نیپال میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی

  • جمعرات 27 / اگست / 2026

نیپال میں بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک 289 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ سیلاب کے بعد ملک کے کئی حصوں میں صورتِ حال بدستور تشویشناک ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتہ افراد میں سکیورٹی اہلکار، سیاح اور عام شہری شامل ہیں۔ نیپال کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آج اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 350 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کیا ہے۔

فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ریسکیو کیے جانے والوں میں 50 غیر ملکی شہری شامل ہیں جن میں 30 انڈین، آٹھ چینی، آٹھ کوریائی، دو امریکی اور دو اطالوی شہری شامل ہیں۔

متعدد علاقوں کو ملانے والی سڑکیں اور پل مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس آفت سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک نے نیپال میں ہونے والے اس سانحے پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

نیپال کی پولیس نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ ترین اپڈیٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک 289 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ بدھ کو آنے والے سیلاب کے بعد ملک کے کئی حصوں میں صورتِ حال بدستور تشویشناک ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

نیپالی فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زمینی اور فضائی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2000 فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، خصوصاً رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج اب تک سیلاب میں پھنسے 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے تین افراد تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے ہوئے کارکن تھے۔

نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس نے بھی تلاش کی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے اہلکار تعینات کیے ہیں۔