ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم انتقال کر گئے

  • جمعہ 28 / اگست / 2026

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ناروے کے شاہی دربار نے جمعہ 28 اگست کو ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بادشاہ ہیرالڈ نے اوسلو کے رکس ہسپتال میں صبح 6 بج کر 35 منٹ پر آخری سانس لی۔

بادشاہ ہیرالڈ پنجم 21 فروری 1937 کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ ناروے کے سابق بادشاہ اولاف پنجم کے صاحبزادے تھے اور 1991 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد تخت پر فائز ہوئے۔ تقریباً 35 برس تک وہ ناروے کے سربراہِ مملکت رہے۔

بادشاہ ہیرالڈ ناروے میں اپنی سادگی، عوام دوستی اور غیر سیاسی طرزِ کردار کے باعث غیر معمولی مقبولیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے طویل دورِ حکومت میں ناروے کی آئینی بادشاہت کے سربراہ کی حیثیت سے قومی یکجہتی اور استحکام کی علامت کا کردار ادا کیا۔

گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی۔ شاہی دربار نے 27 اگست کو ان کی حالت کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا تھا۔ اس سے قبل انہیں خون میں بیکٹیریا کے انفیکشن کے باعث طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی تھی۔

بادشاہ ہیرالڈ کے انتقال کے بعد ناروے کی بادشاہت کا اگلا مرحلہ ان کے بڑے صاحبزادے ہوکن کی سربراہی میں شروع ہوگا۔ ہوکن حالیہ دنوں میں اپنے والد کی علالت کے دوران قائم مقام سربراہِ مملکت کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ تاہم شاہ ہیرالڈ کے انتقال کے ساتھ ہی وہ بادشاہ کے منصب پر فائز ہوگئے۔

بادشاہ ہیرالڈ پنجم کا انتقال ناروے کی جدید تاریخ میں ایک اہم باب کے اختتام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسی شخصیت رخصت ہوگئی ہے جو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ناروے کی قومی شناخت، تسلسل اور اتحاد کی علامت بنی رہی۔