ظالمو مارتے کیوں ہو؟
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 25 / اگست / 2026
روزانہ ہی کوئی ایسی خبر دل کو مغموم کر دیتی ہے جس میں کسی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہوتا ہے یا کوئی شقی القلب شوہر اپنی نوبیاہتا بیوی کو اپنی نفرت یا غصے کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ یہ کیا ہو رہا ہے اور اس کی یہ بڑھتی ہوئی ریت کیا یونہی چلتی رہے گی، کوئی روکنے والا نہیں۔
یہ ملک آج بھی لگتا ہے اسی جہالت کے زمانے کی توسیع ہے جب بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی مار دیاجاتا تھا بلکہ زندہ دفن کر دی جاتی تھیں۔جب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بنیں تو امید پیدا ہوئی تھی کہ اب یہاں عورتوں اور لڑکیوں کے بارے میں ظلم کرنے والے سو مرتبہ سوچیں گے۔ یہ وہ امید تھی جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے زمانے میں بھی پیدا ہوئی تھی، مگر نہ اس وقت پوری ہوئی اور نہ اب مریم نواز کے دور میں پوری ہو رہی ہے۔ مریم نواز نے تو باقاعدہ یہ اعلان بھی کیا تھا کہ عورتیں ان کی ریڈ لائن ہیں۔ ان کے خلاف کوئی بھی جرم وہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گی۔ مگر کہاں جی، جب پولیس ہی ڈھیل کی راہیں نکالتی ہو۔ نئی کہانیاں گھڑ کے حقائق کو توڑ مروڑ دیتی ہو تو ایسے لوگوں کو نشانِ عبرت کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
افسوسناک امر معاشرے کا رویہ بھی ہے۔ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ خواتین کا باہر نکلنا یا خودمختار ہونا دراصل ان واقعات کی اصل جڑ ہے لیکن ایسے لوگوں کو اس وقت چپ لگ جاتی ہے جب ایک گھر میں بیٹھی ہوئی بیوی کو درندہ صفت شوہر شادی کے صرف 9ماہ بعد قتل کر دیتا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ اس کے اس عمل میں اس کی ماں بھی شامل ہوتی ہے۔ اب منطقی طور پر یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر آپ کا نبھاہ نہیں ہو رہا تو مذہب اور قانون نے ایک راستہ کھلا رکھا ہے، آپ طلاق دے دیں، علیحد ہوجائیں، اس کی جان کیوں لیتے ہیں؟ یہ تو سراسر حیوانیت ہے،درندگی ہے۔ بعض وکلا دوست کہتے ہیں ہمارے قوانین میں عورت کو بہت سے تحفظ دیئے گئے ہیں۔ طلاق کی صورت میں حق مہر کے ساتھ جہیز کا سامان اور زیور وغیرہ بھی واپس کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے یہ راستہ اختیار کرنے کی بجائے یہ وحشیانہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ کبھی چولہا پھٹنے کا ڈرامہ رچا کر، کبھی خودکشی کا نام دے کر اور کبھی کسی جگہ سے گرنے کی کہانی بنا کر بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ انصاف کا ملنا اتنا پیچیدہ ہے کہ بیٹی والے جو پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں ،یہ بار نہیں اٹھا سکتے اور ملزم جلد ہی بری ہو جاتا ہے۔
یہ کہانی بھی اس معاشرے میں بار بار سننے کو ملتی ہے کہ پسند کی شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہمارے ایک دوست ہیں، پڑھے لکھے اور خوشحال بھی۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو اچھی تعلیم دلوائی،دوران تعلیم ان کی بیٹی اپنے کلاس فیلو سے عہدو پیمان کربیٹھی۔ لڑکا ایک غریب گھرانے سے تھا اور ذات پات بھی نہیں ملتی تھی۔ ان کی اہلیہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے ایک بار تو بیٹی کو اچھی بھلی پھینٹی لگائی اور یہ بھی کہا کہ وہ اب اسے یونیورسٹی نہیں بھیجے گی۔ ہمارے دوست بتاتے ہیں کہ یہ ان پر بہت کڑا وقت تھا کیونکہ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ ایسے ہی حالات میں ایک سانحہ ہوتے دیکھ چکے تھے۔اس کی بیٹی نے خودکشی کرلی تھی اور جس سے پیار کرتی تھی، اس لڑکے نے ان کے گھر کے سامنے آکر خودسوزی کی تھی۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی کو سمجھایا، یہ ہمارے دور کی نسل نہیں، بہت جذباتی نسل ہے، ہمیں ایک بار اس لڑکے اور اس کی فیملی سے ملنا تو چاہیے۔ ہم اپنی پسند سے بھی تو بیٹیوں کو جہاں چاہے رشتہ کرکے بھیج دیتے ہیں، پھر جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کو متعدد ایسی مثالیں دیں جو رشتہ داروں اور جاننے والوں سے متعلق تھیں کہ ان کی بیٹیوں کو طلاق ہوگئی یا پھر وہ حالات سے تنگ آکر خلع لینے پر مجبور ہوگئیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میری بیوی مان گئی۔ ہم نے دیکھ بھال کے، پوچھ گچھ کرکے اطمینان کرلیا کہ فیملی غریب ہے مگر عزت دار ہے، بیٹا بھی ذہین اورشریف ہے۔ دونوں کی تعلیم مکمل ہوئی تو انہوں نے شادی کردی۔
وہ دوست بتاتے ہیں کہ شادی کو دو سال ہوگئے ہیں۔ بیٹی کو اللہ نے ایک بیٹا دیا ہے۔دونوں جاب کرتے ہیں، خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ کہنے لگے یار نسیم، ذرا سوچو میں بھی وہی کام کرتا جو عام طور پر ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ بیٹی پرجہیز، ظلم اور تشدد کاپہاڑ توڑ کر اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی ضد سے باز آ جائے اور اس کی شادی اپنی پسند کے کسی نوجوان سے کر دیتے تو بعد میں غلط نکلتا تو کیا آج میں اتنا پرسکون ہوتا،دوسری صورت میں بیٹی بغاوت کرتی، بھاگ کر اس نوجوان سے کورٹ میرج کرلیتی اور میں اپنی وحشت اور ضدکو تسکین دینے کے لئے دونوں کو قتل کرا دیتا تو کیا آج آزاد ہوتا یا چین کی نیند سوتا۔
ان کی باتیں سنیں تو سوچنے لگا اس شخص نے زندگی گزارنے کا کتنا خوبصورت راستہ نکالا ہے۔ ضد اور انا کے نتیجے میں جب والدین کا اپنا ہی انتخاب کوئی درندہ نکل آتا ہے اور ان کی بیٹی کو بے دردی سے مار کر نعش ان کے پاس بھیج دیتا ہے تو ان والدین کی یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی معصوم بیٹی کو کس درندے کے سپرد کیا تھا۔ وہ بڑا جاہل اور بے غیرت ہے جس نے غیرت کے نام پر قتل کی اصطلاح ایجاد کی۔ اسے جہالت کے نام پر قتل کہنا چاہیے۔ آپ کسی کچہری کا چکر لگا کر خلع کے کیسز کی تعداد تو معلوم کریں۔ ہوش اڑجائیں گے۔ والدین ان بے جوڑ شادیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور بیٹیوں کو یہی کہتے ہیں، گذارا کرنے کی کوشش کرو، ایک زمانے میں تو یہ بھی کہتے تھے بیٹی اب اس گھر سے تمہاری نعش ہی آنی چاہیے۔ کیا اس سے بڑی جہالت کوئی ہو سکتی ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)