بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں پر نادرا کا ’دست شفقت‘

پاکستان میں  شہریوں کی شناخت اور انہیں شناختی کارڈوں کے اجرا کا کام کرنے والے ادار ے نادرا کی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر اعلانات کا مشاہدہ کیا جائے تو لگتا  ہے کہ یہ ادارہ پاکستانی ناقص نظام سے علیحدہ اور  مختلف  ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں کو غیر معمولی مستعدی اور مہارت سے شناخت سے متعلق تمام معلومات و سہولت فراہم کرنے کی سعی و کوشش کررہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے  یہ معاملہ اتنا سادہ اور خوشگوار نہیں ہے۔

عرب ممالک میں مقیم بیشتر پاکستانی چونکہ مقامی شہریت حاصل کرنے کے مجاز نہیں ہوتے ، اس لیے انہیں پاکستانی شہریت کے ساتھ نائکوپ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح  پاکستان سے ہجرت کرکے مغربی ممالک میں آباد ہونے والے بیشتر لوگوں کو چونکہ مقامی شہریت حاصل کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے ، اس لیے انہیں پاکستان اوریجن کارڈ یاپی او سی  کے نام سے  شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ یہ کارڈ 7 سال کی مدت کے لیے جاری ہوتا ہے اور اگر کسی نے دو یا اس سے زیادہ مرتبہ بھی اس کارڈ کی تجدید کرائی ہو تو بھی اسے غیر معینہ مدت تک کے لیے  پی او سی جاری نہیں ہوتا خواہ درخواست دہندہ کی عمر کچھ بھی ہو۔ کم از کم نائکوپ کے معاملہ میں یہ سہولت دستیاب ہے کہ 60 سال سے زیادہ عمر کے پاکستانیوں کو تاحیات شناختی کارڈ جاری ہوجاتا ہے۔

یہ قیاس کیا  جاسکتا ہے کہ نادرا یا حکومت پاکستان  پی او سی کے اجرا کے لیے وصول کی جانے والی فیس  جمع کرنے کے لیے ہر سات سال بعد تجدید کا طریقہ جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ آمدنی کے ایک مستقل ذریعے کو  بحال رکھا جائے۔ تاہم اس بارے میں سادہ اور آسان طریقہ اختیار کرکے مقررہ مدت کے بعد  ایسے  شخص کو ہدایت کی جاسکتی ہے کہ وہ مقررہ فیس جمع کروا دے تاکہ اسے نیا کارڈ جاری ہوسکے۔  بیرن ملک مقیم ان پاکستانیوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا جو اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگرچہ عملی طور سے پی او سی پاکستان میں ویزا فری انٹری کے سوا کسی کام نہیں آتا۔  حالانکہ  دعویٰ کیا جاتا  ہےکہ پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والے کو ووٹ دینے کے علاوہ  تمام حقوق حاصل  ہوتے ہیں۔ لیکن عملی صورت یہ ہے کہ  متعلقہ شخص اس کارڈ کی بنیاد پر موبائل فون  کی سبسکرپشن بھی حاصل نہیں کرسکتا۔

تاہم نادرا نے اس کام کو آسان بنانے کی بجائے ،  ایسے پیچیدہ اور مشکل نظام کا حصہ بنا دیا ہے کہ بیشتر لوگ پی او سی کی تجدید کا سوچ کر ہی گھبرا جاتے ہیں۔ بیرون  ملک قائم متعدد سفارت خانے ’عوام دوستی‘ میں پی او سی کے اجرا و تجدید کی سہولت فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں  لیکن عملی طور سے  یہ سہولت نعروں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ درخواست دہندگان کو دستاویزات کی فراہمی کے  گنجلک اور مشکل گورکھ دھندے میں ڈال دیاجاتا ہے۔ پھر ایک ہی بار تفصیل سے تمام مطلوبہ  دستاویزات کی فہرست دے کر  آسانی پیدا کرنے کی  بجائے ، ایک دستاویز ملنے کے بعد دوسری کا تقاضہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح بعض اوقات تجدید کا مرحلہ کئی ماہ  حتی کہ سالوں تک پھیل جاتا ہے۔ نئے کارڈ  حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے کا تو مذکور ہی کیا۔ ایسے میں بھی کسی کو اسی صورت میں سہولت میسر آسکتی ہے ، اگر نادرا میں اس کا کوئی عزیز کام کرتا ہو یا کوئی  دوست رشتہ دار کسی طاقت ور عہدے پر فائز ہو اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے شناختی کارڈ جاری کرا دے۔ حالانکہ یہ کام کسی سفارش یا رشوت کے بغیر انجام پانا چاہئے کیوں کہ اس سے ملکی سلامتی کے معاملات بھی منسلک ہیں۔  لیکن نادرا کے کارپرداز ان نزاکتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔

اس صورت حال میں مضحکہ خیز طور سے نادرا  آج کل  فیس بک اور سوشل میڈیا پر اپنی کارکردگی  اور عوام دوستی کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اسلام آباد کے نادرا دفتر میں بیٹھے حکام کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے سوا کچھ عزیز نہیں۔ آج ہی یہ اعلان فیس بک پر  جاری ہؤا ہے:’ شہریوں، بالخصوص بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لیے نادرا کا احسن اقدام۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو شناختی کارڈ کی منظوری کے بعد اس کی ترسیل کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بعض  صورتوں میں یہ انتظار سفر، بینکاری، ٹیلی کام یا دیگر ضروری امور کی انجام دہی میں دقت کا باعث بنتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کے مروجہ ڈیجیٹل شناختی قواعد کے تحت اب پاک آئی ڈی موبائل ایپ میں موجود ڈیجیٹل کارڈ اور ڈیجیٹل آئی ڈی کو متعلقہ شناختی دستاویز کے مساوی قانونی حیثیت حاصل ہے۔لہٰذا نادرا نے شناختی کارڈ، نائکوپ یا پاکستان اوریجن کارڈ کی پرنٹنگ مکمل اور ترسیل کی تصدیق ہوتے ہی اس کی ڈیجیٹل صورت پاک آئی ڈی میں فراہم کرنے کی سہولت متعارف کر دی ہے۔ چاہے آپ نے درخواست نادرا مرکز سے دی ہو یا پاک آئی ڈی کے ذریعے، دونوں صورتوں میں یہ سہولت دستیاب ہے۔متعلقہ اداروں کو بھی پاک آئی ڈی میں موجود شناختی کارڈ، بشمول نائکوپ اور پاکستان اوریجن کارڈ  کی ڈیجیٹل صورت اور ڈیجیٹل آئی ڈی کی قانونی حیثیت اور قبولیت کے بارے میں آگاہ کیا جا چکا ہے تاکہ انہیں شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جا سکے‘۔

اس کے برعکس ناروے میں مقیم ایک نارویجئن پاکستانی نثار بھگت کا ذاتی تجربہ بالکل مختلف اور حیران کن حد تک تشویشناک ہے۔  بھگت  کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے اور وہ 50 سال سے ناروے میں مقیم ہیں۔ اپنے اور اپنی اہلیہ کے پی او سی  کی تجدید  کے لیے پیش آنے والی مشکلات کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے   ’کاروان‘ میں ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون میں ان کا کہنا ہے کہ : بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے نادرا کی آن لائن سروس کا تجربہ انتہائی مایوس کن اور اذیت ناک ہے۔ پاکستان اوریجن کارڈ کی تجدید کے لیے آن لائن درخواست دینا ہی اتنا پیچیدہ ہے کہ ایک آئی ٹی ایکسپرٹ کی مدد کے باوجود درخواست مکمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میری اپنی درخواست اگرچہ منظور ہوئی اور 170 ڈالر فیس ادا کرنے کے بعد کارڈ تقریباً ایک ماہ میں ڈی ایچ ایل کے ذریعے مل گیا، لیکن میری بیوی کے کارڈ کی تجدید نے نادرا کے نظام کی خامیوں کو مزید نمایاں کر دیا۔ آن لائن درخواست ایک مرحلے پر رک گئی۔ متعدد بار نادرا سے رابطہ، شکایت درج کرانے اور تقریباً 1500 نارویجن کرون فون پر خرچ کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا۔

اوسلو میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا تو تین ماہ سے پہلے اپوائنٹمنٹ دستیاب نہیں تھی۔ بالآخر اپوائنٹمنٹ ملی، مگر وہاں بھی نادرا کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا اور وزارتِ خارجہ کے ذریعے درخواست آگے بھیجی گئی۔ اس کے بعد نادرا نے بار بار ایسی دستاویزات طلب کیں جو کئی دہائیاں پہلے جمع کرائی جا چکی تھیں۔ یہاں تک کہ مرحوم والد اور   والدہ کا شناختی کارڈ بھی مانگا گیا جن کا انتقال 1966 میں ہو چکا تھا۔ حالانکہ اس وقت شناختی کارڈ کا نظام ہی موجود نہیں تھا۔ آخرکار ایک نادرا افسر نے ذاتی دلچسپی لے کر واٹس ایپ کے ذریعے درخواست مکمل کروائی۔ اس افسر کا رویہ قابلِ تعریف تھا  لیکن ان سے رابطہ ایک ذاتی تعلق کی بنا پر قائم ہوسکا تھا۔ درخواست منظور ہونے کے بعد مزید 215 ڈالر فیس ادا کی گئی۔ نادرا نے یقین دہانی کرائی کہ کارڈ بھیجا جائے گا۔مگر سات دن بعد معلوم ہوا کہ کارڈ  ناروے بھیجنے کی بجائے کراچی میں مقامی پتے پر پہنچادیا گیا ہے۔ جبکہ کارڈ کا مالک اوسلو میں موجود  بیٹھا ہے‘۔

ناروے میں مقیم ایک سابقہ پاکستانی شہری کا یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ نادرا  تمام تر دعوؤں کے باوجود مناسب سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ آن لائن اپلی کیشن کو پیچیدہ اور عام  صارف کے لیے نہایت مشکل بنایا گیا ہے حالانکہ بیشتر درخواست دہندگان عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر عبور نہیں رکھتے۔ پھر ایک بار جمع کرائی ہوئی دستاویزات کو تجدید کے وقت دوبارہ طلب کرنا اور غلط مطالبوں پر اصرار سے معاملات مزید دگرگوں ہوجاتے ہیں۔ نادرا اور دیگر ذمہ دار حکمرانوں کو ان بنیادی  معاملات کو اہمیت دینی چاہئے۔ پی او سی کی تجدید کا سلسلہ جاری رکھنے کی بجائے  اسے تاحیات کا درجہ دیا جائے۔ البتہ ڈرائیونگ لائسنس کی طرح  ایک خاص مدت کے بعد معمولی فیس ضرور وصول کی جاسکتی ہے۔

بیرون ملک پاکستانی ، ملک کو زرمبادلہ فراہم کرنے والا اہم ترین گروہ ہے۔ زرد مبادلہ کی مد میں ترسیلات زر حکومت پاکستان کے لیے سب سے   ضروری اور قابل اعتبار ذریعہ  ہے۔ یہ لوگ ملک کے لیے خدمت انجام دیتے ہوئے کوئی خاص اجر  یا سہولت بھی طلب نہیں کرتے۔ لیکن انہیں احترام دینے کی پالیسی اختیار کرنا اہم ہے۔ پاکستانی بیوروکریسی میں ان لوگوں کو ذلیل کرکے پاکستانی نظام کے بارے میں شبہات اور  منفی رجحانات کو تقویت دی جارہی ہے۔ حالانکہ چند  بنیادی تبدیلیوں سے اسے خوشگور تجربہ بنایا جاسکتا ہے۔