لیڈر: دیوتا یا انسان
- تحریر خورشید ندیم
- ہفتہ 22 / اگست / 2026
انسان کے بارے میں جو بات غالب نے کہی وہی درست ہے:
کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
یہ عامی ہو یا لیڈر،حالات سے اثر قبول کرتا ہے۔ اسے سردی لگتی ہے اور گرمی بھی۔ بہادر ہو گا تو اس کی شکایت نہیں کرے گا۔ وہ صابر ہو گا۔
صبر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آدمی موسمی اثرات سے بے نیاز ہو جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے جسم اور جاں پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوں۔ پیغمبر جو انسانوں میں سے خدا کی مشیت کے سب سے بڑے راز دار ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے جب کوئی پیارا جدا ہو۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کا گریہ تو اب مذہبی نہیں، غیر مذہبی ادب میں بھی استعارہ بن چکا ہے۔
عام انسانوں کا مزاج مگر یہ ہے کہ وہ جب کسی کی پوجا شروع کر دیں یا کسی کی عقیدت میں مبتلا ہو جائیں تو اسے مافوق البشر ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں۔ ان میں اپنی عقیدت سے ایسے اوصاف پیدا کر دیتے ہیں جو انہیں انسانی دائرے سے نکال کر مابعد الطبیعیاتی دائرے میں لا کھڑا کر دیتے ہیں۔ وہ اسے دیوتا سمجھنے لگتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ کوئی انسان دیوتا نہیں ہوتا۔ یہ انسان ہیں جو انہیں یہ منصب عطا کرتے ہیں۔ دیکھیے حمایت علی شاعر نے ایک ثلاثی میں کیسے یہ مضمون باندھا ہے:
یہ ایک پتھر ہے جو راستے میں پڑا ہوا ہے
اسے محبت تراش لے تو یہی صنم ہے
اسے عقیدت نواز دے تو یہی خدا ہے
عمران خان انسان ہیں۔ انہوں نے ایک آسودہ زندگی گزاری ہے۔ تاہم ایک کھلاڑی ہونے کے ناتے وہ عام آدمی کی نسبت سردی گرمی برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ تپتی دھوپ میں میدان میں کھڑے ہوتے ہیں جو عام آدمی کے لیے شاید ممکن نہ ہو۔ تاہم کھلاڑی کی بھی اپنی حدود ہیں۔ ہم کرکٹ گراؤنڈ میں دیکھتے ہیں کہ کھلاڑی چہرے پر رنگ برنگی کریم لگا لیتے ہیں۔ یہ خود کو دھوپ کی حدت سے بچانے کی کوشش ہوتی ہے۔ کھلاڑی کی جلد بھی دھوپ سے اثر قبول کرتی ہے۔ عمران خان صاحب کی بھی تحدیدات ہیں۔ وہ بھی سردی گرمی کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ اپنوں کی جدائی، تنہائی، بے بسی اور لاچاری، یہ سب عوامل اثر ڈالتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اگر ان کا جسم یا ان کی روح احتجاج کرتی ہے تو اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا تعلق انسان کے مجرم یا معصوم ہونے سے بھی نہیں۔ جو انسان ہوگا، وہ سردی گرمی کے احساس سے عاری نہیں ہو گا۔ اس کا جسم اس کی گواہی دے گا اور اس کی نفسیات بھی۔
قید تنہائی ایک سزا ہے۔ ابوالکلام آزاد جیسے چند ہی ہوتے ہیں جو تنہائی کو عیاشی سمجھتے ہیں۔ انسان دوسرے انسانوں کو دیکھنا اور ان سے ہم کلام ہونا چاہتا ہے۔ تنہائی کے غیر معمولی اثرات انسانی نفسیات پر مرتب ہوتے ہیں۔ ہم نفسوں سے محرومی اور دوری شخصیت کو برباد کر دیتی ہے۔ اس بات کو ریاست بھی محسوس کرتی ہے اور مذہب بھی۔ اس وجہ سے ہمارے ہاں قیدیوں کے بارے میں یہ قانون بنایا گیا ہے کہ ان کو اپنے زوج سے ملنے کی اجازت ہو اور ریاست اس کی سہولت فراہم کرے۔ سزا اس لیے نہیں ہوتی کہ انسان مریض بن جائے۔ وہ اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں بہتری آئے۔
عمران خان کے بارے میں عوام افراط وتفریط میں مبتلا ہیں۔ بہت سے لوگ انہیں ’دیوتا‘ سمجھتے ہیں۔ وہی ہیں جو ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان، کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ ہر سیاسی ڈیل کو رد کرتے ہیں اور ان کی طرف ایسی ہر بات کا انتساب قبول نہیں کرتے جو انسانی جذبات سے تعلق رکھتی ہے۔ جس سے ان کا عام انسان ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ’دیوتا‘ ابتدا میں اپنی اس شہرت سے خوش ہوتا ہے لیکن جلد ہی ایسا وقت آ جاتا ہے کہ اس کے انسانی جذبات اس کو بے چین کرتے ہیں۔ اسے گرمی کی شدت ستاتی ہے۔ اسے سردی بھی لگتی ہے۔ دیوتا کا یہ خود تراشیدہ سراپا تقاضا کرتا ہے کہ وہ سردی کا اظہار کرے نہ گرمی کا۔ اب اس کے وجود کے اندر انسان اور دیوتا کی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ اگر زیادہ عرصہ جاری رہے تو انسان کو ذہنی مریض بنا دیتی ہے۔
مخالفین کا معاملہ بھی اسی طرح غیر فطری ہوتا ہے۔ اگر لیڈر انسان بن کر سوچے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اگر وہ بیوی بچوں سے محبت کا اظہار کرے، اگر وہ جیل کی تنہائیوں سے نجات حاصل کرنا چاہے تو وہ اسے استہزا کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ اس کے انسانی جذبات کی توہین کرتے اور اسے کمزور ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف، اگر ان کا اپنا لیڈر ایسی حرکت کا مرتکب ہو تو اس کی تاویل کرتے ہیں، اس کا دفاع کرتے ہیں۔ اگر وہ ذہنی کیفیت سے نکل کر اس معاملے کو سمجھیں تو انہیں اندازہ ہو کہ ان کا لیڈر ہو یا کسی اور کا،وہ ہے تو انسان۔ اسے کسی عزیز کے مرنے کا دکھ ہو تا ہے۔ اس میں بھی بچوں سے ملنے کی خواہش ہوتی ہے۔ وہ بھی آزاد فضاؤں میں جینا چاہتا ہے۔ اگر اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے تو شاید ہمارے رویوں میں وہ افراط وتفریط پیدا نہ ہو جس کا ہم مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اگر اس حوالے سے کوئی بات اہم ہے تو وہ کسی اصول پر سمجھوتا نہ کرنا ہے۔ آزادی اور بچوں سے ملنے کے لیے اگر اسے کسی اصول کی قربانی دینا پڑے تو وہ آزادی کو کھونا تو گوارا کرے مگر بے اصولی کو قبول نہ کرے۔ اس باب میں سیدنا یوسف علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے جو آزادی پر جیل کی تنہائیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ رہا یہ اقتدار کا کھیل تو یہ انسانوں کے مابین کھیلا جاتا ہے۔ وہ انسان جو نہ دیوتا ہیں اور نہ ہی اصول کی کوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جس نے اصول کی لڑائی لڑنی ہوتی ہے، وہ اقتدار کی کشمکش میں فریق نہیں بنتا۔ پاکستان کی تاریخ اس سے بھری ہے۔ مذہبی جماعتوں نے اقتدار کی سیاست کی تو ہم نے انہیں اسمبلی کی نشستوں پر لین دین کرتے دیکھا۔ کچھ دے اور کچھ لے کو بطور اصول اپناتے ہوئے دیکھا۔ ریاستی اداروں اور قوتوں سے سازباز کرتے دیکھا۔ اس میں کوئی استثنا پاکستان کی سیاست میں موجود نہیں۔ اقتدار کی سیاست، رخصت کی سیاست ہے، عزیمت کی نہیں۔ بعض نرگسیت زدہ لوگوں کو جب ہم کھڑا دیکھتے ہیں تو اس کی وجہ اصول نہیں، ان کی فطری ساخت ہے۔ یہ انا کی جنگ ہوتی ہے جسے یہ دکھاوے کے لیے اصول کی جنگ بنا دیتے ہیں۔
اگر لوگ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دیوتا سمجھنے کے بجائے،انسان مان لیں تو انہیں اندازہ ہو جائے کہ ان سے منسوب کتنی کہانیاں محض افسانے ہیں۔ یہ سب ڈیل کرتے ہیں اور اقتدار کی سیاست میں یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ یہ بیمار ہوتے ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ جیل میں علاج کے لیے حکومت سے اپیل کرتے ہیں تو یہ بات انسانی وقار سے متصادم نہیں۔ حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ انسانی جذبات اور سیاست کو الگ رکھیں۔ عمران خان کو علاج کی ضرورت ہے تو ان کا علاج ہونا چاہیے۔ اس بات کا تعلق سیاست سے نہیں، اخلاقیات سے ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)