ملاحظہ کریں، نادرا کے عقلِ کُل کیسے کام کرتے ہیں

تین ماہ پہلے میں نے اوسلو، ناروے سے پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کی تجدید کے لیے درخواست آن لائن نادرا کو بھیجی تھی۔ درخواست کا پروگرام انتہائی مشکل ہے۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر درخواست مکمل کرکے بھیجی۔

میرا دوست آئی ٹی کا ایکسپرٹ ہے۔ اگر ایک ایکسپرٹ کو اتنی مشکل پیش آ سکتی ہے تو سوچیں کہ ایک عام آدمی کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نادرا نے میری درخواست منظور کرکے 170 ڈالر بینک کارڈ کے ذریعے جمع کرانے کو کہا، جو میں نے فوری طور پر ادا کر دیے۔ نادرا کے مطابق اس فیس میں کارڈ ڈی ایچ ایل کے ذریعے بھیجنے کے اخراجات بھی شامل تھے۔ کارڈ سات سال کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔ بہرحال، مجھے میرا کارڈ ایک ماہ بعد ڈی ایچ ایل کے ذریعے مل گیا۔

اب آئیے میری بیوی کے اوریجن کارڈ کی تجدید کی داستان سنتے ہیں۔ میری بیوی بھی، میری طرح، تیسری مرتبہ اپنے کارڈ کی تجدید کروا رہی تھیں۔ ہم نے مل کر ان کی درخواست بھیجنے کی کوشش کی۔ مگر ایک مرحلے پر جا کر ایپلیکیشن آگے ہی نہیں بڑھ رہی تھی۔ میں نے اپنے ایکسپرٹ دوست کو مسئلہ بتایا۔ انہوں نے بھی بہت کوشش کی، مگر درخواست آگے نہیں جا سکی۔ پھر ہم نے نادرا کو فون کرکے بتایا کہ ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے۔ ہمیں شکایت درج کرانے کا کہا گیا۔ ہم نے تفصیل سے شکایت درج کرائی اور ہمیں شکایت نمبر بھی دے دیا گیا۔ دو دن بعد جواب آیا کہ آپ کا مسئلہ حل کر دیا گیا ہے، اب آپ درخواست مکمل کرکے بھیج دیں۔

جب ہم نے دوبارہ درخواست بھیجنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ پھر فون کیا تو جواب ملا کہ ہم دوبارہ دیکھتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد جواب آیا کہ اب درخواست بھیجیں، مگر مسئلہ پھر بھی حل نہ ہوا۔ کئی مرتبہ فون کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس دوران ہم نے فون پر تقریباً پندرہ سو نارویجن کرون بھی خرچ کر دیے۔ پھر کسی نے ہمیں مشورہ دیا کہ اوسلو میں پاکستانی سفارتخانے میں نادرا کا دفتر بھی ہے، اس لیے خود وہاں جا کر درخواست جمع کرا دیں۔ وہاں معلوم ہوا کہ تین ماہ سے پہلے اپوائنٹمنٹ نہیں مل سکتی۔ بہرحال، ایک دوست کے تعاون سے ہمیں وقت مل گیا۔

جب ہم وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ وہاں نادرا کا کوئی ملازم موجود نہیں تھا۔ جو صاحب ہماری مدد کر رہے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ وزارتِ خارجہ کے اہلکار ہیں اور ہماری درخواست وزارتِ خارجہ کے ذریعے نادرا کو بھیجی جائے گی۔ انہوں نے ہم سے ایسی دستاویزات مانگیں جو ہم تقریباً بیس سال پہلے نادرا کو دے چکے تھے۔ بہرحال، ہم نے وہ دستاویزات بھی فراہم کر دیں۔ پھر پندرہ دن بعد ای میل آئی کہ آپ کے بھائی کے شناختی کارڈ کی کاپی صاف نہیں ہے، دوسری کاپی بھیجیں۔ وہ بھی بھیج دی۔ ایک ہفتے بعد ای میل آئی کہ اپنے والد کے شناختی کارڈ کی کاپی بھیجیں۔ میری بیوی کے والد کا انتقال پندرہ سال پہلے ہو چکا تھا، مگر بہرحال میرے برادر نسبتی نے ان کے شناختی کارڈ کی کاپی ہمیں فراہم کر دی اور ہم نے وہ بھی نادرا کو بھیج دی۔

پندرہ دن بعد فون آیا کہ اپنی والدہ کے شناختی کارڈ کی کاپی بھی بھیجیں۔ میری بیوی نے انہیں بتایا کہ ان کی والدہ کا انتقال 1966 میں ہو گیا تھا اور اس وقت میری بیوی کی عمر صرف ایک سال تھی۔ اس زمانے میں تو شناختی کارڈ بنتے ہی نہیں تھے۔ جواب ملا: ’ہم کچھ نہیں کر سکتے، اب آپ نادرا سے خود بات کریں‘۔

یہ جواب ہمیں تقریباً دو ماہ بعد ملا۔ ہم مایوس ہو چکے تھے۔ اسی دوران میرے بھتیجے کا فون آیا۔ اس نے کارڈ کے بارے میں پوچھا۔ جب اسے پوری صورتحال کا بتایا تو اس نے کہا کہ میرے ایک دوست کے بھائی نادرا میں کام کرتے ہیں، میں ان کے سامنے آپ کا کیس پیش کرتا ہوں، امید ہے وہ کوئی مدد کر سکیں گے۔ اگلے دن مجھے نادرا کراچی سے ایک صاحب کا فون آیا۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا اور ہم سے شکایت نمبر مانگا، جو ہم نے انہیں فراہم کر دیا۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد انہوں نے دوبارہ فون کرکے کہا: ’آپ کا مسئلہ میں فون پر حل کروا دوں گا‘۔

اس مہربان اور ہمدرد افسر نے ہمیں اگلے دن کا وقت دیا اور کہا کہ واٹس ایپ پر مجھے فون کرنا، اپنی ایپلیکیشن کھول کر بیٹھنا، میں آپ سے پوری درخواست مکمل کروا دوں گا۔ اگلے دن انہوں نے ہماری درخواست مکمل کروائی۔ ہم نے ان کا بہت بہت شکریہ ادا کیا تو ان کا جواب تھا: ’یہ میرا کام ہے کہ لوگوں کو بہترین سروس دوں، بس میرے لیے دعا کریں‘۔ ایسے مہربان اور ذمہ دار افسر بھی نادرا میں موجود ہیں۔

اگلے ہی دن ہمیں نادرا اسلام آباد سے جواب آ گیا کہ درخواست منظور ہو گئی ہے اور اب آپ 215 ڈالر نارمل بینک کارڈ کے ذریعے جمع کرا دیں۔ وہ رقم بھی جمع کرا دی گئی۔ اکیس دن بعد جواب آیا کہ ہم دو دن میں آپ کا کارڈ بھیج دیں گے۔ ہمیں امید تھی کہ اب ڈی ایچ ایل کا میسج آئے گا کہ اپنا کارڈ فلاں جگہ سے وصول کر لیں۔ اب سات دن بعد میرے بھتیجے کا فون آیا کہ  ’چاچی کا کارڈ لوکل کورئیر سروس والا دے گیا ہے‘۔

اب ذرا نادرا کے ان عقلِ کُل سے کوئی پوچھے کہ جب ڈالر لے کر کارڈ بھیجنے کی فیس لی گئی تھی تو کارڈ عارضی ایڈریس پر کیوں بھیجا گیا؟ کارڈ کا مالک اوسلو میں ہے اور کارڈ کراچی میں پہنچا دیا گیا۔ یہ کیسی دھاندلی ہے کہ فیس ڈالر میں ڈی ایچ ایل کے ذریعے کارڈ بھیجنے کے نام پر وصول کی جائے، لیکن کارڈ نوے روپے کی لوکل کورئیر سروس کے ذریعے بھیج دیا جائے؟

تمام فیس بک دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ نادرا کے یہ ’عقلِ کُل‘ اپنا رویہ درست کریں اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اس اذیت اور غیر ضروری خوار ہونے سے نجات مل سکے۔