ناروے کے آنجہانی بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی مقبولیت
- تحریر خالد محمود اوسلو
- جمعہ 28 / اگست / 2026
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں راہ عدم کے مسافر ہوئے۔ بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی وفات پر پورا ناروے غمگین ہے اور ہر طرف سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے۔
ہیرالڈ پنجم ناروے کے بادشاہ اور تا حیات سربراہ مملکت تھے۔ لہذا ان کی وفات پر سوگ اور غم ایک فطری سا عمل تو ہے لیکن بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی وفات پر نارویجن قوم کا غم ایک سربراہ کی وفات کا غم نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے چلے جانے کا غم ہے جو ناروے کا حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ ناروے کے ہر باشندے کے دل پر بھی حکمرانی کرتا تھا۔ یہ حکمرانی اس کی ریاستی طاقت یا پھر سیاسی شہرت کے مرہون منت نہ تھی بلکہ شاہ ہیرالڈ پنجم کی ذات سے پھوٹنے والی حرارت انسانیت تھی جسے ناروے کا ہر چھوٹا، بڑا ،بوڑھا و جوان مرد و زن محسوس کرتا تھا۔ اور جس کی وجہ سے ناروے کا ہر مکین اس بادشاہ کا دلدادہ تھا ۔
سترہ جنوری 1991 میں اپنے والد کی وفات پر تخت نشین ہونے والے شاہ ہیرالڈ نے اپنی تمام زندگی اور حکمرانی کے چھتیس سالوں میں اپنے عوام میں اس قدر محبتیں بانٹیں اور پوری قوم کی ہر چھوٹی بڑی خوشی اور غم میں ایسے شریک رہے کہ ہر کوئی انہیں اپنے گھر کا فرد سمجھتا تھا۔ لہذا بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی وفات پر ہر نارویجن غم میں ڈوبا نظر آ رہا ہے، ہر آنکھ اشک بار ہے۔ بادشاہ ہیرالڈ پنجم بھی ناروے کے ہر بادشاہ کی طرح غیر سیاسی حکمران تھے لیکن ان کی ذات میں قوم کو متحد رکھنے کی انوکھی ادائیں جھلکتی تھیں۔
بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے 2016 میں شاہی محل کے باغ میں کہے گئے الفاظ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے ہیں جو آج کے ناروے کے کثیر المذہبی اور کثیرالثقافتی معاشرہ پر مہر ثبت کرتے ہیں۔ ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’میرے ناروے میں مقیم نارویجن شہریوں میں سے کوئی خدا پر ایمان رکھتا ہے، تو کوئی اللہ پر اور کوئی کائنات پر یقین رکھتا ہے تو کوئی خالق کا منکر ہے لیکن یہ سب میرے ناروے کے شہری ہیں‘۔ بادشاہ ہارل پنجم نے اپنے الفاظ سے یہ واضح کرنا چاہا تھا کہ کسی کا عقیدہ، مذہب اور ایمان اس کے چھوٹا بڑا یا اچھا بُرا ہونے کا میعار نہیں۔ بلکہ اس ملک کے اندر ہر شہری کو آزادی ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور مذہب اور جسمانی رجحان کے مطابق قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے باوقار زندگی بسر کر نے کا حق رکھتاہے۔ ہر کسی کا عمل اس کے مقام کا تعین کرتا ہے نہ کہ رنگ و نسل یا عقیدہ۔ لہذا یہاں ہم سب کو اچھے شہری بن کر رہنے کی مکمل آزادی ہے۔
گو بادشاہ کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں لیکن بادشاہ نے یہ پیغام دیا تھا کہ کوئی اقلیت ہو یا اکثریت سب کو مذہب کی آزادی ہے۔ شاہ ہیرالڈ پنجم ملک میں مختلف سرگرمیوں میں شریک ہو کر اپنے انداز سے قوم کے اتحاد و اتفاق کا موجب بنتے رہتے تھے۔ وہ اپنے پیشروؤں کی طرح ناروے کی ثقافتی اور کھیل کی سرگرمیوں میں موجود ہوتے۔ وہ کسی ناگہانی آفت کے رو پزیر ہونے پرجلد از جلد جائے حادثہ پر پہنچ کر عوام کے غم میں شریک ہوتے اور مشکل کی گھڑی میں قوم کا حوصلہ بڑھاتے اور اشک جوئی کرتے۔ اسی طرح جب کوئی بھی چھوٹی بڑی خوشی ہوتی تو بادشاہ خود یا پھر اپنے خاندان کی شمولیت کو یقینی بناتے اور عوامی انداز میں خوشی منانے کے عمل کا حصہ بنتے۔
اسی طرح بادشاہ کی زندگی کا یہ معمول تھا کہ وہ سال کے دوران اکثر ناروے کے دوردراز علاقوں اور خاص کر دیہی علاقوں، قصبوں اور گاؤں میں سرکاری دوروں پہ جا کر عوام میں گھل مل جاتے اور خاص کر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتے۔ 2021 میں جب ناروے میں پاکستانی تارکین وطن کی آمد کی پچاس سالہ جوبلی کو اوسلو کے سٹی ہال میں منایا گیا تو بادشاہ ہیرالڈ پنجم صحت کی خرابی کے باوجود بیساکھیوں پر چل کر بنفس نفیس خود شریک ہوئے۔ اُن کا اپنے عوام سے جُڑے رہنے کا یہ منفرد انداز ہی ہے، جس کی وجہ سے آج ناروے میں ہر آنکھ نم ہے۔ شاہی محل ہی نہیں بلکہ ناروے کا ہر خاندان سوگوار ہے اور ہر گھر میں بادشاہ کی وفات پر صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ 89 سالہ بادشاہ ہیرالڈ پنجم جدید ناروے کے تیسرے بادشاہ ہیں اس سے پہلے ان کے والد اولاو پنجم چونتیس سال حکمران رہے اور اس سے پہلے ان کے دادا بادشاہ ہوکن ہفتم باون سال تک ناروے کے حکمران رہے جس میں دوسری جنگ عظیم کے دوران پانچ سالہ جبری جلا وطنی بھی شامل ہے۔
آنجہانی بادشاہ ہیرالڈ پنجم ایک ہر دلعزیز اور مقبول سربراہ ہونے کے علاوہ یورپ میں پہلے بادشاہ تھے جو بحثیت ولی عہد شاہی قواعد و ضوابط سے باغی ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ کیونکہ اُنہوں نے پرانی روایات کے برعکس کسی شاہی خاندان کی لڑکی کی بجائے ناروے کی ایک عام لڑکی کو اپنی شریک حیات کے طور پر چُنا تھا۔ 1968 میں ناروے کی موجودہ ملکہ سونیا سے شادی کرنے کے لیے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کو نو سال انتظار کرنا پڑا کیونکہ اس وقت رائج ضوابط کے مطابق شاہی خاندان کے لڑکے اور خاص کر مستقبل کے تاجدار ہمیشہ کسی دوسرے شاہی خاندان یا کسی نواب خاندان کی لڑکی سے ہی شادی کر سکتے تھے۔ لیکن ہیرالڈ پنجم ایک عام شہری لڑکی سونیا ہارلسن کی محبت کے اسیر ہو کر بضد تھے کہ اگر شادی کریں گے تو سونیا سے ہی کریں گے یا پھر زندگی کنوارے رہیں گے۔ اُن کی ضد کے آگے بالآخر اُن کے والد اور بادشاہ نے نارویجن پارلیمنٹ اور حکومت کی مشاورت کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ اور ہیرالڈ پنجم کو نو سال کے طویل انتظار کے بعد شادی کی اجازت دے دی اور اس طرح یورپ میں شاہی خاندانوں میں غیر شاہی خاندانوں کے ساتھ شادیوں کی راہ ہموار ہوئی۔
ناروے کے موجودہ شاہی خاندان کی ناروے میں آئینی بادشاہت کی ابتدا 1905 میں ہوئی جب ناروے سویڈن سے آزادی حا صل کرتے ہوئے ایک خود مختار ریاست بنا۔ آزادی کے وقت ناروے نے اپنا آئین ترتیب دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ ناروے کو ایک صدارتی نظام حکومت کی بجائے سویڈن اور ڈنمارک کی طرح ایک آئینی بادشاہت کے نظام کے تحت منظم کیا جائے گا جہاں تمام اختیارات عوام کی منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہوں گے۔ آئینی سربراہ مملکت بادشاہ ہوگا جس کے پاس کوئی سیاسی یا انتظامی اختیارات نہیں ہوں گے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملک میں ایک ایسی اعلی شخصیت ہونی چاہیے جو سیاسی نظریات اور سیاسی کشمکش سے مبرا ہو اور جس پر پوری قوم کا اتفاق ہو۔ جب نارویجن پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کر لیا تو پھر اس وقت ڈنمارک کے ایک شہزادہ کارل کو باضابطہ دعوت دی گئی کہ وہ ناروے کا بادشاہ بنے۔ پرنس کارل نے ناروے کی طرف سے بادشاہت کی پیشکش کو قبول کرنے کے لیے یہ شرط رکھی کے اس کے لیے ناروے میں ایک ریفرنڈم کروایا جائے اور اگر اکثریت میرے حق میں ووٹ دے تو میں بادشاہ بننے کو تیار ہوں۔ 1905 میں نومبر کی بارہ اور تیرہ تاریخ کو یہ ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں %79 نارویجن عوام نے آئینی بادشاہت کے حق میں ووٹ دیا۔
ناروے کے شاہی خاندان کا شجرہ نسب جرمنی کے علاقہ شلیسویگ ہولسٹین گلیکنبرگ کے نوابین سے ملتا ہے اور جن کی رشتہ داری برطانیہ، ڈنمارک، سویڈن یونان اور سابقہ روس کے شاہی خاندان سے ہے۔