فیلڈ مارشل کا دورہ ایران ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا: دفتر خارجہ

  • جمعرات 27 / اگست / 2026

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور فوجی تعطل کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ہفتہ وار پریس بریفنگ  میں طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کا پائیدار حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کیا ، جس میں ایرانی قیادت سے کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔انہوں نے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا۔ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران ،پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں تھا۔پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ بحران کےحل کے لیے برادر ممالک کے ساتھ رابطوں میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل وزیر خارجہ نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جہاں ہونے والی بات چیت میں خطے میں کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کا پابند نہیں۔ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی کی پابندیاں عائد ہوں تو معاملہ دوسرا ہو گا۔پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرے سے باہر پابندیوں جیسے یکطرفہ اقدامات کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے افغان عبوری حکومت کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔