قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

  • جمعہ 28 / اگست / 2026

قومی اسمبلی سانحہ پمز پر کمیٹی بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جبکہ سینیٹ میں بھی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے تحریک منظور کر لی گئی۔ سینیٹ میں سینیٹر شیری رحمان نے سانحہ پمز پر سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے لیے تحریک پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم عوام کے نوکر ہیں، عوام کے مسائل پر بات کرنا ہی ہمارا کام ہے۔ سانحہ پمز میں بچوں کے جاں بحق ہونے کا معاملہ دبانا نہیں چاہئے، کیا کبھی کسی نے اے سی سے چنگاری نکلتی دیکھی ہے؟ مسئلہ پیسوں کا نہیں، گورننس کا ہے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ایک قانون بنایا جائے کہ سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ہو، کوئی جج ہو، کوئی بیوروکریٹ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی ہونی چاہئے، اس پابندی کے بعد مہینوں میں سرکاری ہسپتالوں کا حال بہترین ہو گا، جو سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہ کرائے وہ نوکری سے جائے۔

دوسری طرف قومی اسمبلی میں قرارداد چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پمز میں آتشزدگی کے حالیہ واقعہ میں معصوم بچوں کی جانوں کے المناک نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ ایوان اس سانحے کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور اس کا باعث بننے والی لاپرواہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس لاپرواہی کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق سنگین کارروائی عمل میں لائی جائے۔

حکومت سے ہسپتالوں، خاص طور پر ان کی نرسری اور بچوں کے وارڈز میں، فائر سیفٹی کے سخت انتظامات اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے بہترین انتظامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں ایوان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک بھی منظور کرلی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی اس پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی تجویز دی۔

اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے میں پمز سانحے پر شدید بحث ہوئی جس دوران سانحے کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے سانحات کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس دوران ارکانِ اسمبلی نے ہسپتال میں حفاظتی انتظامات اور سانحے سے نمٹنے کے لیے حکومتی ردعمل پر سوالات بھی اٹھائے۔