14نومولود بچے جاں بحق: ذمہ دار کوئی نہیں

اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال  پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز ) میں ہونے والی  آتشزدگی میں 14نومولود بچوں کی ہلاکت سے پوری قوم غم سے نڈھال ہے لیکن حکومت  اور اس کے نمائیندے افسوس کرنے اور وضاحتیں دینے پر مامور ہیں۔ کوئی اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ البتہ عوامی غم و غصہ  پر قابو پانے کے لیے  نچلے درجے کے چند اہلکاروں کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے  حسب معمول اس سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور وفاقی سیکرٹری صحت کومعطل کرکے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ وزیر صحت  مصطفی کمال نے کہا  ہےکہ  تحقیقات شفاف ہوں گی اور  اگر وہ خود بھی قصور وار ثابت ہوئے تو انہیں بھی  سخت احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم پاکستان میں ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ  ایسااحتساب بیانات اور دعوؤں ہی کی حد تک پایا جاتا ہے۔  آج  یہ خبر دنیا بھر  کے میڈیا پر چھائی رہی اور عوامی جذبات    بھی بھڑکے ہوئے ہیں ۔ اس لیے وزیر اعظم اور ان کے معاونین گرمجوش بیانات سے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم جوں ہی کسی نئی خبر نے اس افسوسناک سانحہ کو ماضی کا وقوعہ بنا دیا ،حکمران بھول جائیں گے کہ ملک کے دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری  ہسپتال میں 14 نوزائدہ بچے بے کسی و بے بسی کی حالت میں  جاں بحق ہوگئے۔

حیرت ہے وزیر صحت میرٹ اور احتساب کی بات تو کررہے ہیں لیکن اس  سانحہ کے بعد اس کی سیاسی ذمہ داری سمجھنے اور اسے  نبھانے پر تیار نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں  کسی بڑے سانحہ  کے بعد متعلقہ شعبے کا وزیر اپنے عہدے سے استعفی  دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ  وہ وزیر خود ایسے کسی سانحہ کا ذمہ دار تھا یا اس کی ذاتی کوتاہی کی وجہ سے کہیں آگ لگ گئی، عمارت گر گئی یا ٹرین کو حادثہ پیش  آگیا ۔ بلکہ ایسے اقدام سے یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ متعلقہ سیاسی ذمہ دار  اس شعبہ میں مناسب حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب  نہیں ہؤا۔ اس لیے اس خود  احتسابی سے درحقیقت یہ مثال  پیش کی جاتی ہے کہ سیاسی لیڈر کسی بھی معاملہ میں بنیادی ذمہ دار ہوتا ہے کیوں کہ متعلقہ محکمہ اسی کی نگرانی میں ضروری فیصلے کرتا ہے۔ البتہ مصطفی کمال کو یہ سیکھنے میں شاید  مزید ایک زندگی سفر کرنا پڑے  گا۔

اس تصویر کا یہ پہلو بھی کسی المیہ سے کم نہیں ہے کہ سانحہ اور اس کے ساتھ ہی معصوم بچوں کی بے بسی میں موت کی خبر  علی الصبح سامنے آگئی تھی لیکن کسی ذمہ دار سیاسی لیڈر کو موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لینے، دلگیر والدین کے ساتھ اظہار ہمدردی و تعزیت کرنے یا موقع پر یہ دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ ایک ائر کنڈیشنر میں چنگاری بھڑکنے سے کیسے  درجن بھر سے زائد معصوم بچے دیکھتے ہی دیکھتے جل کر خاکستر ہوگئے۔ اس سانحہ کی درجنوں وضاحتیں اور عذر خواہیاں موجود ہیں لیکن یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ وزیر صحت یا وزیر اعظم یا کسی دوسرے ذمہ دار سیاسی لیڈر کو دن بھر موقع پر پہنچ کا حالات کا جائزہ لینے اور متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کا خیال تک نہیں آیا۔ البتہ  میڈیا کو جاری ہونے والے بیانات میں پر زور الفاظ کے استعمال سے لوگوں کو یقین دلایا جارہا ہے کہ حکومت چوکنا ہے اور کسی بھی موقع پر عوام کے ہمراہ کھڑی ہے۔ عملی تصویر  یہ ہے کہ حکومت لاتعلق ہے اور ایسے اندوہناک  سانحہ کے بعد  بھی اعلیٰ عہدیداران اپنے عشرت کدوں سے باہر نکلنے کی زحمت نہیں کرسکے۔ ملکی لیڈروں کی حالت اس چوکیدار سے مختلف نہیں ہے جو  ’جاگتے رہو‘ کا ہنکارا لگا کر سمجھتا ہے کہ محلہ محفوظ ہوگیا۔ حالانکہ اس کی پشت  کے پیچھے  کوئی چور کسی گھر میں نقب لگا رہا ہوتا ہے۔

پمز سانحہ کے بارے میں درجنوں سوال ہیں لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ  سرکاری ہسپتالوں کو بنیادی وسائل فراہم نہیں ہوتے۔ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے بجٹوں میں صحت اور تعلیم،  ترجیحی شعبے نہیں ہیں۔ جن شعبوں کو بجٹ میں ترجیح نہیں ملے گی ، ان سے عمدہ کارکردگی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ پمز میں 14 بچوں کی  ہلاکت کے بعد بھی یہ امکان نہیں ہے کہ  اب حکومت کی ترجیحات  تبدیل ہوجائیں گی۔ اب بھی معاملات جوں کے توں رہیں گے اور دفتروں کی فائلوں میں پڑے پرانے بیانات کسی نئے سانحہ کا انتظار کریں گے تاکہ اس وقت کا وزیر یا وزیر اعظم  انہیں از سر نو استعمال کرسکے۔

ملکی تاریخ  میں کسی تحقیقاتی  کمیٹی  نے  آج تک حالات کی درست اور  شفاف تصویر پیش نہیں کی۔ اول تو کبھی خبر ہی نہیں ہوپاتی کہ  کمیٹی نے کیا معلومات حاصل کیں اور کون لوگ اس میں قصور وار پائے گئے۔   وقوعہ پر وقت کی دھول پڑنے کے ساتھ ہی کمیٹی کے کام کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اگر کسی کمیٹی نے کبھی کوئی رپورٹ تیار کرکے  کسی  محکمہ یا وزارت میں جمع بھی کرائی تو وہ  متعلقہ  ’بابو‘ کی دراز یا  دفتری الماری میں دیمک کی خوراک بننے کے لیے  ’محفوظ‘ کردی جاتی ہے۔   خواہ  ایسی کمیٹی کی قیادت کسی اعلیٰ افسر نے کی ہو یا کسی جج نے۔ ان کی تیا رکی ہوئی رپورٹوں  کے ساتھ ملک کا نظام یکساں سلوک روا رکھتا ہے۔ کبھی  یہ معلوم نہیں ہوتا کہ   کمیٹی نے کیا معلوم کیا اور حکومت نے اس پر کیا اقدام کیے۔

سارا دن  آتشزدگی کے بارے  میں  نت نئی خبریں سامنے آتی رہیں۔ آگ کیسے  لگی اور وہاں عملہ موجود تھا یا اس نے کچھ کرنے کی کوشش کی یا امدادی ٹیمیں بروقت پہنچیں یا اس کام میں بھی سستی ہوئی، ان سب سوالوں پر بال کی کھال ا تاری جارہی ہے۔  سچ مگر یہی ہے کہ  انتہائی نگہداشت کے لیے ایک وارڈ میں رکھے گئے نوزائدہ بچے آگ لگنے کے  پہلے  چند  لمحوں میں ہی شدید شعلوں کی  لپیٹ میں آگئے اور کوئی انہیں  بچا نہیں سکا۔  اس موقع پر آگ بجھانے کا  کیا انتظام تھا اور کسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ عملہ کس حد تک تربیت یافتہ تھا، اس بارے میں سوالوں کا کوئی جواب میسر نہیں ہے۔ شاید یہ درست ہے کہ اس  وارڈ میں  ائیر کنڈیشنر میں آگ بھڑکی اور وہاں موجود اضافی آکسیجن کی وجہ سے فوری طور سے تمام بچے شعلوں کی لپیٹ میں آگئے  کیوں کہ ان سب کو براہ راست سپلائی ہونے والے نظام سے آکسیجن دی جارہی تھی۔ اس لیے جو انتظام انہیں زندگی  دینے کے لیے  استوارکیا گیا تھا، وہی ان کے لیے موت لانے کا سبب بن گیا۔   اب ہسپتال کی انتظامیہ یہ وضاحتیں دے رہی ہے کہ وہاں کتنا عملہ موجود تھا اور کتنا نہیں تھا لیکن یہ پتہ نہیں چل پارہا کہ کیا ہسپتال  نے ایسی کسی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے ہوئے تھے؟ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ انتظامات  موجود نہیں تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آگ بچوں کو نگل گئی۔

ایک دوسرا اہم سوال یہ بھی موجود ہے کہ کیا  وارڈ کے دروازے بند تھے۔ ہسپتال کی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ کسی دروازے پر تالہ نہیں تھا لیکن ماضی میں وہاں سے بچے چوری ہونے کے واقعات  کی وجہ سے دروازہ بند کرکے اس پر چوکیدار بٹھایا گیا تھا جو لوگوں کی شناخت کے بعد انہیں اندر جانے دیتا تھا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ عملہ  کا کوئی فرد یا لواحقین میں سے کوئی فرد   اچانک آگ بھڑکنے کے بعد بچوں کی ہلاکت سے پہلے ان کی مدد کو  نہیں پہنچ سکا۔ اس کی بظاہر یہی وجہ دکھائی دیتی ہے کہ کسی نہ کسی وجہ سے اس وارڈ تک رسائی ممکن نہیں تھی اور جب تک دروازہ کھولنے یا توڑنے کی کوشش کی گئی ،شدید آگ معصوم  بچوں کی جان لے چکی تھی۔ تصویر کا یہ پہلو اپنی جگہ دردناک ہے کہ ملک میں قانون   یا اسے نافذ کرنے والوں کی یہ حیثیت ہے کہ ہسپتالوں کے وارڈ سے نومولود بچے چرا لیے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو معطل تو کردیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا کیا قصور تھا ؟ کیا وہ تنہا ہی اس سانحہ کے ذمہ دار تھے یا وزیر اعظم کو کوئی چہیتا وزیر بھی  جواب دہ ہے؟ نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ کیا حکومت کچھ ایسا انتظام کرے گی کہ آئیندہ ایسا کوئی سانحہ پیش نہ آئے۔ اگر اس سانحہ سے سبق سیکھنے اور صحت کو ترجیح دینے کی کوشش نہ کی گئی تو مستقبل میں  بھی کسی سانحہ کو روکنا  ممکن نہیں ہوگا۔