سرحد یونیورسٹی تنازعہ : انفرادی واقعہ یا ہائبرڈ انتظام پر عدم اعتماد

گزشتہ روز سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والا  افسوسناک سانحہ ملک میں  انتظامی صورت حال اور سماجی رویوں میں انحطاط کی  عکاسی کرتا ہے۔  اس وقوعہ میں  چونکہ ایک فوجی افسر بھی ملوث ہوگیا تو سوشل میڈیا مباحث میں اسے اشرافیہ کی طرف سے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کا طرز عمل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ صورت حال ملکی فوج کے علاوہ حکومت اور سماجی اصلاح میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے تشویش و پریشانی کا سبب  ہونی چاہئے۔

فوجی افسر  کا ایک یونیورسٹی میں جانا اور وہاں طلبہ سے چپقلش میں شریک ہوکر پھر ہوائی فائرنگ کے ذریعے اپنی جان بچا کر نکلنا، بجائے خود  ناقابل قبول طرز عمل ہے۔ لیکن اسے صرف ایک فوجی افسر کی کوتاہی یا غلطی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ معاملہ کا یہ پہلو  تصویر  کو پریشان کن بناتا ہے کہ اصل تنازعہ یونیورسٹی  کے  اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ پوزیشنوں پر  کام کرنے دو افراد کے درمیان تھا۔  اس میں طلبہ کو غیر ضروری طور سے شامل کیا گیا اور سوشل میڈیا پر فوجی افسر کے ساتھ ہاتھا پائی اور پھر ہوائی فائرنگ نے اسے مزید تشویشناک بنا دیا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ اس موقع پر پولیس پہلے سے موجود تھی اور طلبہ کی طرف سے شور و غوغا اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کی کوشش کررہی تھی۔ البتہ جب  کرنل کے عہدے کا ایک افسر موقع پر پہنچا اور مبینہ طور پر طلبہ سے الجھنے کی کوشش کی تو موقع پر موجود پولیس نے کوئی مداخلت نہیں کی ۔ البتہ نوبت جب  فوجی افسر پر  ’حملے‘ اور ہوائی فائرنگ تک پہنچی تو پولیس حرکت میں آئی اور کرنل کو حفاظتی تحویل میں  لیا گیا۔  انہیں بعد میں  ملٹری پولیس  کے حوالے کردیا گیا۔

ایسے میں ایک تو  مقامی انتظامیہ اور پولیس افسروں سے اس سوال کا جواب طلب ہونا چاہئے کہ جب پولیس موقع پر موجود تھی  تو  دو  فریقین کے درمیان ہاتھا پائی تک نوبت کیسے پہنچی۔  اس وقوعہ کی جو  غیر مصدقہ رپورٹس سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق فوجی افسر کی اہلیہ ایک دوسرے اعلیٰ عہدے دار کے ساتھ تنازعہ میں شریک تھیں اور اسی جھگڑے کی وجہ سے طالب علم اکٹھے ہوکر ایک فریق کی طرف سے دوسرے کے خلاف نعرے بازی کررہے  تھے۔ البتہ یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ نہ تو خود موقع پر پہنچی اور نہ ہی کسی طریقہ سے  یونیورسٹی  کے طالب علموں کو  مشتعل کرنے کا سبب بننے والے   استادوں/عہدیداروں کو موقع سے ہٹنے اور طلبہ کو اس معاملہ میں ملوث نہ  کرنے کا مشورہ   دیا جاسکا۔  طالب علم  یونیورسٹی کی ایک خاتون افسر کو ہراساں کررہے تھے  اور یہی اطلاع ملنے پر پولیس وہاں پہنچی تھی۔ لیکن اس نے خاتون کو محفوظ مقام پر لے جانے یا ان کی مخالفت  کرنے والے عہدیدار کو وہاں سے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا۔ اس دوران طلبہ کا احتجاج  یاہنگامہ جاری رہا۔  اس وقوعہ کی مصدقہ معلومات موجود نہیں ہیں لیکن یہ واضح  ہے کہ  فوجی افسر کی آمد سے پہلے پولیس کے علاوہ تنازعہ کے دونوں فریق آمنے سامنے تھے۔ اور پولیس محض تماشائی بنی ہوئی تھی۔ یونیورسٹی کا کوئی ایسا عہدیدار  وہاں نہیں آیا جو اس ہنگامہ کو ختم کرانے کی پوزیشن میں ہوتا۔ اور نہ پولیس  عدم تحفظ کا شکار ایک خاتون کی حفاظت میں کامیاب ہوئی جس کی وجہ سے اسے  فوج میں اعلیٰ عہدے پر فائز اپنے شوہر کو اپنی  مدد کے لیے بلانا پڑا۔

فوج نے احتساب کے جس کڑے نظام کا اعلان کیا ہؤا ہے، اس کے دوران ہی معلوم ہوسکے گا کہ کرنل صاحب نے اس نازک صورت حال کی اطلاع اپنے افسروں کو دینے کی بجائے خود  یونیورسٹی جانے کا کیوں فیصلہ کیا جہاں حالات ان کے اندازے سے زیادہ خراب ثابت ہوئے۔ اس بارے میں بھی متضاد رپورٹیں سامنے آرہی ہیں کہ کیا فوجی افسر اپنی بیوی کو ہنگامے سے نکال کر لے جانا چاہ رہا تھا کہ مشتعل طلبہ نے ان کا گھیراؤ کیا اور معاملہ فائرنگ تک پہنچا۔ دوسری طرف یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کرنل عہدے کا افسر پوری وردی میں یونیورسٹی  میں داخل ہؤا۔  مظاہرہ کرنے والے طالب علموں  کی  براہ راست سرزنش کی اور انہیں اپنی بید سے مارا۔ اس پر طلبہ نے مشتعل ہوکر جوابی حملہ کیا اور فوجی افسر کو ہوائی فائر کرنا پڑا۔  اگر  یہ مان بھی لیا جائے کہ اس افسر نے اپنی بیوی کی حفاظت  کے لیے گھبراہٹ میں یونیورسٹی آنے کا فیصلہ کیا تو بھی  یہ تسلیم کرنا مشکل ہوگا کہ کوئی فوجی افسر مسلح ہوکر ایک عوامی جگہ پر پہنچے اور تنازعہ میں ملوث ہو۔

قومی سطح پر تو اس واقعہ کی رپورٹنگ میڈیا کی ’سیلف سنسر شپ‘ کی نذر ہوگئی لیکن سوشل میڈیا کے علاوہ  بھارت اور دیگر ملکوں میں اس  خبر کو  بڑھا چڑھا کر رپورٹ کیاگیا ہے۔  یہ واقعہ اور اس پر ہونے والے سوشل میڈیا مباحث سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں خبروں کی ترسیل اور رائے کی آزادی  ختم کرنے کا ہمیشہ فائدہ نہیں ہوتا۔ ان حالات میں متوازن اور مصدقہ خبریں سامنے نہیں آتیں اور اس کی قیمت ریاست اور سرکاری اداروں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس معاملہ میں بھی یہی  ہؤا۔ ان مباحث کی وجہ سے فوج  کی شہرت اور ملکی سیاسی و انتظامی حکمرانی   کے  تصور کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ متعدد عناصر اسے سول معاملات میں فوج کی مداخلت   کے خلاف   ’عوام کے غم و غصہ‘ کا اظہار   قرار دے کر سوشل میڈیاکی حد تک انقلاب برپا کرنے کا اعلان کررہے ہیں جبکہ مین اسٹریم میڈیا اس واقعہ کی رپورٹنگ  اور واقعات کی تصدیق سے بھی محروم رہا۔ حالانکہ اس صورت میں کچھ باتیں شاید حکمرانوں کے فائدے  میں سامنے آسکتی تھیں۔

اس پس منظر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ ملک میں امور حکومت میں عدم شرکت کا احساس بڑھ رہا ہے۔ یہی احساس دراصل  غم و غصہ اور احتجاج کو جنم دیتا ہے۔  کسی ریاست یا ادارے کو سوشل میڈیا کی موجودہ طاقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔  فوج کے لیے یہ معاملہ صرف اس حد تک سنگین نہیں ہے کہ اس کے ایک ذمہ دار افسر نے  قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی  بلکہ اس واقعہ کے بعد  سامنے آنے والے مباحث ،   یہ سبق بھی سکھاتے ہیں کہ ملک میں ہائبرڈ نظام کے بارے میں شدید تحفظات موجود ہیں۔  سیاسی جماعتیں  یاحکومت اگر اسے تسلیم کرکے فوج کی سرپرستی قبول کررہی ہیں تو معاملہ یہاں ختم نہیں ہوجاتا۔ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اس نظام کو اسی  حالت میں چلانا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر امور حکومت  میں فوجی مداخلت اور اثر و نفوذ کے بارے میں غلط تفہیم عام نہ ہوتی اور  عوام کو اعتماد میں لیا جاتا تو سرحدوں کی حفاظت کرنے والے بہادر فوجیوں کو  اس قوم کے نوجوان سلام کرنے میں فخر محسوس کرتے۔ لیکن موجودہ حالات میں ان  کے خلاف دست درازی کی جارہی  ہے۔ اس لیے اسے محض ایک یونیورسٹی میں پیش آنے والا ایک معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

پاک فوج نے بھارت جیسے دشمن  کے دانت کھٹے کرکے ملکی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ اس کی عزت و احترام کی حفاظت بنیادی قومی مشن ہونا چاہئے۔ لیکن سیاسی معاملات طے کرنے کے لیے اختیا رکی گئی حکمت عملی اس احترام میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔ یہ  صورت حال قوم و ملک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔