دہر میں اِسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے

ربیع الاول کا چاند طلوع ہوتے ہی مسلمانوں کے دلوں میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ فضائیں درود و سلام سے مہکنے لگتی ہیں، محفلیں سجتی ہیں، نعتوں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور ہر طرف رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ سے محبت کا اظہار نظر آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اپنے اپنے انداز میں اس نسبت کو یاد کرتے ہیں۔ کہیں محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں، کہیں سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات ہوتے ہیں اور کہیں جلوس و چراغاں کے ذریعے عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہمارے لیے یہ موقع صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ اپنے دل سے یہ سوال کرنے کا بھی ہے کہ جس ہستی سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، کیا ہماری زندگی میں ان کی تعلیمات کی کوئی جھلک بھی موجود ہے؟میرے نزدیک رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔مذہب میرے نزدیک محض چند احکام کا مجموعہ نہیں۔ اسلام ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، ایسا راستہ جو انسان کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں سکھاتا بلکہ اسے ایک اچھا، دیانت دار، رحم دل، صابر، معاف کرنے والا اور ذمہ دار انسان بننے کی تربیت بھی دیتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیرتِ رسول ﷺ ہمارے لیے آج بھی اتنی ہی متعلقہ ہے جتنی چودہ سو برس پہلے تھی۔

حضرت محمد ﷺ کی شخصیت انسانی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس میں عقل و حکمت، رحمت و شفقت، عدل و انصاف، صبر و برداشت اور اعلیٰ اخلاق ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کی اصل حقیقت سے روشناس کرایا، اسے زندگی کا مقصد سمجھایا اور اسے یہ احساس دیا کہ انسان محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے دنیا میں نہیں آیا۔آپ ﷺ نے انسان کو بتایا کہ زندگی ایک ذمہ داری ہے، ایک امتحان ہے اور ایک امانت ہے۔آپ ﷺ کی تعلیمات نے انسان کو تین بنیادی راستے دکھائے: حقیقت کی معرفت، اخلاق کی بلندی اور عقل و شعور کا استعمال۔اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں قبائلی تعصبات، بت پرستی، طاقت کا غرور اور کمزوروں پر ظلم عام تھا۔ ایسے ماحول میں رسولِ اکرم ﷺ نے ایک نہایت سادہ مگر انقلابی پیغام دیا:اللہ ایک ہے، انسان برابر ہیں اور زندگی ذمہ داری کا نام ہے۔یہ پیغام صرف عقیدے کی تبدیلی نہیں تھا،  یہ انسانی کردار کی تعمیر کا آغاز تھا۔

آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں ترقی کے باوجود انسان پہلے سے کہیں زیادہ تنہائی، خود غرضی، مادہ پرستی اور بے اعتمادی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ دولت بڑھ رہی ہے مگر دل سکڑ رہے ہیں۔ رابطے بڑھ گئے ہیں مگر تعلقات کمزور ہو رہے ہیں۔ انسان کے پاس دوسروں تک پہنچنے کے ہزاروں ذرائع ہیں لیکن ایک دوسرے کو سمجھنے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ایسے میں سیرتِ رسول ﷺ ہمیں دوبارہ رحمت، محبت، صبر، ایثار، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کی طرف بلاتی ہے۔رسولِ اکرم ﷺ نے انسانی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اخلاق کو بنیادی اہمیت دی۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ کسی انسان کی عظمت اس کی دولت، منصب یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے متعین ہوتی ہے۔شکرگزاری بھی سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک اہم پہلو ہے۔ حدیثِ مبارک کا مفہوم ہے کہ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ذرا غور کیجیے! آج ہمارے معاشرے میں شکایت بہت ہے اور شکر کم۔ ہم دوسروں کی غلطیاں فوراً دیکھ لیتے ہیں لیکن ان کی چھوٹی سی نیکی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم معافی مانگنے سے زیادہ معاف کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔حالانکہ رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی ہمیں معافی اور درگزر کا غیر معمولی سبق دیتی ہے۔

طائف کا واقعہ سیرتِ نبوی ﷺ کا ایسا باب ہے جسے یاد کرتے ہوئے دل بے اختیار جھک جاتا ہے۔ جب اہلِ طائف نے آپ ﷺ کی دعوت قبول کرنے کے بجائے آپ پر پتھر برسائے، آپ لہولہان ہوگئے، جسم زخمی ہوگیا، لیکن آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے رحمت کا راستہ اختیار کیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سمجھ آتا ہے کہ محبت صرف دعویٰ نہیں، محبت اپنے ردِعمل میں ظاہر ہوتی ہے۔

جو شخص ہمیں تکلیف دے، اسے معاف کر دینا آسان نہیں۔ جو ہمارے خلاف بولے، اس کے لیے خیر چاہنا آسان نہیں۔ لیکن رسولِ اکرم ﷺ نے ہمیں یہی مشکل راستہ دکھایا۔آج اگر ہم میلادِ رسول ﷺ منا رہے ہیں تو ہمیں اپنے اندر یہ سوال ضرور پیدا کرنا چاہیے کہ کیا ہمارے اخلاق میں بھی رحمتِ محمدی ﷺ کی کوئی جھلک ہے؟کیا ہم اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں؟کیا ہم اپنے پڑوسی کا خیال رکھتے ہیں؟کیا ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں؟کیا ہم اپنے ماتحت سے عزت سے پیش آتے ہیں؟کیا ہم اختلاف رکھنے والے انسان کو بھی احترام دیتے ہیں؟کیا ہم غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہیں؟اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم کسی ایسے شخص کو معاف کرسکتے ہیں جس نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہو؟یہ سوالات کسی ایک دن کے نہیں۔ یہ پوری زندگی کے سوالات ہیں۔

اسلام نے علم کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ قرآن کا پہلا پیغام ہی ”اقرأ“ یعنی پڑھنے کا حکم ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام انسان کو جہالت میں نہیں بلکہ علم، غوروفکر اور شعور میں آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔اس لیے اردو کے ایک ادیب کی حیثیت سے مجھے یہ بات بھی اہم محسوس ہوتی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف اپنی تہذیبی اور مذہبی تاریخ سے واقف نہ کرائیں بلکہ انہیں علم، تحقیق، سوال کرنے اور سوچنے کی آزادی بھی دیں۔رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں ایک ایسا انسان بنانے کی دعوت دیتی ہے جو عبادت گزار بھی ہو اور ذمہ دار شہری بھی، علم دوست بھی ہو اور رحم دل بھی، اپنے حقوق سے واقف بھی ہو اور دوسروں کے حقوق کا محافظ بھی ہو۔آج ہم مسلمانوں کے مسائل کا ذکر بہت کرتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ مسلمان دنیا میں کمزور کیوں ہیں؟ ہمیں بدنام کیوں کیا جاتا ہے؟ ہمارے درمیان اختلافات کیوں ہیں؟ ہم علمی اور معاشی میدان میں پیچھے کیوں ہیں؟لیکن شاید ہمیں ان سوالات کے ساتھ ایک اور سوال بھی پوچھنا چاہیے،کیا ہم نے اپنی زندگی میں رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو واقعی جگہ دی ہے؟اگر ہم نماز پڑھتے ہیں مگر جھوٹ بولتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں مگر دوسروں کا حق کھاتے ہیں، نعت پڑھتے ہیں مگر کسی انسان کی عزت پامال کرتے ہیں، میلاد مناتے ہیں مگر دل میں نفرت رکھتے ہیں، تو ہمیں اپنے عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کا تقاضا صرف زبان سے درود پڑھنا نہیں، آپ ﷺ کی پسندیدہ صفات کو اپنی شخصیت میں پیدا کرنا بھی ہے۔سچائی، امانت، عدل، رحم، سخاوت، صبر، شکر، عفو، حسنِ اخلاق اور انسانوں کے ساتھ محبت،یہی وہ چراغ ہیں جو سیرتِ رسول ﷺ ہمارے ہاتھ میں دیتی ہے۔اور شاید آج کی دنیا کو انہی چراغوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لیے نہیں آئے تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں پوری انسانیت کے لیے خیر، رحمت اور رہنمائی موجود ہے۔ اسی لیے سیرتِ رسول ﷺ آج بھی دنیا کے ہر اس انسان کے لیے اہم ہے جو ایک بہتر، عادل اور پُرامن معاشرے کا خواب دیکھتا ہے۔

میلادِ رسول ﷺ اگر ہمیں محبت سکھاتا ہے تو وہ محبت عمل بھی مانگتی ہے۔اگر ہمیں درود پڑھنا آتا ہے تو ہمیں دروغ سے بھی بچنا ہوگا۔اگر ہمیں نعت پڑھنا آتا ہے تو ہمیں نفرت سے بھی بچنا ہوگا۔اگر ہمیں رسولِ اکرم ﷺ سے محبت ہے تو ہمیں ان کے اخلاق کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دینی ہوگی۔تب ہی میلاد کا چراغ ہمارے گھروں سے نکل کر ہمارے کردار، ہمارے معاشرے اور پوری دنیا کو روشن کرسکے گا۔آج ربیع الاول کے اس مبارک موقع پر ہمیں اپنے دل میں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کو صرف کتابوں میں نہیں بلکہ اپنے کردار میں زندہ رکھیں گے۔ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے۔ہم کمزور کا سہارا بنیں گے۔ہم اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔ہم علم حاصل کریں گے۔ہم سچ بولیں گے۔ہم معاف کرنا سیکھیں گے۔اور اپنے عمل سے دنیا کو بتائیں گے کہ حضرت محمد ﷺ سے محبت صرف ایک جذباتی نسبت نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی ذمہ داری ہے۔

علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے، قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے، دہر میں اِسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے۔ آئیے! اس ربیع الاول میں ہم صرف اپنے گھروں کو چراغاں نہ کریں، اپنے کردار کو بھی روشن کریں۔صرف محفلیں نہ سجائیں، اپنے دل بھی سجائیں۔صرف نعتیں نہ پڑھیں، سیرت کو بھی پڑھیں۔اور صرف محبت کا اظہار نہ کریں، محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا عمل بنا دیں۔کیونکہ جب سیرتِ محمد ﷺ ہمارے کردار میں اترے گی، تب ہی واقعی، دہر میں اِسمِ محمدؐ سے اُجالا ہوگا۔