نے ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں جبکہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ بھی کسی واضح نتیجے کے بغیر جاری ہے۔
تہران نے اہم آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند رکھا ہوا ہے جبکہ واشنگٹن ایران کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں اپنی بحری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ امریکہ نے تمام ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا بھی دعویٰ کیا۔ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ان (ایران) کے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی بحریہ نہیں ہے۔ ان کے پاس فضائیہ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں نہیں دے رہے۔ وہ اپنی پولیس کو بھی تنخواہیں نہیں دے رہے۔ ان کے ہاں مہنگائی کی شرح 350 فیصد ہے، تو اب ہم بس یہ دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘
اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سرحد پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ اگر آپ ناکہ بندی کو دیکھیں تو آبنائے ہرمز سے متعلق پورے علاقے پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے اور اس میں کافی اندر تک زمینی علاقے بھی شامل ہیں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن میری رائے میں وہ ابھی درست معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
رؤئٹرز کے مطابق جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں، تاہم اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست فائرنگ نہیں ہو رہی اور نہ ہی امن مذاکرات جاری ہیں۔ اسی دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے۔ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا دباؤ برقرار رکھتے ہوئے ایسے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رہا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کریں۔
چین ایران سے برآمد ہونے والے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ تجزیاتی ادارے کیپلر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ تیل کی منزل چین ہے۔ چین نے امریکی دباؤ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔