دنیا کا امن، عالمی سازشوں کے نرغے میں
- تحریر منور علی شاہد
- ہفتہ 22 / اگست / 2026
گزشتہ کچھ سالوں سے امن کےساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے وہ قابل مذمت اور باعث تشویش بھی ہے۔ عالمی سازشوں کا ایک ایسا جال عالمی سطح پر بچھارکھا گیا ہے کہ تمام تر تدابیر و کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
مفادات کے حصول کی اس عالمی کشمکش کے نتیجہ میں مختلف خطوں میں گروہوں کے درمیان اور ممالک میں جاری لڑائیوں نے امن کے خود ساختہ عالمی اداروں اور شخصیات کے چہروں پر لگے مصنوعی امن پسندی کے ماسک اتار دیئے ہیں اور اصلی چہرے ننگے کر دیئے ہیں۔ جنگی محاذوں پر تباہ کن ہتھیاروں کی آگ کی نذر ہونے والے تمام فریقین کے سپاہی اور اندھا دھند بمباری کی بدولت گھروں میں بیٹھی فیملیز، دفاتر میں کام کرنے مرد و خواتین اور سکولوں میں پڑھنے والے بچے بچیاں سبھی خون سے نہلائے گئے۔ اور تادم اس تحریر یہ سلسلہ جاری ہے۔
المیہ تو یہ ہے کہ عالمی طاقتیں جو اسلحہ کے بیوپاری بھی ہیں اس خوفناک حالات میں بھی اپنا امن پسندی کا کردار ادا کرنے کی بجائے منافقت کا ڈھول زور زور سے پیٹ رہی ہیں اور اسلحہ فروخت کرکے عالمی امن کو روند رہی ہیں اور منافع کما رہی ہیں جو انسانی جانوں کے نئے قبرستان آباد کرنے سے کمایا گیا۔ یہ سب کچھ قابل شرمناک ہے ۔
24فروری 2023 سے روس یوکرین کی جنگ عالمی اداروں اور ممالک کے لئے قیام امن کے لئے ایک چیلنج بنی ہوئی تھی۔ اس میں کامیابی تو دور کی بات رہی، ایک اور جنگ بھی ایران پر امریکی حملے سے شروع ہو گئی جس کا آغاز بھی فروری کے مہینہ میں ہوا۔ 28 فروری 2026 کو۔ جس کے اثرات دیکھتے ہی دیکھتے مشرق وسطی تک پھیل گئے جس نے بلاشبہ ایک نئی عالمی جنگ کی واضع جھلکیاں دنیا کو دکھا دیں۔۔ سچی اور غیر جانبدار بات تو یہ کہ اس تمام صورتحال میں کسی بھی فریق، ملک کو معصوم یا بےقصور یا کم زیادہ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔تمام ہی ممالک اپنی غیر منصفانہ پالیسیوں اور مختلف ممالک میں جنگی گروہ اس کے ذمہ دار ہیں جو ریاستوں کے کردار کی موجودگی میں اپنی الگ شناخت کے ساتھ دیگر ممالک سے الجھے ہوئے ہیں۔ یہ سیاسی چالبازیاں اور عالمی سازشیں ہی قرار دی جاسکتی ہیں جو کہ من پسند حکمرانوں کو اقتدار میں لانے کے لئے طاقت کے بل بوتے اختیار کی جاتی ہیں، جنہوں نے اب پوری دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونک رکھا ہے۔ اور خطے جنگ زدہ بنے ہوئے ہیں معصوم بےقصور شہری اور فوجی دونوں ہی ان جنگوں کا ایندھن بن کر رہ گئے ہیں۔ قبرستانوں کو آباد کررہے ہیں۔ دوسری طرف آباد گھر اور شہر اجڑ رہے ہیں۔
فلسطین میں جس طرح لاکھوں معصوم فلسطینیوں کوکیڑے مکوڑوں کی طرح مارا گیا اس کی لرزہ خیز تفصیلات اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کی رپورٹوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ ہلاکتوں کی کہانیاں لرزہ خیز بھی ہیں اور عالمی اداروں کے منہ پر طمانچہ بھی کہ وہ قیام امن کے میدان میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اگر عام شہریوں کی امن پسندی کی بات کی جائے تو یقینی طور سلیوٹ کیا جانے چاہیے، ان عام شہریوں کو جنہوں نے چھوٹے بڑے ہر ملک و شہر میں ان جنگوں اور بمباری کے خلاف بڑے بڑے جلوس نکال کر عالمی طاقتوں اور اسرائیل جیسی امن دشمن طاقتوں کی بھرپور مذمت کی۔ ایران پر حملوں کے خلاف سب زیادہ خود امریکہ کے اندر دیکھنے میں آیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ہر ملک امن چاہتا ہیں۔ لیکن اس امن کی راہ کی رکاوٹوں کو ختم کئے گئے بغیر قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ چھوٹے لیکن مضبوط مسلح گروپوں نے دنیا کو جہنم بنا رکھا ہے اور قیام امن کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ فلسطینی کے ساتھ اب تک کی لڑی گئی لڑائیوں میں معصوم لاکھوں فلسطینیوں کی شہادتوں میں حماس کے کردار کو معاف نہیں کیا جاسکتا اور برابر کی ذمہ دار ہے۔ فلسطینی کے اندر دو متوازی حکومتوں کےقیام نے فلسطین کی کئی نسلوں کو ختم کردیا ہے۔ خود فلسطینی کے اندر مسلم قیادتوں کے درمیان اتفاق کے فقدان نے بھی مخالفین کو خونی ہولی کھیلنے کے مواقع فراہم کئے۔ یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ فلسطینیوں کے قتل عام میں اپنوں کے ہاتھ بھی خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ باعث حیرت ہے کہ جن ممالک کی فلسطین کے ساتھ سرحدیں ہی نہیں ملتیں، ان ممالک کی مداخلت نے بھی فلسطینی شہریوں کو گھروں کو ملیا میٹ کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مسلح اسلامی گروہوں کی سرپرستی کو بند کرنا خود اسلامی ممالک اور ان کے شہریوں کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ عجب تماشا ہے کہ اسرائیل اورامریکہ ایران پر حملے کرتے ہیں، دوسری طرف اسرائیل اور مشرق وسطی کے اسلامی ممالک ایران اور اس کے ہمنوا گروہوں کے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہاں واضح طور پر فرقہ پرستی کی نفرت دکھائی دیتی ہے۔
فرقہ پرستی کی کانٹے دار راہ پر خون آلود سفر کرنے کی بجائے موٹروے پر تیز رفتار سفر جمہوریت کا سفر کیا جانا چاہیے۔ ریاست کے اندر متوازی ریاست کے قیام اور اس پر عمل داری نے خود اسلامی ممالک کو ان کے تصور سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اس سے سبق سیکھنے کی اولین اور فوری ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی قوانین کی بھی پامالی ہی نہیں کی گئی بلکہ ان کی دھجیاں اڑائی گئیں ہیں۔چونکہ عالمی طاقتیں آپس کے اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہیں تو پھر سازشوں کے ذریعے دنیا کو جنگوں دھکیل دیا۔ روس اور چین دونوں ممالک بھی امن کے پیامبر کی بجائے اسلحہ کے بیوپاری کی شکل میں زیادہ فعال ہیں۔ اس وقت روس اور چین دونوں امریکہ سے حساب کتاب چکانے کے چکر میں دکھائی دیتے ہیں اور ایران کی ہر طرح کی فوجی امداد کرکے اس کو جنگ جاری رکھنے پر مجبور کررکھا ہے۔ جبکہ ایران کو اس کی قیمت اپنے انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی کی شکل میں چکانا پڑ رہی ہے۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا نہ کبھی ایران نےاس طرف سنجیدگی دکھائی تھی۔ بلکہ وہ دوسرے ممالک کے مشوروں پر زیادہ عمل کرتا دکھائی دیتا رہا۔
موجودہ جنگی صورتحال میں کوئی "برادر" ملک نہیں ہے۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے اور ایک دوسرے کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہیں۔ پہلے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے پھر پیسے مانگے جاتے ہیں۔ یہ رنگ برنگے دفاعی معاہدے کتنے دیرپا ہوں گے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ تادم تحریر تو عالمی سطح پر سازشوں کے تانوں بانوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت اولین اور فوری ضرورت یہ ہے کہ قیام اور فروغ امن کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو سنا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔