تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے میں تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔درخواست میں سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ جواب دہندگان اور توہین عدالت کے مرتکبین کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں، مزید یہ کہ عدالت انہیں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی جاری کرے۔ جواب دہندگان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
عدالت سے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے، درخواست میں عمران خان کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں طبی معائنہ کرانے کی استدعا بھی کی گئی۔سپریم کورٹ سے عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے عدالتی افسر تعینات کرنے یا لوکل کمیشن مقرر کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
توہین عدالت کی یہ درخواست عزیر بھنڈاری اور سلمان اکرم راجا کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ عدالت نے اس معاملے سے متعلق کیس کی سماعت پہلے ہی 16 ستمبر تک ملتوی کر رکھی ہے۔ توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کے بعد سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید کا محور سپریم کورٹ ہے، قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا، جو فیصلہ تھا بڑا واضح تھا کہ بانی کا علاج شفا انٹرنیشنل ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جھوٹ بیانیہ بنایا گیا کہ راستے میں رش تھا ایسا کچھ نہیں تھا۔ یہ ایک سوچی سمجھی سپریم کورٹ اور بانی کے خلاف سازش تھی، یہ مقدمہ ہم عدالت میں بھی لڑیں گے اور پاکستانی قوم کے ساتھ عدالت کے باہر بھی لڑیں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی دائر کردہ درخواست میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو فریق نہیں بنایا۔ وکیل علی عزیر بھنڈاری نے ایکس پر وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس توہینِ عدالت کی درخواست میں اعظم تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کو فریق اس لیے بنایا گیا ہے کیونکہ عمران خان کی منتقلی کے معاملے پر انہوں نے جو بیانات دیے، وہ درخواست کا حصہ بنے ہیں۔
وکیل کے مطابق وزیراعظم کو فریق بنانے کی بنیاد سپریم کورٹ کا یوسف رضا گیلانی کیس کا وہ فیصلہ ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ اگر حکومت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے تو بالآخر اس کی ذمہ داری وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل کے مطابق محسن نقوی کو فریق نہیں بنایا گیا کیونکہ اس معاملے پر ان کا کوئی ایسا بیان یا مواد سامنے نہیں آیا، جس کی بنیاد پر انہیں درخواست میں شامل کیا جا سکے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کے علاج اور طبی معائنے کے حوالے سے انتظامیہ نے عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کیا اور اس ضمن میں تمام اقدامات شفاف انداز میں کیے گئے۔ اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف اس معاملے پر ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ کر رہی ہے، حالانکہ عمران خان کا عدالتی حکم کے مطابق طبی معائنہ کروایا گیا اور معائنے کے وقت ان کی ہمشیرہ بھی موجود تھیں۔ ان کے بقول انتظامیہ نے عدالت کے احکامات کی مکمل پیروی کی اور حقائق لمحہ بہ لمحہ قوم کے سامنے رکھے۔