ترقی اور پسماندگی ساتھ ساتھ کیوں؟
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 27 / اگست / 2026
کل ایک دوست فخرسے بتا رہے تھے کہ ایک سے ایسے ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا جس میں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی۔ شکر ہے پہلے سے بکنگ کرائی ہوئی تھی وگرنہ سینکڑوں لوگ جگہ خالی ہونے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ انہوں نے جب اگلا جملہ یہ کہا کہ پاکستانیوں کے پاس پیسہ بہت ہے بس ویسے ہی غربت کا ڈھنڈوا پیٹتے ہیں تو میں حیران رہ گیا۔
یہ بات ایک چھوٹے سے محلے یا چھوٹی سی بستی کے بارے میں تو کی جا سکتی ہے کہ اس کے لوگ ہوٹلوں، ریسٹورانوں میں کھانے کھاتے ہیں بس غربت کا اظہار صرف فیشن کے لئے کرتے ہیں۔ 25کروڑ انسانوں کے ملک میں چند ریسٹورانوں کی وہ بھی بڑے شہروں میں موجود،ایسے کھچا کھچ بھرے ہونے کی مثال دے کر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ غربت صرف ایک افسانوی بات ہے جہاں خود سرکاری اعداد و شمار گیارہ کروڑ لوگوں کے خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے کی گواہی دیتے ہیں وہاں غربت ایک افسانہ نہیں حقیقت ہے۔بس ہم دیکھنا نہیں چاہتے، کیونکہ خود ہمارے پیٹ بھرے ہوتے ہیں آج کل درج ذیل شعر کے خالق ڈاکٹر فخر عباس سخت علیل ہیں، دوست اُن کی صحت و سلامتی کیلئے دُعا گو ہیں۔
یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے
شعیب بن عزیز نے ایک شعر کہا تھا:
میرے لاہور پر بھی اک نظر کر
ترا مکہ رہے آباد مولا
لاہور اگر تیزی سے ترقی کر رہا ہے تو سب پاکستانیوں کو اس کی بہت خوشی ہے اُسے اگر دبئی کی ٹکر کا شہر بنایا جا رہا ہے تو بڑی اچھی بات ہے، مگر صاحبو!جس طرح ایک ریسٹورنٹ کے کھچا کھچ بھرنے ہونے کو خوشحالی کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا اُسی طرح صرف لاہور کی ترقی پر یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ دیکھو پاکستان یا صوبہ پنجاب کتنی ترقی کر گیا ہے۔ ترقی اگر ہمہ جہت اور یکساں نہ ہو تو ان علاقوں کے عوام میں احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے،جو ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں ہاں اتنا ضرور ہے کہ لاہور سے دور ملتان میں ترقیاتی کام ہو رہا ہے۔ خود مریم نواز نے بدلتا ملتان کے نام سے اس ترقی کے مظاہر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے اس حوالے سے ایک کتاب بھی ”بدلتا ملتان“ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے جسے کمشنر ملتان عامر کریم خان نے ترتیب دیا ہے۔
ملتان کی ترقی اگرچہ اس احساسِ محرومی کو ختم نہیں کر سکتی جو جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں پایا جاتاہے تاہم اس بار کچھ ایسے آثار ضرور نظر آئے ہیں کہ پنجاب حکومت لاہور سے باہر کے شہروں کو بھی دیکھ رہی ہے، مگر یہ سب کافی نہیں ہے،کیونکہ اب جنوبی پنجاب کے لوگوں کی انگلیاں ملتان کی طرف بھی اٹھنے لگی ہیں کہ سارے فنڈز ملتان پر لگائے جا رہے ہیں۔ نہیں صاحب ایسا نہیں۔ ملتان کو اب بھی لاہور کے مقابلے میں بہت کم یعنی آٹے میں نمک کے برابر فنڈز مل رہے ہیں، صرف ملتان کو ہی کیوں جنوبی پنجاب کو کیوں نہیں۔ حصہ تو آبادی کے لحاظ سے ملنا چاہئے۔ اب نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے اور ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنا دیا جاتا ہے اور ملتان میں قائم ہونے والی حکومت بھی اس وقت پنجاب حکومت کی طرح این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے کے مطابق فنڈز تقسیم کرنے کی بجائے ستر فیصد حصہ لاہور کے لئے رکھ لیتی ہے اور جنوبی پنجاب صوبے کی صورت ستر فیصد بجٹ ملتان کے لئے رکھا گیا تو مسئلہ وہیں کا وہیں رہے گا، احساسِ محرومی تو دور نہیں ہو گا۔
اُن کی اِس بات کو بے وقت کی راگنی قرار دے کر رد کیا جا سکتا ہے تاہم یہ تو اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پنجاب کا بجٹ لاہور اور اپر پنجاب کے لئے ہوتا ہے،جس میں تھوڑا بہت حصہ جنوبی پنجاب کے لئے بھی رکھ لیا جاتا ہے تاکہ شور نہ مچے اور یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہے کہ پنجاب ترقی کر رہا ہے۔ لاہور میں آپ کو بیروزگار شدہ خال خال ملے گا بلکہ ملے گا ہی نہیں کیونکہ لاہور میں محنت مزدوری کے اتنے مواقع ہیں کہ جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے داتا کی نگری میں کوئی بھوکا نہیں سوتا مگر یہ صورتحال جنوبی پنجاب میں نہیں۔ صبح سویرے آپ کسی بھی شہر کے معروف چوک پر چلے جائیں، مزدوروں، ہنر مندوں، کاریگروں کی ایک بڑی تعداد روزگار یا دیہاڑی کے لئے بیٹھی نظر آئے گی۔ شہر ترقی کرتے ہیں تو لوگ ترقی کرتے ہیں،پھر یہی لوگ شہر کی مزید ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ ماجرا آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ ہماری ترقی عرصہ دراز سے صرف وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں تک کیوں اٹکی ہوئی ہے ،وہاں سے باہر کیوں نہیں نکلتی۔ کوہلو کے بیل کی طرح اگر ترقی کے ثمرات چند شہروں تک محدود رہیں گے تو مسائل کیسے حل ہوں گے۔ یہ شہر بھی آبادی کے بوجھ تلے دبتے چلے جائیں گے اب بھی آبادی کا رُخ لاہور کی طرف ہے۔
سندھ میں کراچی اور کے پی کے میں بشام کی طرف، کوئٹہ میں چونکہ روزگار کے مواقع نہیں پھیلے اِس لئے اُس کی طرف آبادی کا رجحان کم ہے۔ آپ اسلام آباد کو دیکھ لیں اُس کے نواحی علاقوں میں غربت موجود ہے اور ترقی کے ثمرات وہاں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ مسئلے کا حل مکھی پر مکھی مارنا نہیں، ہماری حکومتیں اور پالیسی ساز اگر اس بات کو سمجھ لیں تو شاید پاکستان ایک ہمہ جہت اور ہمہ گیر ترقی کی دوڑ میں شامل ہو جائے۔اب پنجاب کے دور افتادہ علاقوں سے لوگ لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں جاتے ہیں تو انہیں اُن کی ترقی دیکھ کر خوشی سے زیادہ احساسِ محرومی ہوتا ہے۔انہیں احساسِ محرومی کا شکار آخر کیوں اور کب تک رکھا جائے، کیا اُن کا یہ حق نہیں کہ وہ بھی ایک ترقی یافتہ زندگی سے بہرہ مند ہو سکیں؟ حق تو پورا ہے،مگر کوئی انہیں حق دینے پر تیار بھی ہو۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)