پاک چین تعلقات کی ازسرِ نو تشکیل: سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ایک تزویراتی مطالعہ

2026 میں پاک چین تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے محض دو طرفہ سفارت کاری، سرمایہ کاری یا اقتصادی تعاون کے روایتی پیمانوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، توانائی کے منصوبوں اور بندرگاہی ترقی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔

لیکن موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاک چین تعلقات کی نوعیت میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی صرف پاکستان کے داخلی معاشی بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کا بھی عکس ہے۔ چین اپنی اقتصادی حکمتِ عملی کو نئی عالمی حقیقتوں کے مطابق تشکیل دے رہا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے قرضوں کے بوجھ، توانائی کے بحران، محدود برآمدات، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور غیر متوازن اقتصادی ڈھانچے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

مئی 2026 میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران جن موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا، ان میں شاہراہِ قراقرم، گوادر بندرگاہ، سینڈک کاپر مائن، قرضوں کی تنظیمِ نو، چینی آزاد بجلی گھر (IPPs) اور جدید دفاعی تعاون خصوصاً جے۔ 35 طیاروں کا معاملہ نمایاں تھا۔ ان تمام موضوعات کا باہمی تعلق اس حقیقت سے ہے کہ پاک چین تعلقات اب بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں پائیداری، منافع، ادارہ جاتی اصلاحات، مقامی شمولیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی مرکزی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔

سی پیک کا پہلا مرحلہ اور دوسرے مرحلے کے تقاضے

سی پیک کے ابتدائی مرحلے کی بنیادی ترجیحات نسبتاً واضح تھیں۔ پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا تھا۔ ملک میں روزانہ کئی کئی گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی تھی۔ بنیادی ڈھانچہ فرسودہ ہو چکا تھا اور چین کو بحیرۂ عرب تک ایک متبادل تجارتی راستے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ توانائی کے منصوبے، شاہراہوں کی تعمیر، گوادر بندرگاہ کی ترقی اور صنعتی زونز کے قیام کو ترجیح دی گئی۔ تاہم 2026 تک پہنچتے پہنچتے یہ واضح ہو گیا ہے کہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اقتصادی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتی۔

کسی بھی اقتصادی راہداری کی کامیابی کا انحصار پانچ بنیادی عوامل پر ہوتا ہے :
۔ پائیدار مالیاتی نظام
۔ مضبوط لاجسٹک نیٹ ورک
۔ مقامی صنعتی ترقی
۔ سیاسی اور سماجی قبولیت
۔ موثر ادارہ جاتی ڈھانچہ
بدقسمتی سے ان میں سے کئی شعبوں میں پاکستان کو اب بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

شاہراہِ قراقرم: ایک سڑک نہیں بلکہ پاک چین تعلقات کی بنیادی شہ رگ

شاہراہِ قراقرم کو عموماً ایک مواصلاتی منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی رابطے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ شاہراہ سنکیانگ کو گلگت بلتستان کے ذریعے پاکستان کے شمالی علاقوں سے جوڑتی ہے اور پھر یہی راستہ پنجاب، سندھ اور بحیرۂ عرب تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 میں شاہراہِ قراقرم کا مسئلہ ایک تعمیراتی منصوبے سے بڑھ کر قومی سلامتی کے مسئلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں شاہراہِ قراقرم کا تقریباً 100 کلومیٹر طویل حصہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اسی وجہ سے ایک نئے متبادل راستے کی تعمیر پر پاکستان اور چین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ تاہم اس منصوبے کا سب سے اہم مسئلہ اس کی مالیاتی ساخت ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ چین اس منصوبے کے لیے مالی وسائل فراہم کرے گا، لیکن 2026 تک سامنے آنے والی معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اس منصوبے کے لیے نئی مالیاتی ذمہ داریوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

یہ صورتِ حال پاکستان کے لیے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے۔ کیا پاکستان کو ہر بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کا انتظار کرنا چاہیے؟ یا پھر بعض منصوبوں کو قومی وسائل سے مکمل کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے؟ پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں میں اب یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ شاہراہِ قراقرم کے متاثرہ حصے کی تعمیر حکومتِ پاکستان کو اپنے وسائل سے مکمل کرنی چاہیے۔

یہ تجویز کئی حوالوں سے قابلِ غور ہے۔ اول، پاکستان پہلے ہی قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ دوم، چین کے ساتھ قرضوں کی تنظیمِ نو کے معاملات ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔ سوم، شاہراہِ قراقرم کی تعمیر میں مزید تاخیر پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ چہارم، مستقبل میں شمالی پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک مستقل خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے اب شاہراہِ قراقرم کو روایتی انداز میں تعمیر کرنے کے بجائے ایک ایسی اقتصادی راہداری میں تبدیل کرنا ہو گا جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

گوادر: بندرگاہ کی تعمیر اور رابطوں کا بحران

گوادر کے بارے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں، وہ ابھی تک مکمل طور پر پوری نہیں ہو سکیں۔ اس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری کی کمی نہیں بلکہ رابطوں کا بحران ہے۔ گوادر کی سب سے بڑی ساختی کمزوری یہ ہے کہ اسے ابھی تک پاکستان کے قومی نقل و حمل کے نظام کے ساتھ مکمل طور پر مربوط نہیں کیا جا سکا۔ خصوصاً دو مسائل انتہائی اہم ہیں :
۔ ایم۔ 8 شاہراہ کی محدود فعالیت
۔ ریلوے رابطوں کا فقدان

گوادر کے حوالے سے سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ بندرگاہ اب بھی اپنی لاجسٹک ضروریات کے لیے بڑی حد تک کراچی پر انحصار کرتی ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گوادر ابھی تک ایک مکمل اقتصادی مرکز میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ اقتصادی جغرافیہ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بندرگاہ کی کامیابی کا انحصار اس کے ہنٹر لینڈ (Hinterland) سے تعلق پر ہوتا ہے۔ ہنٹر لینڈ سے مراد وہ اندرونی علاقے ہیں جن کے ساتھ بندرگاہ اقتصادی طور پر منسلک ہوتی ہے۔

شنگھائی کی بندرگاہ کو چین کے صنعتی علاقوں کے ساتھ ریلوے کے ایک وسیع نظام کے ذریعے مربوط کیا گیا ہے۔ روٹرڈیم پورے یورپ کے ریلوے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔ دبئی کی بندرگاہ کو خلیجی ریاستوں کے ساتھ جدید شاہراہوں کے ذریعے جوڑا گیا ہے۔ اس کے برعکس گوادر کے پاس ابھی تک ایسا کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے۔ گوادر اور کوئٹہ کے درمیان جدید ریلوے رابطہ موجود نہیں۔ ایم۔ 8 شاہراہ ابھی تک اپنی مکمل فعالیت حاصل نہیں کر سکی۔ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی رابطے محدود ہیں۔ بلوچستان کے معدنی علاقوں کو براہِ راست بندرگاہ سے نہیں جوڑا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ گوادر ابھی تک کراچی کا متبادل بننے کے بجائے اس کا معاون مرکز دکھائی دیتا ہے۔ اگر پاکستان واقعی گوادر کو ایک علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے :

۔ ایم۔ 8 شاہراہ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
۔ گوادر اور کوئٹہ کے درمیان ریلوے راہداری تعمیر کی جائے۔
۔ گوادر کو افغانستان اور وسطی ایشیا سے جوڑا جائے۔
۔ معدنیات کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ کوریڈور قائم کیے جائیں۔
۔ خصوصی اقتصادی زونز کو فعال بنایا جائے۔

سینڈک: معدنی وسائل کے معاشی فوائد پر ایک نئی قومی بحث

2026 میں سینڈک پراجیکٹ پہلی مرتبہ ایک خالص اقتصادی اور پارلیمانی بحث کا موضوع بن گیا۔ نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے تناظر میں سینڈک منصوبے سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کے بارے میں تفصیلی معلومات طلب کیں۔ یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت تھی۔ پاکستان میں معدنی وسائل کے حوالے سے ماضی میں زیادہ تر توجہ پیداوار کے اعداد و شمار پر مرکوز رہی، لیکن اب پہلی مرتبہ یہ سوال سامنے آیا ہے کہ معدنی وسائل سے حاصل ہونے والا حقیقی معاشی فائدہ کس حد تک پاکستان کی معیشت میں منتقل ہو رہا ہے۔

یہ سوال صرف سینڈک تک محدود نہیں ہے۔ یہ درحقیقت پاکستان کی پوری معدنی پالیسی کے مستقبل سے متعلق ہے۔ عالمی تجربات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف معدنی وسائل کی موجودگی اقتصادی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے متعدد ممالک معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پائیدار اقتصادی ترقی حاصل نہیں کر سکے۔ اس رجحان کو معاشیات میں Resource Curse کہا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی چیلنج کا سامنا ہے۔ خام معدنیات کی برآمد سے محدود آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ اصل منافع ویلیو ایڈیشن سے حاصل ہوتا ہے۔

اگر پاکستان اپنی معدنی پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے تو اسے خام مال برآمد کرنے والے ملک کے بجائے ایک پراسیسنگ معیشت میں تبدیل ہونا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
۔ مقامی سطح پر ریفائننگ پلانٹس کا قیام
۔ ویلیو ایڈیشن کی صنعت کا فروغ
۔ منافع کی تقسیم کے نظام کا آزادانہ آڈٹ
۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی کو معاہدوں کا لازمی حصہ بنانا
۔ بلوچستان کی مقامی آبادی کو معاشی شراکت دار بنانا

سکیورٹی اور لاجسٹکس: سینڈک کا دوسرا بحران

2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کے باعث سینڈک کے آپریشنز کو خطرات لاحق ہوئے۔ یہ مسئلہ صرف امن و امان تک محدود نہیں ہے۔
معدنی منصوبوں کی کامیابی کے لیے تین عناصر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں :
۔ سکیورٹی
۔ نقل و حمل
۔ مقامی شمولیت
اگر ان تینوں میں سے کسی ایک عنصر میں بھی کمزوری پیدا ہو جائے تو پورا منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کے درمیان حالیہ مشاورت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ پاکستان اب معدنی وسائل کو صرف اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وفاقی، سیاسی اور سماجی مسئلہ بھی سمجھنے لگا ہے۔

قرضوں کی تنظیمِ نو: اصل مسئلہ چینی آئی پی پیز ہیں

پاک چین تعلقات میں قرضوں کی تنظیمِ نو کے بارے میں عمومی تاثر حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ اصل مسئلہ سرکاری قرضے نہیں بلکہ چینی آئی پی پیز ہیں۔ سی پیک کے تحت قائم ہونے والے بجلی کے منصوبوں نے پاکستان کے توانائی کے بحران کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ان منصوبوں کے مالیاتی ماڈل نے ایک نئے بحران کو جنم دیا۔ کیپیسٹی پیمنٹس، ڈالر سے منسلک معاہدے، گردشی قرضے اور بجلی کی تقسیم کے ناقص نظام نے توانائی کے شعبے کو شدید مالی دباؤ کا شکار بنا دیا۔

پاکستان اس وقت چینی آئی پی پیز کے ساتھ تین بنیادی معاملات پر مذاکرات کر رہا ہے:
۔ معاہدوں کی ازسرِ نو تشکیل
۔ قرضوں کی ری پروفائلنگ
۔ واجبات اور سرچارجز کا تصفیہ
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا صرف قرضوں کی مدت میں توسیع سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ جواب واضح طور پر نفی میں ہے۔ گردشی قرضے کی بنیادی وجہ بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ بجلی کی تقسیم کا ناقص نظام ہے۔ اگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں مالی طور پر غیر موثر رہیں گی تو قرضوں کی تنظیمِ نو صرف ایک عارضی حل ثابت ہوگی۔ دوسری جانب چین بھی اس معاملے میں غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری کے معاہدوں کا تحفظ ہے۔ اگر سرمایہ کاروں کو یہ تاثر ملے کہ معاہدوں کو سیاسی یا مالیاتی دباؤ کے تحت تبدیل کیا جا سکتا ہے تو مستقبل کی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو صرف چینی رعایتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

جے۔ 35 اور دفاعی تعاون کا مستقبل

دفاعی تعاون پاک چین تعلقات کا ایک مستقل ستون رہا ہے۔ جے ایف۔ 17 پروگرام نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کی ایک کامیاب مثال قائم کی۔ تاہم جے۔ 35 کے حوالے سے جاری بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دفاعی تعاون اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ مرحلہ صرف جنگی طیاروں کی خریداری کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے اشتراک کا مرحلہ ہے۔
اکیسویں صدی میں جنگی طاقت کا انحصار صرف روایتی ہتھیاروں پر نہیں رہا۔ مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیت، ڈرون ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نظام اور نیٹ ورک پر مبنی جنگی حکمتِ عملی مستقبل کے دفاعی نظام کی بنیاد بن چکے ہیں۔ اگر پاکستان جے۔ 35 پروگرام سے حقیقی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف ایک خریدار کے بجائے ایک تکنیکی شراکت دار بننے کی کوشش کرنی ہوگی۔

نتیجہ: سی پیک 2.0 کی کامیابی کے لیے ایک نئے فکری فریم ورک کی ضرورت

2026 میں پاک چین تعلقات کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعاون کے پورے ماڈل کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ شاہراہِ قراقرم کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں دوبارہ تعمیر کرنا ہو گا۔ گوادر کو کراچی پر انحصار سے نکال کر ایک مربوط اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنا ہو گا۔
سینڈک کے معاشی فوائد کا آزادانہ جائزہ لینا ہو گا۔ معدنی وسائل کے انتظام میں شفافیت پیدا کرنا ہوگی۔ چینی آئی پی پیز کے ساتھ مالیاتی تنازعات کو حل کرنا ہو گا۔ اور دفاعی تعاون کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ مربوط کرنا ہو گا۔

سی پیک کا دوسرا مرحلہ درحقیقت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات، معاشی پائیداری، معدنی خودمختاری، توانائی کی اصلاح، علاقائی رابطوں اور تکنیکی شراکت داری کا مرحلہ ہے۔ آنے والے برسوں میں پاک چین تعلقات کی کامیابی کا تعین سڑکوں، بندرگاہوں اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار سے نہیں ہو گا بلکہ اس بات سے ہو گا کہ آیا دونوں ممالک اپنے تعاون کو ایک ایسے پائیدار ماڈل میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جو اقتصادی طور پر قابلِ عمل، سیاسی طور پر قابلِ قبول اور تزویراتی طور پر موثر ہو۔

یہی وہ بنیادی سوال ہے جو 2026 کے بعد پاک چین تعلقات کی سمت کا تعین کرے گا۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)