اتنی مختصر کہاں غم کی شام

کیسی نفسیاتی حالت قوم کی بن گئی ہے کہ ہر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ ہسپتال منتقلی کا ناٹک صرف پی ٹی آئی سے نہیں ہوا بلکہ پوری قوم سے ہوا کیونکہ سب ہی اس بات میں آ گاہ تھے کہ سپریم کورٹ کا حکم آیا ہے تو ضرور کچھ نہ کچھ بات ہو گی۔ ہسپتال منتقلی بھی ہو جائے گی اور شاید معتوب جماعت کے اچھے دن آنے والے ہیں۔

تجزیہ کاروں کی صرف اب کھیپ نہیں رہی یوٹیوب کی مہربانی سے اب تو ایک پوری فوج تیار ہو چکی ہے۔ کچھ دن یہ فوج بھی اسی کام پر لگی رہی کہ بس اب کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ لیکن جو ہوا اور جس انداز سے ہوا وہ قوم کیلئے ایک سبق ہے۔بنیادی سبق یہ کہ جب تک کوئی سیاسی زلزلہ نہ آئے سیاسی حقیقتیں جوں کی توں رہتی ہیں۔ اقتدار کا اصل کیا ہے اور اقتدار کی نمائش کیا ہے سب کو پتا ہے۔ گو واضح مجبوریوں کی وجہ سے سب کچھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جو اصل اقتدار ہے اُس کا بنیادی تضاد کس سے ہے؟ اڈیالہ کے قیدی سے اور اُس کی جماعت سے۔ جماعت سے بھی اس لیے کہ مخصوص قیدی کی جماعت ہے،نہیں تو جس قسم کی باقی قیادت ہے وہ اصل اقتدار کیلئے کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ کوئی انقلابی جماعت تو ہے نہیں، لیڈر کی وجہ سے جماعت کا ایک مخصوص حلیہ بن گیا تھا جو کہ اصل والوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔ دوسری بڑی حقیقت ملک کی یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ، کسی کے تابع نہیں۔ ایسے میں حکم سپریم کورٹ کا چلنا تھا یا اقتدار کے مالکوں کا؟ لہٰذا وہی کچھ ہوا جو مالکوں کی مرضی اور منشا کے مطابق تھا۔ لیکن قوم بھٹک گئی۔ بتی اُسے دکھائی گئی اور اُس کے پیچھے لگ گئی۔ لیکن اب قوم ہوش میں آ گئی ہو گی کہ بنیادی حقیقتیں جوں کی توں ہیں اور اُن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نہ اقتدار والوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ کا رونا جو اُن کے ساتھ بیتی اُس پوری روداد کا بیان کرنا۔ پمز میں کیسے ایک کمرے میں بٹھایا گیا پھر کسی اور کمرے میں لے جایا گیا۔ سرسری سا معائنہ، ہسپتال کے راستے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے۔ کہاں یہ حقیقت اور کہاں وہ خیالی منظر کہ شفا میں رکھا جائے گا اور دیکھ بھال ہو گی۔ ڈاکٹر عظمیٰ بہت کچھ کہہ گئیں جو میری دانست میں اُنہیں نہیں کہنا چاہیے تھا۔ ذہنی ٹارچر کا بار بار ذکر،یہ کہنا کہ تنہائی کی وجہ سے ذہنی اضطراب اور بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، بار بار کے اس ذکر کی کیا ضرورت تھی؟ یہ سن کر اہلِ ستم کی خوشیوں کی انتہا نہ رہی ہو گی۔ اہلِ ستم کیلئے ڈاکٹر عظمیٰ کا رونا اور ذہنی ٹارچر کا ذکر کرنا اس امر کی تصدیق ہو گی کہ جو کچھ کیا جا رہا ہے کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ پھر مصر کے صدر مرسی کا ذکر کہ اسی طریقے سے درِ زنداں ان کی زندگی ختم ہوئی، میرے خیال میں بالکل ہی نامناسب تھا۔ کیونکہ جہاں یہ سن کر ہمدردی رکھنے والوں کے دل بوجھل ہوئے ہوں گے ،اہلِ ستم تو شادماں ہوں گے۔ اپنے جذبات پر کچھ ضبط کرنا چاہیے تھا۔ عجیب جماعت ہے، کوئی تو لیڈر وہاں ہوتا ڈاکٹر عظمیٰ کو بتانے کیلئے کہ کتنا کہا جائے اور کن پہلوؤں کو زبان پر نہ لایا جائے۔ پھر یہ کہنا کہ میں نے اُن سے کہا کہ ان سب کو دیکھ لیں گے،یہ تو پھر غیر محتاط گفتگو ہو گئی اور اس وقت معتوب جماعت کو اگر کچھ چاہیے وہ احتیاط اور دانش ہے۔

پھر یہ جو روش ہے کہ ہر موقع پر کسی تحریک کا ذکر کرنا۔ احتجاج اور تحریک کے کتنے اعلان ہوئے، اُن سے حاصل کیا ہوا؟ جس کا یہ مطلب نہیں کہ حوصلے پست ہو جائیں اور جدوجہد ترک کر دی جائے۔ لیکن اتنا تو دیکھا جائے کہ کس موقع پر کیا کرنا ہے اور کیا کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ اقتدار کی اصل نوعیت سب جانتے ہیں۔ ظاہری حکومتیں کتنی بااختیار ہیں اور ان کی اپنی طاقت کیا ہے وہ بھی سب پر واضح ہے۔ پشاور سے کوئی جلوس نکلے تو جیسا کہ کئی بار دیکھا جا چکا ہے وہ ایک حد تک ہی آگے پہنچ پاتا ہے اور پھر واپسی کا سامان باندھنا پڑتا ہے۔ جب صورتحال ایسی ہو جیسا کہ اس وقت پاکستان میں ہے تو مجبوریوں کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ جدوجہد تو جاری رہے لیکن دیوار میں سر نہ مارا جائے۔ حکمت اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہے تاکہ جس صورتحال میں جماعت پھنس چکی ہے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر آئے۔ اتنی بات تو سمجھی جائے کہ جو کچھ ذوالفقار علی بھٹو ضیا رجیم کیلئے تھے وہی کچھ اڈیالہ کے قیدی موجودہ صورتحال میں ہیں۔ انگریزی کا لفظ ہے Existence یعنی  بقا۔ یہ بقا کی جنگ ہے۔ یا تم یا ہم۔ جہاں یہ صورتحال ہو وہاں ارادے لمبے ہو جاتے ہیں۔ صدر مرسی والی بات تھی صحیح ۔میرا اعتراض تو صرف یہ ہے کہ صحیح ہونے کے باوجود اُس کا ذکر غیر دانشمندانہ تھا۔

ایوب خان کا دور لمبا تھا، ضیا الحق کا اُس سے بھی کچھ زیادہ۔ مشرف کا اتنا کم نہ تھا اور جیسا کہ نظر آ رہا ہے موجودہ دور کسی لحاظ سے بھی اختصار کی نوید نہیں دے رہا۔ ہوتا یہ ہے کہ اقتدار کا تختہ اُلٹ جائے جیسا کہ بھٹو کے ساتھ ہوا اور ہمارے سامنے عمران کے ساتھ ہوا ہے تو سیاسی حرارت اتنی پیدا ہوتی ہے اور دھول اتنی اُٹھتی ہے کہ آگے کچھ صحیح نظر نہیں آتا۔ بھٹو کے ساتھ یہ ہوا اور یہاں بھی یہی ہوا۔ بہرحال سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سیاست کی ہمیشہ کمزوری رہی ہے کہ سیاستدانوں کی سوچ کچھ زیادہ ہی وکیلانہ بن جاتی ہے۔ آئین اور قانون کا کمبل کچھ زیادہ ہی سروں پر چڑھا لیا جاتا ہے۔ جانتے ہوئے کہ ہماری ریاست میں آئین اور قانون کی حیثیت کیا ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے سپریم کورٹ کا راستہ نہیں اپنایا تھا؟ چار روز وہاں خود اپنی وکالت کی، کیا حاصل ہوا اُنہیں؟ اس ہسپتال ڈرامہ کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ کی طرف سے توہینِ عدالت کی کارروائی سپریم کورٹ میں کی جا رہی ہے۔ ضرور کرنی چاہیے لیکن اس سے حاصل کیا ہو گا؟ تحریک والوں کو آپس میں بیٹھ کر کچھ سوچ بچار کرنی چاہیے۔ اور بات بات پر یہ جو ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ ہے کہیں تو ختم ہو۔

مشکل صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سب سے بڑی اور مقبول جماعت کو دوسرے لیڈروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اُن لیڈروں کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن پی ٹی آئی کیلئے وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے۔ وہ ویسے بھی حساس صوبہ ہے۔ زوروں سے وہاں شورش برپا ہے۔ المیہ دیکھیں پی ٹی آئی کا کہ سیاسی سوچ کے حامل جو لوگ ہونے چاہئیں اُس کے پاس نہیں ہیں۔ اس لیے جماعت مارے مارے پھر رہی ہے۔ جہاں تک بہنوں کا تعلق ہے وہ قصور وار نہیں ٹھہرائی جا سکتیں کیونکہ اُنہوں نے تو جذباتی باتیں ہی کرنی ہیں۔

فی الحال تو اتنا ہی ہو جائے کہ کتب، اخبارات اور ٹی وی کی رسائی بحال ہو، ملاقاتیں کھل جائیں۔ ہجوم نہ ہو نہ وکلا کی لائنیں ہوں۔ ایک دو وکیل ہفتہ وار ملیں، بہنیں مل سکیں اندرونِ جیل بشریٰ بی بی کے حالات میں بھی کچھ نرمی آئے۔ باہر جو ہونا ہے ہوتا رہے۔ اٹھائیسویں ترمیم آئے، نیا سیاسی ڈھانچہ سامنے آئے۔ لیکن اندر کے حالات کچھ بہتر ہوں۔ یار زندہ صحبت باقی۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)